لیم ایپ کے ذریعے آن لائن کام کرنا اور انویسٹ کرنا کیسا

    lime app ke zariye online kaam karna aur invest karna kaisa

    تاریخ: 23 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 58
    حوالہ: 1794

    سوال

    LAM ایک موبائل ایپلیکیشن ہے جو صارفین کو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ پر ویڈیوز دیکھنے، لائک کرنے، چینلز کو سبسکرائب کرنے اور مختلف صفحات (پیجز) کی پروموشن کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    اس کا طریقۂ کار درج ذیل ہے:

    سب سے پہلے LAM ایپلیکیشن کو ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے، پھر اس میں اپنا ایک اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے۔اس ایپ میں مختلف پیکیجز موجود ہوتے ہیں، جن کی مالیت چار ہزار سے لے کر آٹھ لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ نفع کا دار و مدار پیکیج کی مالیت پر ہوتا ہے۔ یعنی جتنا مہنگا پیکیج ہو گا، اتنا زیادہ نفع حاصل ہو گا۔ ان پیکیجز میں سے کسی ایک پیکیج کی خریداری لازم ہے، بصورتِ دیگر آپ اس ایپ کے "اجیر" (یعنی ملازم یا صارف) نہیں بن سکتے۔پیکیج خریدنے کے بعد، LAM ایپ کی طرف سے پیکیج کی مالیت کے مطابق صارف کو روزانہ مخصوص یوٹیوب چینلز اور ویڈیوز کے لنکس دیے جاتے ہیں۔ اجیر نے ان چینلز کو سبسکرائب کرنا ہوتا ہے، ویڈیوز دیکھ کر انہیں لائک کرنا ہوتا ہے اور پھر ان کا اسکرین شاٹ لے کر ایپ میں اپلوڈ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد پیکیج کی نوعیت کے مطابق اس کی آمدنی (انکم) بننا شروع ہو جاتی ہے۔

    LAM ایپ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں میں عام کرنے اور مزید صارفین کو شامل کرنے کے لیے نیٹ ورک مارکیٹنگ کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ اجیر اپنے ریفرل لنک کے ذریعے کسی نئے شخص کو ایپ میں شامل کرتا ہے۔ جب وہ نیا شخص ایپ میں داخل ہوتا ہے اور پیکیج خریدتا ہے تو اس پر اجیر کو کمیشن دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی آگے بڑھتا ہے۔ ہر شامل ہونے والے فرد کو اس کے کام کی مکمل اجرت ملتی ہے اور متعارف کروانے والے اجیر کو کمیشن حاصل ہوتا ہے۔

    سائل :عبداللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ LAMایپ کے بارے ساری معلومات ذکر کی گئی توان معلومات کے پیش ِنَظراس اَیپ کے ذریعے آن لائن کام کرنا اور اپنی رقم انویسٹ کرنا ناجائز و گناہ اور حرام ہے ۔اس میں کئی شرعی خربیا ں ہیں جو ذیل میں ذکر کی جارہی ہیں ۔

    1.اجارہ فاسد :

    ہر عام مسلمان جانتا ہے کہ جب کسی ادارے میں نوکری کی جائے تو پیشگی کوئی رقم دینا نہیں پڑتی کیونکہ بندہ خود کمانے جارہا ہے نہ کہ کمپنی کو اپنے پلَے سے دینے جارہا ہے۔ LAM ایپ میں جو ممبر بننے کے لیے یہ شرط '' ان پیکیجز میں سے کسی ایک پیکیج کی خریداری لازم ہے ''رکھی ہے کہ پہلے ہم سےپیکج لیں تو یہ اجارہ پر شرط ہے اور شرط بھی ایسی ہے جس کا نہ عقد تقاضہ کرتا ہے ،نہ عقد کے مناسب ہے اور نہ ہی اس پر عرف جاری ہےتو یہ شرط فاسد ہوئی جس کی وجہ سے اجارہ جائز نہیں ۔

    اجارہ پر شرط لگانے کے متعلق در مختار میں ہے ’’تفسد الإجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد‘‘ترجمہ: مقتضائے عقد کے خلاف شرائط لگانے سے اجارہ فاسد ہو جاتا ہے ۔ (درمختار ، کتاب الاجارہ، باب الاجارۃ الفاسدۃ ،جلد6،صفحہ46، دار الفکر، بیروت)

