musalahat aur taqseem tarkah o hukum
سوال
میرے والد نے دو شادی کی تھی، پہلی شادی سے ایک بیٹی تھی، اور دوسری شادی سے ہم تین بھائی اور ایک بہن ہے، ہم جس مکان میں رہتے تھے وپ ہماری والدہ کے والد نے یعنی ہمارے نانا نے لے کر ہماری والدہ کو بطور ہبہ د یا تھا اور قبضہ بھی دیاتھا، پھر پہلے والد کا انتقال ہوا اسکے بعد والدہ کا، اور ان دونوں کے والدین کا زندگی میں انتقال ہوگیا تھا، والدین کے انتقال کے بعد بڑے بھائی نے اس مکان کی 2012 میں ویلیو لگوائی جو کہ تقریبا تیس لاکھ قیمت لگی ویلیو لگانے کے بعد ہمارے بڑے بھائی نے ہم دونوں بھائیوں سے کہا کہ مجھے 20 لاکھ دے دو، یا 10 لاکھ فی کس آپ لے لو، جب کہ ہماری شادیوں اور مکان پر پیسہ بڑے بھائی نے لگایا تھا کیوں کہ ان کے حالات بہتر تھے بہن بھی شادی شدہ تھی ہمارے حالات بہتر نہیں تھے بڑے بھائی نے کہا میں تم کو 10 لاکھ فی کس دیتا ہوں اور بہنوں کا حق جب ہمارے پاس یعنی میری فیملی کے پاس ہوگا تو اپنی طرف سے ادا کریں گے۔ لیکن اس وقت بہن کا حصہ متعین نہیں کیاگیا۔ اور بھائی نے کہا کہ والدہ کا مکان میں رکھ لیتا ہوں، ہم نے یہ بات مان لی اور دونوں بھائیوں نے 10 لاکھ فی کس لے گئے، بھائی نے مکان رکھا لیا اور پھر ہم الگ الگ شفٹ ہو گئے۔ اس کے بعد بڑے بھائی نے دو مکان 2021 میں 72 کھ میں فروخت کیا۔ اس وقت ہم بہنوں کا حصہ نہیں دے تھے، 2021کے حساب سے بھائی کو جو، قم ملی اس میں سے اس نے بہن کو حصہ دیا۔
1:اب یہ معلوم کرتا ہے کہ ہم یعنی باقی دونوں بھائی جنہوں نے بہن کو اب تک حصہ نہیں دیا ہے ان پر بہنوں کو حصہ لازم ہے یا نہیں ؟ اگر لازم ہے تو 2012 کے حساب سے دیں گے جس وقت ہم نے بذات خود حصہ لیا تھا، یا 2021 کے حساب سے دیں گے جس وقت بڑے بھائی نے مکان فروخت کر کے دیا ہے نیز بہن کو یا حصہ دینے کی صورت نقد کیش دینا ہو گا یااپنی آسانی کے اعتبار سے تھوڑا تھوڑا کر کے بھی دے سکتے ہیں ؟
2: سوتیلی بہن کا حصہ ہو گایا نہیں کیوں کہ ہمارے نانا نے دو مکان ہماری والدہ کو دیا تھا؟
سائل:شہزاد اکبر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ جس وقت مکان کی ویلیو لگواکر تقسیم کی گئی اس وقت کی رقم کے اعتبار سے ان دو بھائیوں میں سے ہر ایک کا شرعی اعتبار سے مقرر کردہ حصے کے مطابق 30 لاکھ میں سے 857143روپے بنتے تھے جبکہ انہوں نے 10، 10 لاکھ لئے جو اس وقت کے اعتبار سے شرعی حصے سے زائد ہیں۔ البتہ دوسرے بھائی نے جب یہ کہا کہ بہن کا حصہ ادا کردے گا تو گویا اس نے
دونوں بھائیوں سے بطورِ مصالحت انکا حصہ خرید لیا اور بہن کے مکمل حصے کی ادائیگی اپنے ذمے لے لی لہذا اب اس بھائی پر ہی بہن کے حصے کی ادائیگی لازم ہے ۔جبکہ بقیہ دو بھائیوں کے ذمے کچھ لازم نہیں۔
رہا یہ مسئلہ کہ بہن کا حصہ کس اعتبار سے ہوگا تو اسکا جواب یہ ہے کہ بہن کو موجودہ مارکیٹ ویلیو (2021)کےاعتبار سے حصہ دینا لازم ہوگا۔ جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل 72 لاکھ میں سے ساتواں حصہ بہن کو بطورِ وراثت ملے گا جوکہ 1028571 روپے بنتے ہیں۔ کیونکہ ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ہر بیٹے کا حصہ بیٹے سے دگنا ہوتا ہے جیساکہ سورۃ النساء میں مذکور ہے لہذا کل وراثت کے 7 حصے ہیں ہر بھائی کو 2 حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔
