سوال
آج سے 15 سال قبل میاں بیوی میں جھگڑا ہوا شوہر نے دو دفعہ منہ سے طلاق دی ہم نے فتویٰ لیا تواس میں رجوع کا بتایا گیا تھا ہم نے رجوع کرلیا جس کے بعد ساتھ رہتے رہے ۔ پھر 15 سال بعد مرد نے دوسری شادی کرلی ۔ پہلی بیوی نے شوہر کو مجبور کیا اور کہا کہ مجھے طلاق دے دو تو خاوند نے کہا میں آپکو آزاد کرتا ہوں ۔ کیا اس طرح طلاق ہوجائے گی یا نہیں ؟ اس مسئلے کو حل فر مادیں۔
سائلہ:آمنہ بی بی :خوشاب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
برتقدیرِ صدقِ سائلہ یعنی اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ عورت کو ان الفاظ '' میں آپکو آزاد کرتا ہوں'' سے طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے۔ اس سے قبل دو طلاقیں ہوچکی تھی اب شوہر کو محض ایک کا حق تھا اور اس نے وہ بھی استعمال کرلیا لہذا اب عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔عورت پر عدت لازم ہے اور اب رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں مگر یہ کہ حلالہ شرعیہ ہو۔
مذکورہ الفاظ سے طلاق صریح واقع ہوگی کیونکہ میں نے تمہیں آزاد کیا اور اس جیسے الفاظ فی زمانہ ملحق بالصریح ہیں، اس سلسلے میں فقیہ العصر ، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اپنے فتوٰی بنام ''طلاق کےالفاظ صریح وکنایہ پرایک مبسوط فتوى'' میں فرماتے ہیں:ہمارے نزدیک اردو زبان کے الفاظ '' میں نے تمہیں فارغ کیا '' یا ''تم میری طرف سے فارغ ہو'' کی وضع طلاق کے لئے نہیں ہے اس لئے فقہاء کرام نے انہیں کنایہ شمار فرمایا تھا۔لیکن بحکمِ مقدمہ خامسہ پاکستان کے اکثر شہروں میں یہ الفاظ طلاق کے لئے کثیر الاستعمال ہونے اور عرف و عادت کی وجہ سے ملحق بالصریح ہیں ۔کیونکہ آک کل جب بھی کوئی شخص یہ الفاظ بولتا ہے تو بغیر کسی قرینہ خارجیہ کے متبادر الی الفہم طلاق کے معنٰی ہی ہوتے ہیں ۔لہذا بحکمِ مقدمہ اولٰی ان الفاظ سے ہر حال میں بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی۔اور ایک سے زائد بار بولنے کی صورت میں پہلے والی دوسری کو لاحق ہو گی۔اور تین بار بولا تو طلاق بائنہ مغلظہ وقوع پذیر ہوگی۔
اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں:اسی طرح اردو زبان کے الفاظ '' میں نے تمہیں آزاد کیا '' اور'' تم میری طرف سے آزاد ہو'' سے بھی طلاقِ رجعی ہی واقع ہوگی، کیونکہ یہ الفاظ بھی موجودہ دور میں طلاق کے لئے صریح ہیں۔(ماخوذ از وسیم الفتاوٰی، حوالہ نمبر 7382 غیر مطبوعہ)
تین طلاقیں دینے کے بعد عورت حرام ہوجاتی ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہے:’’اذاقال لامرأتہ’’ انت طالق وطالق وطالق‘‘ ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا۔ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا ''تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے''اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ۔[ فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت]
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولاً دو طلاق کا ذکر کرکے فرمایا کہ اب بھی خاوندکو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اب ان کے درمیان حرمت مغلظہ قائم ہوچکی ہے لہذا بغیر حلالہ شرعیہ کے واپسی ناممکن ہے ۔
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ۔ترجمہ کنز الایمان :یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔[البقرۃ :آیت 229]
پھر اسکے بعد مزید فرمایا:فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ۔ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔[البقرۃ :آیت:230]
عدت کے احکام:
طلاق یافتہ کی عدت تین حیض (اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے)اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرہ: 228)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق، 04)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 رجب المرجب 1442 ھ/17 فروری 2021 ء