    اس کے متعلق ''بحر الرائق'' میں ہے:" (قولہ یفسد الإجارۃ الشرط) أی الشروط المعھودۃ المتقدمۃ فی باب البیع الفاسد التی لیست من مقتضی العقد۔ترجمہ:اجارہ شرط لگانے سے فاسد ہو جاتا ہے یعنی ان شرائط فاسدہ سے جو مقتضائے عقد میں سے نہیں ہوتی جن کا بیان باب البیع گزرا ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الاجارہ، باب الاجارۃ الفاسدۃ ،جلد7،صفحہ311،دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

    شروط فاسدہ کو علماء نے سود کے زمرے میں داخل کیا ہے کیونکہ عقد معاوضہ میں بلاعوض ملنے والی زیادتی کو سود کہتے ہیں اور بیع(خریداری) یا اس کی مثل معاملات میں اگر شرط فاسد لگائی جائے تو اس سے بھی ایک ایسی ہی زیادتی یا نفع حاصل ہوتا ہے جس کا عوض کچھ معین نہیں ہوتالہٰذا یہ من جملہ سود ہے۔

    علامہ کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے متعلق لکھتے ہیں’’ھذہ الشروط بعضھا فیہ منفعۃ زائدۃ ترجع إلی العاقدین أو إلی غیرھما وزیادۃ منفعۃ مشروطۃ فی عقد البیع تکون ربا والربا حرام والبیع الذی فیہ ربا فاسد۔ترجمہ: ان میں کچھ شرائط تو وہ ہیں کہ جن میں عاقدین یا ان کے علاوہ کسی کا نفع پایا جاتا ہے اور نفع کی ایسی زیادتی اگر عقد بیع میں مشروط ہو تو وہ سود ہوتی ہے اور سود حرام ہے ۔ اور جس بیع میں سود پایا جائے وہ بیع فاسد ہو تی ہے۔(بدائع الصنائع ، کتاب البیوع ، فصل فی شرائظ الصحۃ، جلد5،صفحہ175، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

    2. شریعت مقدسہ میں بیع '' مبادلة المال بالمال ''(مال کا مال کے ساتھ تبادلے ) کو کہتے ہیں اور مال کا خارجی وجود ہونا ضروری ہے جبکہ LAM کمپنی کسی بھی شخص کو اپنا اجیر employee ))بنانے کے لئے جو پیکچpackage)) فروخت کرتی ہے، وہ پیکج کوئی مادی وحسی چیز نہیں ہے۔ کہ جس کا خارج میں کوئی وجود ہو اور اس کی قیمت لگائی جا سکے، بلکہ پیکج ایک غیر مادی و غیرحسی چیز ہے، جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں، لہذا پیکج کے مال نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیع (خرید و فروخت)شرعا باطل و ناجائز ہے۔

    بیع کی تعریف کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے :" اما تعریفہ فمبادلۃ المال بالمال بالتراضی. ترجمہ: بہر حال بیع کی تعریف یہ ہے کہ مال کا مال کے ساتھ رضامندی سے تبادلہ کرنا۔(الفتاوی الھندیہ، كتاب البيوع وفيه عشرون بابا ،ج: 3،ص: 2، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

    مال کی تعریف کے متعلق رد المحتار میں ہے :" مَا يَمِيلُ إلَيْهِ الطَّبْعُ وَيُمْكِنُ ادِّخَارُهُ لِوَقْتِ الْحَاجَةِ. ترجمہ : مال سے مراد جس کی طرف طبیعت مال ہو اور ضرورت کے وقت اسے ذخیرہ کرنا ممکن ہو ۔(رد المحتار ، كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:5،ص:51،دار الفکر بیروت )

    مال کا خارج میں وجود ضروری ہے اس کے متعلق شیخ مصطفی الزرقاء صاحب فرماتے :"کل عین ذات قیمة مادیة بین الناس . ترجمہ : لوگوں کے درمیان ہر ذی قیمت مادی عین مال ہے ۔ (المدخل الی نظریۃ الالتزام العامۃ فی الفقہ الاسلامی، الباب الثالث، الفصل الثانی عشر: حقیقۃ المال، ص127، دار القلم دمشق)