ہندیہ میں ہے: إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ۔ترجمہ: اگر ترکہ ورثاء کے درمیان مشترک تھا اور انہوں نے کچھ رقم دے کر کسی ایک وارث کو اس سے نکال دیا تو یہ درست ہے، خواہ وہ ترکہ پلاٹ ہو یا دیگر سامان ، تھوڑاہو یا زیادہ،کیونکہ یہ جنس کی خلاف جنس کے ساتھ بیع ہے اس لیے مساوات شرط نہیں ۔(فتاوٰی ہندیہ، کتاب الصلح، باب خامس، جلد 4 ص 268)
ہدایہ میں ہے:ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور۔ترجمہ: دوشریکوں میں سے ایک کو دوسرے شیک کو اپنا حصہ بیچنا تمام صورتوں میں جائز ہے۔( ہدایہ کتاب الشرکۃ جلد 3ص5)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَإِنْ بَاعَ نَصِيبَهُ مِنْ شَرِيكِهِ جَازَ كَيْفَمَا كَانَ لِوِلَايَتِهِ عَلَى مَالِهِ۔ترجمہ:اور اگر اپنے شریک کو اپنا حصہ بیچاتو یہ جائز ہے خواہ کیسے ہی بیچے کیونکہ اسکو اپنے مال پر ولایت حاصل ہے۔( تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،جلد 3 ص 313)
2: سوتیلی بہن کا اس جائیداد میں کچھ حصہ نہیں ہے کیونکہ یہ جائیداد والدکی نہیں بلکہ والدہ کی ہے اور والدہ سے اس سوتیلی بہن کا ایسا کوئی تعلق نہیں کہ جس کے سبب یہ انکی وارثہ قرار پائے ، لہذا اسکا شرعا اس ترکہ میں کچھ حق نہیں البتہ بقیہ بہن بھائی اپنی طرف سے باہمی رضامندی سے کچھ دینا چاہیں تو حرج نہیں، بلکہ مستحسن ہے کہ یہ نیکی ہے بلکہ صلہ رحمی ہے جو افضل نیکیوں میں سے ہے۔ قال اللہ تعالٰی ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔ ترجمہ نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہی ہے۔(الرحمان: 60)
وراثت کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت (یعنی رشتہ داری)ہے جیساکہ الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:أما أسباب الإرث المتفق عليها فهي ثلاثة: وهي القرابة، والزوجية، والوَلاء۔ترجمہ:وراثت کے تین متفق علیہ اسباب ہیں۔1:قرابت،2:زوجیت،3:ولاء۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ ،جلد 10 ص 377)
اسی طرح الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: أَسْبَابُ الإْرْثِ أَرْبَعَةٌ، ثَلاَثَةٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهَا بَيْنَ الأْئِمَّةِ الأْرْبَعَةِ، وَالرَّابِعُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.فَالثَّلاَثَةُ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهَا: النِّكَاحُ، وَالْوَلاَءُ، وَالْقَرَابَةُ،ترجمہ:ائمہ اربعہ کے درمیان وراثت کے متفق علیہ اسباب تین ہیں ۔ایک مختلف فیہ ہے ۔ متفق علیہ یہ تین ہیں۔1:نکاح ،2: ولاء،3:قرابت۔(الموسوعۃ الفقہیہ جلد 3 ص 22)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 رجب المرجب 1445ھ/ 16 جنوری 2024 ء