بھائیوں کا صرف کام کرنے پر ملکیت کا دعوی کرنا

    bhaiyon ka sirf kaam karne par milkiyat ka dawa karna

    تاریخ: 23 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 1790

    سوال

    محمد جاوید ولد عبد الشکور مکان نمبر C-228 کی پراپرٹی کا مالک ہوں، اور میرے بھائی سمجھتے ہیں کہ یہ ہم سب کی محنت کا ہے۔ اب ہم سب بہن بھائیوں نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ میں محمد جاوید، جو اس مکان کا مالک ہوں، میں نے اپنے پورے ہوش و حواس میں حلف اٹھایا، اور میرے تین بھائیوں نے بھی حلف اٹھایا کہ یہ ہم سب کی محنت کا ہے۔ باقی ایک بھائی اور تین بہنوں نے حلف نہیں اٹھایا، تو میں اس حلف کی بنا پر اپنے تین بھائیوں کو حصہ دوں گا، اور ایک بھائی اور تین بہنوں کو بھی حصہ دوں گا۔میری اس پراپرٹی کا کوئی بہن یا بھائی حصہ دار نہیں، میں صرف حلف کی وجہ سے اپنے بہن بھائیوں کو حصہ دوں گا۔کس طرح اس کی تقسیم کروں کس کا کتنا حصہ بنے گا رہنمائی فرما دیں ۔

    نوٹ: بھائیوں نے مزدوری کی تھی، اور میں ان کی اُس مزدوری کی اُجرت بھی دیتا رہا۔ ان کے ایک بھائی سے بھی رابطہ ہوا، وہ بھی یہی کہتا ہے کہ رقم جاوید بھائی کی تھی۔



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ مذکورہ مکان محمد جاوید کی ملکیت ہے، کیونکہ رقم محمد جاوید ہی کی تھی، جس کا اقرار خود بھائی بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے صرف مزدوری کی تھی، اور اس مزدوری کے عوض جو اُجرت بنتی تھی وہ بھی انہیں ادا کر دی گئی تھی۔ لہٰذا شرعی اعتبار سے اس مکان میں بہن بھائیوں کا کوئی حصہ ثابت نہیں ہوتا۔البتہ چونکہ آپ نے حلف اٹھایا ہے، اس لیے آپ پر اپنے حلف کو پورا کرنا لازم و ضروری ہے۔ لہٰذا آپ اپنی جس بہن یا بھائی کو جو کچھ دینا چاہیں، دے سکتے ہیں، اور اس پر اُنہیں قبضہ بھی دے دیں۔ یہ آپ کے اختیار میں ہے، اور شرعی طور پر یہ آپ کی جانب سے اُن کے حق میں ہبہ شمار ہوگا۔ خواہ تمام بہن بھائیوں کو برابر دیں، یا بہنوں کو کم اور بھائیوں کو زیادہ دیں۔

    دلائل و جزئیات :

    بندہ کی کسی شئی میں ملکیت کب ثابت ہوگی اسی بارےابن نجیم المصری فرماتے ہیں "فَالْأَسْبَابُ ثَلَاثَةٌ مُثْبِتٌ لِلْمِلْكِ وَهُوَ الِاسْتِيلَاءُ وَنَاقِلٌ لِلْمِلْكِ وَهُوَ الْبَيْعُ وَنَحْوُهُ وَخِلَافَةٌ وَهُوَ الْمِيرَاثُ وَالْوَصِيَّةُ ۔ ترجمہ : ملکیت کے اسباب تین ہیں: پہلا، ملکیت کو ثابت کرنے کا سبب، جو کہ قبضہ ہے؛ دوسرا، ملکیت کو منتقِل کرنے کا سبب، جو کہ خرید و فروخت اس کی مثل اور چیزیں، تیسرا، ملکیت کے منتقِل ہونے کا سبب، جو کہ وراثت، وصیت قبول کرنا ہے ۔( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،کتاب البیوع،جلد:۵۔صفحة:۲۷۸،دار الکتب السلامی)

    لہذا یہاں ان تین اسباب میں سے کوئی سبب نے کہ ان بھائیوں کا اس میں حق مانا جائے۔

    ہبہ قبضہ سے تام ہوتا ہے اس بارے مجلۃ الاحکام میں ہے "فإذا وهب أحد شيئا إلى آخر لا تتم الهبة قبل القبض" ترجمہ : جب ایک شخص کسی دوسرے کی طرف کوئی چیز ہبہ کرتا ہے تو قبضہ سے پہلے ہبہ تام نہ ہوگا ۔

    آپ کا حلف اٹھانا کہ میں اپنے بہن بھائیوں کو حصہ دوں گو اسے یمین منعقدہ کہتے ہیں جیسا کہ در مختار میں ہے :’’ (منعقدۃ وھی حلفہ علی) مستقبل(آت وفیہ الکفارۃ فقط ان حنث)“ ترجمہ : یمینِ منعقدہ آنے والےوقت ( زمانہ مستقبل )پر حلف اٹھاناہے اوراس قسم کے توڑنے پر صرف کفارہ لازم ہوتا ہے ۔(رد المحتار مع در المختار، کتاب الایمان، ج05،ص496،مطبوعہ کوئٹہ)

    اللہ تعالی نے قسموں کو پورا کرنے کا حکم دیا اور پورا نہ کرنے پر مواخذ کی وعید سنائی جس نے قسم توڑی اس کفارہ بھی بیان فرمایا:’’ لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰـكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ-فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ-وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ. ترجمہ : اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پرہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرواسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔

    (المائدہ:89)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 ذو القعدہ 1447 ھ/8 مئی 2026ء