محض فائل نام لینے پر ملکیت کا حکم

    mahz file naam lene par milkiyat ka hukm

    تاریخ: 1 اگست، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 1688

    سوال

    میرے ماموں نے ہم دونوں اور میری امی اور خالاؤں کے نام پر کچھ پراپرٹی فائل لی تھی ہمیں کوئی نہیں پتہ کہ یہ انویسٹمنت کے لیے لیں یا ہمارے لیے ویسے ان کی عادت تھی کہ پراپرٹی وغیرہ اپنے نام پر نہیں لیتے دوسروں کے نام پر لیتے رہتے تھے۔ لیکن ایک لاہور کی فائل تھی پلاٹ کی میری امی کے نام، اس کا ماموں نے کہا تھا یہ آپ کا پلاٹ ہے۔ اور کاتھیاوار سوسائٹی کی فائل میرے اور میری بیٹی کے نام پر ہے، پیسے ماموں نے لگائے تھے، انہوں نے کچھ کہا نہیں تھا کہ یہ ہماری ہے یا انویسٹمنٹ کے لیے، ہمیں اس بارے کوئی علم نہیں۔ اس کے علاوہ آنٹی کے نام پر جو پراپرٹی کی فائلیں ہیں، اس کا کیا کریں؟ اس کی بھی انویسٹمنٹ ماموں نے کی تھی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ آپ کے ماموں نے جو لاہور والی فائل تھی، وہ آپ کی والدہ کے نام کی اور واضح طور پر ان سے کہا کہ: ’’یہ پلاٹ آپ کا ہے۔‘‘ یہ ہبہ کے الفاظ ہیں۔ تاہم ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے صرف الفاظ کافی نہیں ہوتے، بلکہ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا جائے) کا قبضہ بھی ضروری ہوتا ہے، خواہ قبضہ حقیقی ہو یا حکمی۔موجودہ عرف کی بنا پر ہمارے نزدیک رجسٹرار کے ہاں مکان وغیرہ اعلانیہ طور پر رجسٹرڈ کرانےکو قبضہ حکمی تسلیم کیا جاتا ہے۔ چونکہ آپ کی والدہ کے نام صرف فائل کی گئی، جبکہ اس کی باقاعدہ قانونی رجسٹری نہیں کروائی گئی، لہٰذا قبضہ ثابت نہ ہوا، جس کی وجہ سے ہبہ بھی تام نہ ہوا۔لہٰذا مذکورہ جائیداد بدستور آپ کے ماموں ہی کی ملکیت میں ہے۔

    اور کاتھیاوار سوسائٹی کی فائل کے بارے میں آپ کے ماموں نے صراحتاً کچھ نہیں کہا، اور رقم بھی انہوں نے خود لگائی تھی۔ نیز چونکہ ان کی یہ عادت معروف تھی کہ وہ دوسروں کے نام پر پراپرٹی وغیرہ خریدتے تھے، اس لیے محض آپ کے اور آپ کی بیٹی کے نام پر فائل ہونے سے آپ اس کی مالک نہیں بنیں گی، بلکہ وہ بدستور انہی کی ملکیت میں شمار ہوگی۔اور آنٹی کے نام پر جو فائلیں موجود ہیں، ان کا حکم بھی کاتھیاوار سوسائٹی کی فائل کی طرح ہے کہ ماموں نے ان کے نام پر انویسٹمنٹ کی تھی، اور کسی بھی قسم کا ہبہ نہیں کیا تھا، اور نہ ہی کوئی ایسے الفاظ بولے جن سے ہبہ ثابت ہوتا ہو۔ لہٰذا یہ فائلیں بھی ماموں ہی کی ملکیت شمار ہوں گی۔

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ آپ کے ماموں نے جو لاہور والی فائل تھی، وہ آپ کی والدہ کے نام کی اور واضح طور پر ان سے کہا کہ: ’’یہ پلاٹ آپ کا ہے۔‘‘ یہ ہبہ کے الفاظ ہیں۔ تاہم ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے صرف الفاظ کافی نہیں ہوتے، بلکہ موہوب لہٰ (جس کو ہبہ کیا جائے) کا قبضہ بھی ضروری ہوتا ہے، خواہ قبضہ حقیقی ہو یا حکمی۔ موجودہ عرف کی بنا پر ہمارے نزدیک رجسٹرار کے ہاں مکان وغیرہ اعلانیہ طور پر رجسٹرڈ کرانے کو قبضۂ حکمی تسلیم کیا جاتا ہے۔ چونکہ آپ کی والدہ کے نام صرف فائل کی گئی، جبکہ اس کی باقاعدہ قانونی رجسٹری نہیں کروائی گئی، لہٰذا قبضہ ثابت نہ ہوا، جس کی وجہ سے ہبہ بھی تام نہ ہوا۔ لہٰذا مذکورہ جائیداد بدستور آپ کے ماموں ہی کی ملکیت میں شمار ہوگی ۔