    غیر مال کی بیع باطل ہے اس کے متعلق شرح وقایہ میں ہے :" بطل بیع ما لیس بمال. ترجمہ: جو چیز مال نہیں اس کی بیع باطل ہے۔(شرح الوقایہ ، كتاب البيع،باب البيع الفاسد ، ج 04، ص :30، دار الوراق - عمان، الأردن)

    3. اس کمپنی کے طریقۂ کار کے مطابق، اجیر اپنے ریفرل لنک کے ذریعے کسی نئے فرد کو ایپ میں شامل کرتا ہے۔ جب وہ نیا شخص ایپ میں داخل ہو کر کوئی پیکیج خریدتا ہے تو اجیر کو اس پر کمیشن دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ نیا فرد بھی اپنے لنک سے کسی اور کو شامل کرے، اور وہ شخص بھی پیکیج خریدے، تو اس پر کمیشن نہ صرف اسے بلکہ ابتدائی اجیر کو بھی ملتا ہے۔ اس طرح صارفین کا ایک نیٹ ورک بنتا ہے، جس میں ہر فرد کو اپنے متعارف کردہ افراد کی خریداری پر کمیشن دیا جاتا ہے۔ یہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کا ایک طریقہ ہے، جس کا مقصد LAM ایپ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں میں عام کرنا اور نئے صارفین کو شامل کرنا ہے۔

    اس کمپنی کا یہ مذکورہ بالا کمیشن دینے کا طریقہ فقہی قانون اور اجارہ کے قانون کے خلاف ہے وہ اس طرح کہ کسی مزدور یا کام کرنے والے کی اجرت بلاشبہ اس کے کیے گئے کام پر پوری پوری دی جائے گی، لیکن جو کام اس نے خود نہیں کیا بلکہ کسی اور نے کیا ہو، اس کی اجرت لینے کا نہ وہ مستحق ہے اور نہ ہی اس کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ کمپنی کے نظام میں جو کمیشن دیا جاتا ہے وہ دراصل دلالی(commission agency) کے طور پر ہوتا ہے، اور دلال کے لیے ضروری ہے کہ وہ عرف کے مطابق متعلقہ خدمت سرانجام دے۔

    لہٰذا کمپنی کی طرف سے کسی اجیر کو اگر وہ بذاتِ خود کسی شخص کو ایپ میں شامل کرے اور وہ نیا فرد پیکیج خریدے، تو پہلی بار ملنے والا کمیشن شرعاً قابلِ جواز ہے ؛کیونکہ اس میں خود کی محنت شامل ہے۔ لیکن اس کے بعد اگر نیچے شامل ہونے والے افراد مزید لوگوں کو ایپ میں شامل کریں اور ان کی محنت پر ابتدائی اجیر کو بھی کمیشن دیا جائے، تو یہ ناجائز ہے، کیونکہ اس اجیر نے ان افراد کے سلسلے میں کوئی عملی مشقت نہیں کی۔کمیشن اور دلالی کا جواز عرف کے مطابق عمل و محنت کرنے پر موقوف ہے، اور جب محنت سرے سے نہ ہو، تو اس پر اجرت لینا شرعاً درست نہیں ہوتا۔

    کمیشن ایجنٹ اس وقت اجرت کا مستحق ہو گا جب وہ ایسا عمل کرے جس میں اس کی محنت، سعی یا عرف کے مطابق کوئی کارآمد خدمت شامل ہواس کے متعلق رد المحتار میں ہے: "والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل والسكوت ليس بعمل. ترجمہ: اجرت عمل کے مقابلہ میں ہی ہوگی اور سکوت عمل نہیں ہے۔(رد المحتار ، کتاب النکاح، ج 3، ص: 156، دار الفکر بیروت)

    بغیر عمل کے اجرت درست نہ ہونے کے متعلق ہدایہ میں ہے :"فلو جوزناه لكان استحقاقا بغير عمل ولم يرد به الشرع.ترجمہ:اگر ہم نے اس عقد کو جائز قرار دیا، تو یہ بغیر عمل کے اجرت کا حقدار بننا ہوگا ،جبکہ اس پر شرع وارد ہی نہیں ۔(ھدایہ، کتاب المساقاہ، جلد 4، صفحہ 344، مطبوعہ داراحیاء التراث بیروت)

    امام اہلسنت احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں:"اجرت آنے جانے ، محنت کرنے کی ہوتی ہے، نہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے، مشورہ دینے کی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن)

    واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13صفر المظفر 1447ھ/08اگست 2024ء