mafqood ki warasat aur zindagi mein warasat ka mutalba
سوال
میرے شوہر کے والد اور والدہ نے زندگی میں شوہر کو ایک مکان دیا تھا وہ مکان انہوں نے بیچ کر رقم مجھے اور میری بیٹی کو دے دی تھی ۔ اور لاہور روانہ ہوگئے پھر سسرال والوں کے اصرار پر ہم لاہور میں رہنے لگے، اور سسرال کراچی میں تھا۔ میرے شوہر لاہور میں ٹیکسی ڈرائیور تھے ۔ اچانک وہ گمشدہ ہوگئے اور 14 سال سے لاپتہ ہیں ،تلاشِ بسیار کے باوجود انکا کچھ معلوم نہ ہوسکا ۔ اس واقعے کے دو سال بعد میری ساس نے کہا تھا کہ تم کراچی آجاؤ میں تمہیں تمہارے شوہر کا حصہ دونگی ۔پھر کراچی آنے کے بعد حصہ دینے سے انکار کردیا اور بات جھگڑے تک پہنچ گئی ہے۔میرے شوہر کے دو بھائی اور تین بہنیں تھیں۔ میری ساس نے تینوں بیٹیوں کو جہیز کے ساتھ گھر لے کر دیا ہے اور اب انکے پاس دو مکان ہیں جب کی قیمت بالترتیب 50 لاکھ اور 70 لاکھ ہے۔جبکہ میرے شوہر کو جو مکان دیا وہ ایک لاکھ تیس ہزار میں فروخت ہوا۔اسکے علاوہ گاؤں میں زمین بھی ہے وہ لوگ میرے شوہر کا حصہ دینے سے انکار کررہے ہیں ۔اور کہہ رہے ہیں کہ یہ دو مکان ان دو بیٹوں کے ہیں جنہیں ابھی حصہ نہیں ملا ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ
1:میرا یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟
2: جو تقسیم کی گئی ہے وہ جائز تقسیم ہے یا نہیں؟
3: بقیہ مال کی کس طرح تقسیم ہوگی؟ میرے شوہر کے والد اور والدہ حیات ہیں۔برائے کرم شرعی رہنمائی فرمادیں۔
سائل:بمعرفت مولانا یاسر خان:کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:آپکے شوہر کی والدہ نے جو مکان شوہر کو دے دیا اور انہوں نے اسے بیچ دیا تو وہ رقم خاص آپ کے شوہر کی ہے اس میں کسی اور کا کوئی حق نہیں ہے۔اسکے علاوہ جو جائیدادموجود ہے اس میں آپکا مطالبہ جائز نہیں ہے کیونکہ ابھی آپکے شوہر کے والد اور والدہ موجود ہیں ، اور بقیدِ حیات وہ اپنی جائیداد کے مالک ہیں ۔ اور جب تک بقید حیات ہیں ، کسی اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
اور آپ کے شوہر لاپتہ ہونے کی بناء پر فی الحال مفقود کے حکم میں ہیں ،یعنی فی الحال نہ وہ کسی کے وارث بن سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی انکا وارث بن سکتا ہے۔ الا یہ کہ اگر انکی موت کا علم ہوجائے یا اتنی مدت گزر کہ جس مدت کی بناء پر مفقود کو میت مان لیا جاتا ہے تواس وقت اسکامال انورثاء میں تقسیم ہوگا جو اس وقت موجود ہونگے۔
آپ کا شوہر کے والدین سے جائیداد میں مطالبہ جائز نہیں ہے کیونکہ شرعی اصطلاح میں وراثت اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو انسان چھوڑکر مرتا ہے، اور وہ اس وقت اسکے موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔اس کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه۔ترجمہ:ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔
ہدایہ میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود(زندہ)ہوں۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)
البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ ۔ترجمہ:وہ وقت کہ جس میں وراثت جاری ہوتی ہے ، اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ،عراق کے علماء فرماتے ہیں کہ وراثت اس وقت ثابت ہوگی جب میت کی زندگی کا آخری لمحہ ہو ،اور بلخ کے علماء فرماتے ہیں کہ مورث (جسکی وراثت ہے)کی موت کے بعد وراثت ثابت ہوگی۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الفرائض باب یبدأ من ترکۃ المیت جلد 8ص557)
مفقود کے بارے میں السراجی فی المیراث میں ہے:المفقود حی فی مالہ حتٰی لایرث منہ احد ، ومیت فی مال غیرہ حتٰی لایرث من احد ویوقف مالہ حتٰی یصح موتہ او تمضی علیہ مدۃ ۔ ترجمہ: مفقود اپنے مال کے حق میں زندہ ہے حتی کہ کوئی شخص اسکا وارث نہیں بن سکے گا اور غیرکے مال کے حق میں مردہ ہے حتی کہ وہ کسی کا وارث نہیں بن سکے گا اور اسکا مال الگ رکھ لیا جائے گا یہاں تک کہ اسکی موت کا علم ہوجائے یا اس پر مدت گزر جائے۔(سراجی فی المیراث ص 163، مکتبۃ البشرٰی)
2: جو تقسیم کی گئی ہے یعنی آپکی ساس نے اپنے تمام بچوں کو بشمول آپکے شوہر کے برابر برابر یعنی ایک ایک مکان دیا ہے وہ درست ہے کیونکہ والدین جو کچھ زندگی میں اولاد کو دیں،وہ والدین کی طرف سے اولاد کے لئے ہبہ (یعنی بطور تحفہ)ہے، اور اولاد کے مابین ہبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام بیٹوں اوربیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابل زیادہ دیں تو اس میں بھی حرج نہیں جبکہ دوسرےکو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسرے کے مقابل زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسےزیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ، حدیث نمبر 1623)
بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا)مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
3:بقیہ مال والدین کی وفات کے بعد ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 11 شوال المکرم 1441 ھ/03جون 2020 ء