    اور کاتھیاوار سوسائٹی کی فائل کے بارے میں آپ کے ماموں نے صراحتاً کچھ نہیں کہا، اور رقم بھی انہوں نے خود لگائی تھی۔ نیز چونکہ ان کی یہ عادت معروف تھی کہ وہ دوسروں کے نام پر پراپرٹی وغیرہ خریدتے تھے، اس لیے محض آپ کے اور آپ کی بیٹی کے نام پر فائل ہونے سے آپ اس کی مالک نہیں بنیں گی، بلکہ وہ بدستور انہی کی ملکیت میں شمار ہوگی۔اور آنٹی کے نام پر جو فائلیں موجود ہیں، ان کا حکم بھی کاتھیاوار سوسائٹی کی فائل کی طرح ہے کہ ماموں نے ان کے نام پر انویسٹمنٹ کی تھی، اور کسی بھی قسم کا ہبہ نہیں کیا تھا، اور نہ ہی کوئی ایسے الفاظ بولے تھے جن سے ہبہ ثابت ہوتا ہو۔ لہٰذا یہ فائلیں بھی ماموں ہی کی ملکیت شمار ہوں گی۔

    دلائل و جزئیات :

    یہ چیز تماری ہے یہ ہبہ کے الفاظ ہیں اس سے ہبہ ہوجاتا ہے اس بارے 'الاصل 'میں ہے :’’ أرأيت إن قال: هي لك فاقبضها، هل تكون هبة؟ قال: نعم۔ترجمہ : کیا آپ کی رائے میں اگر کوئی شخص (کسی چیز کے متعلق) کہے کہ 'یہ تمہاری ہے، پس اس پر قبضہ کر لو' تو کیا یہ ہبہ ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔(الاصل ، باب النحلى والعمرى والعطية والمنحة والسكنى والاستثناء وغير ذلك،ج:3،ص:405، دار ابن حزم، بيروت)

    ہبہ شدہ چیز میں قبضہ ضرورہی ہے اس بارے میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ و شرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول‘‘ ترجمہ :موہوبہ شیئ میں ہبہ کی صحیح ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مقبوضہ ہو ،مشاع نہ ہو ،جدا ہو مشغول نہ ہو ۔۔(رد المحتار،کتاب الهبہ ،ج:5،ص:688،دارا لفکر بیروت)

    قبضہ سے ملکیت ثابت ہو جاتی ہے اس پر علامہ علا ؤ الدین حصکفی ر حمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم‘‘ترجمہ :ہبہ کا حکم یہ ہے کہ جس کے لیے ہبہ کیا جائے اس کے لیے ملکیت ثابت ہوجاتی ہے لیکن لازم نہیں ہوتی ۔(رد المحتار،کتاب الهبہ ،ج:5،ص:688،دارا لفکر بیروت)

    کسی کے نام کا تملیک نامہ لکھوادینا ہبہ ہے،چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’دستاویز تملیک نامہ تو قطعا تمام اقوال پر ہبہ نامہ ہے جس میں کسی طرح نزاع کا احتمال نہیں کہ بالیقین ا س کا لکھنے والا تملیک عین بلاعوض کا قصد کرتاہے اور بالتعین یہی اس سے سمجھا جاتاہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ والد نے مکان اپنے بیٹے کے نام اس طور پر کیا کہ قانونی رجسٹری میں اپنا نام خارج کراکر بیٹے کا نام داخل کروایاپھر مکان کے کرایہ ناموں پر بیٹے نے بحیثیت مالک دستخط کئے،اسی طرح دیگر قانونی معاملات میں بھی بیٹے کو مالک ظاہر کیا پھر سولہ سال بعد والد انتقال کرگئے،یہاں بیٹیاں کہتی ہیں کہ والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت یہ مکان بیٹے کے نام رجسٹررڈ کرایا تھا ،جواباً امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’داخل خارج کرا دینا اور وہ کاروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/334،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    سیدی اعلیٰ حضرت ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: اگر اس نے اپنا حصہ جدا جدا تقسیم کراکر ہبہ کیا اور بھانجی کو قبضہ دے دیا یا ہبہ کے بعد تقسیم کرکے حصہ منقسمہ پر قبضہ دے دیا یا وہ مشترک جائداد قابل تقسیم نہ تھی اگر دو حصے کئے جاتے تو ہر حصہ قابل انتفاع نہ رہتا، جیسے کوئی کوٹھری یا چھوٹی دکان تو ان صورتوں میں بعد قبضہ دختر ہبہ تمام ہوگیا۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:19،ص:354،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 ذی القعدہ 1447ھ/01مئی 2026