ماں کی ملکیت پر قبضہ

    maa ki milkiyat par qabza

    تاریخ: 1 اکتوبر، 2026
    مشاہدات: 100
    حوالہ: 1811

    سوال

    میرا ایک بیٹا محمد آصف ہے، جو میری مرضی کے خلاف ایک لڑکی سے شادی کرکے میرے گھر سے چلا گیا تھا۔ شادی کے بعد اس کے حالات بہت خراب ہوگئے اور اس کے پاس رہنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں تھی۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنا ایک مکان، جو میرے نام پر ہے، اسے صرف رہائش کے لیے دے دیا تاکہ وہ وہاں رہ سکے۔بعد میں میرے بیٹے نے اس مکان پر قبضہ کرلیا اور اب وہ مکان خالی کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ مذکورہ مکان خالی کروا کر اسے دوبارہ اپنے قبضے میں لے لوں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کیا بیٹے کا مذکورہ مکان پر قبضہ برقرار رکھنا جائز ہے؟

    نوٹ:مندرجہ ذیل جواب مذکورہ بالا سوال کی روشنی میں لکھا گیا ہے ،اگر صورتِ حال حقیقت کے برعکس ہوئی تو جواب بھی مختلف ہو گا۔ اور یاد رکھا جائے مفتی کا کام صورت ِ مسئولہ کا جواب دینا ،ناکہ تفتیش کرنا کیونکہ یہ ذمہ دار ی قاضی ہوتی ہے ۔

    سائلہ: پروین شریف


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مسئولہ کے مطابق مذکورہ مکان اگر واقعۃً سائلہ کی ذاتی ملکیت ہے اور انہوں نے اپنے بیٹے محمد آصف کو صرف رہائش کی غرض سے عارضی طور پر استعمال کے لیے دیا تھا، نہ ہی اسے کسی بھی طرح مکان کا مالک بنایا تھا، تو مکان بدستور سائلہ ہی کی ملکیت میں ہے۔لہٰذا اگر سائلہ نے اب مذکورہ مکان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے تو بیٹے کے لیے شرعاً جائز نہیں کہ وہ والدہ کی اجازت کے بغیر مکان پر اپنا قبضہ برقرار رکھے یا اسے خالی کرنے سے انکار کرے۔ کسی دوسرے کی ملکیت والی چیز کو اس کی اجازت کے بغیر اپنے قبضے میں رکھنا شرعاً حرام ہے ۔لہٰذا جب والدہ مکان خالی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تو بیٹے پر لازم ہے کہ بلا تاخیر مکان خالی کرکے والدہ کے حوالے کردے۔ والدہ کے مطالبہ کے بعد جتنی مدت وہ مکان خالی کرنے میں بلاوجہ تاخیر کرے گا، اتنی مدت وہ ناحق قبضہ برقرار رکھنے کے گناہ میں مبتلا ہوگا۔

    البتہ سائلہ کے انتقال کے بعد تمامی ورثاء شریعت کے مطابق اس مکان کے بھی وارث ہونگے۔

    دلائل و جزئیات:

    فرمان باری تعالٰی ہے: : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)

    اور ظلم کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ترجمہ: مُواخَذہ تو انھیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔(الشورٰی:42)

    بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    بخاری میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)

    والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کہا جائے؛ چہ جائیکہ ان سے لڑائی جھگڑا کیا جائے، ان کی دل آزاری کی جائے یا انہیں کسی بھی طرح کی اذیت پہنچائی جائے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْکِلٰھُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا﴿۲۳﴾ وَ اخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا﴾ترجمہ:اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں،تو ان سے ”ہُوں“ نہ کہنا،اور انہیں نہ جھڑکنا، اور ان سے تعظیم کی بات کہنااور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب !تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن (یعنی بچپن)میں پالا۔ (سورۂ بنی اسرائیل، آیت 23،24)

    امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پسرِ مذکور، فاسق، فاجر، مرتکبِ کبائر، عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضبِ الٰہی کا استحقاق، باپ کی نافرمانی اللہ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جبار وقہار کی ناراضی ہے ، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔جب تک باپ کو راضی نہ کرےگا اس کا کوئی فرض ، کوئی نفل ، کوئی عملِ نیک اصلاً قبول نہ ہوگا۔عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہوگی، مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔(فتاوی رضویہ ، جلد 24 ، صفحہ383 ، 384 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 1447 ھ/19 ستمبر 2026ء