pagri pe makan farokht karne ki sharai haisiyat
سوال
پگڑی کے مکان سے ہمیں 3 لاکھ35 ہزار مل رہے ہیں اب اس رقم کو ورثاء میں میرے والد ہم دو بھائی اور ایک بہن ہے کیسے تقسیم ہونگےہیں ؟
نوٹ:اس مکان کو والد اور والدہ نے مل کر پگڑی پہ خریدہ والد کے 1 لاکھ اور والدہ کے 80 ہزار تھے۔اب مالک مکان نے یہ مکان 3 لاکھ 35 ہزار روپے دے کر واپس لے لیا ہے ۔والدہ کا انتقال ہوچکا ہے والد حیات ہیں
سائل : محمد کامران
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پگڑی کی بیع( خرید وفروخت) جو درحقیقت حقِ قبضہ کی خریدوفروخت ہے ،اسکے جائز یا ناجائز ہونے میں دورِ حاضر کے مفتیانِ کرام کے مابین علمی وفقہی اختلاف ہے ،بعض مفتیان ِ کرام اس کو اس بناء پر ناجائز قرار دیتے ہیں کہ یہ قبضے کا حق ہے اور "حق" مال نہیں ہے اور خرید وفرخت کے لیے مال ہونا ضروری ہے ،لہذا پگڑی اس دکان یا مکان کے بجائے فقط اس پر "قبضہ کے حق" کی بیع ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔جبکہ بعض مفتیان کرام اور خود ہمارے نزدیک بھی پگڑی کی خرید وفروخت جائز ہے ۔لہذا جس نے پگڑی پر دوکان خریدی وہ قبضہ کا مالک ہے اگر اس کا انتقال ہو جائے توپگڑی کی موجودہ مالیت اس کے ورثاء میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم ہوگی ۔
بعد ازاں پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ جب دکان پگڑی پہ خریدی گئی تو آپ کے والد اور والدہ دونوں نے مل کر اس میں رقم لگائی تھی، لہٰذا دکان میں دونوں کا حق ان کے اپنے اپنے حصے کے تناسب سے ہوگا۔ چنانچہ والد کا حصہ 55.55 فیصد اور والدہ کا حصہ 44.44 فیصد ہے۔پھر دکان کا یہ حق قبض مالک نے 3 لاکھ 35 ہزار روپے خریدا تو اس میں والدہ کے حصے کی رقم تقریباً 1 لاکھ 48 ہزار 874 روپے اور والد کے حصے کی رقم تقریباً 1 لاکھ 86 ہزار 126 روپے بنتی ہے۔چونکہ والدہ کا انتقال ہوگیا لہذا ان کے حصے کی رقم 1 لاکھ 48 ہزار 874 روپے ان کے شرعی ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ اس رقم کے 20 حصے کیے جائیں گے جن میں سے شوہر کے 5 حصے: 37,218روپےدو بیٹوں میں سے ہرایک کے 6 حصے: 44,662 روپےاور بیٹی کے 3 حصے: 22,331 روپے ہونگے ۔یہ بات یاد رہے کہ دکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی والد کے حصے کی 1 لاکھ 86 ہزار 126 روپے رقم ان کی اپنی ملکیت ہے۔ اس کے علاوہ والد کو اپنی مرحومہ بیوی (یعنی آپ والدہ) کے ترکے میں سے جو حصہ بطورِ میراث شرعاً ملے گا، وہ علیحدہ ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
حقوق کی بیع کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"وحاصله:أن ثبوت حق الشفعة للشفيع، وحق القسم للزوجة وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه؛ لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك فلا يستحق شيئا أما حق الموصى له بالخدمة، فليس كذلك بل ثبت له على وجه البر والصلة فيكون ثابتا له أصالة فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق وحيث صح الاعتياض عنه؛ لأنه ثابت لصاحبه أصالة لا على وجه رفع الضرر عن صاحبه".ترجمہ:فقہاء کرام کی بحث کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ شفیع کے لیے حق شفعہ ،اور زوجہ کے لیے باری کا حق اور نکاح میں مخیرہ کے لیے اختیار کا حق ،محض شفیع اورعورت سے ضرر دور کرنے کے لیے ہے،اور جو حق اس لیے (یعنی ضرر دور کرنے کے لیے) ثابت ہو،تو اس کے بدلے عوض لینا جائز نہیں،کیونکہ جب صاحبِ اپنے حق سے دستبردار ہوگیا ،تو معلوم ہوا کہ اسے کوئی ضرر نہیں تھالہذا وہ کسی چیز کا مستحق نہیں ۔لیکن اگر کسی شخص نے اپنے غلام کے بارے میں یہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرا یہ غلام فلاں شخص کی خدمت کرے گا ،تو اب اس کا یہ حق اس سے دفعِ ضرر کے لیے نہیں ہے بلکہ حسنِ سلوک اور بھلائی کے طور پر ثابت ہے لہذا یہ حق اس کے لیے اصالۃ ثابت ہے ۔اس شخص کا اپنے اس حق کے بدلے عوض لے کر دستبردار ہوجانا جائز ہے،اور اسی کی مثل ہے وہ جو "الاشباہ والنظائر " کے حوالے سے گزرا قصاص ،نکاح اور غلام پر ملکیت کا حق وغیرہ میں سے کہ ان کا عوضلینا(اور اس حق سے دستبردار ہونا) جائز ہے،کیونکہ یہ صاحبِ حق کے لیے اصالۃ ً ثابت ہیں ،نہ کہ صاحبِ حق سے دفعِ کے لیے ثابت ہیں۔(ردالمحتار ، مطلب فی النزول عن الوظائف ج:7،ص:36،مکتبہ امدادیہ ملتان )
حقوق کی بیع کے متعلق امام اہل ِ سنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"اب یہ کلام مسئلہ اعتیاض عن الوظائف کے طرف مجر ہوگا وہاں ہر چند علماء کواختلاف ہےاوریہ مبحث معرکۃ الآراء ہے مگر مرضی جماہیر فحول ونحاریر عدول صحت وقبول ہے اور وہی ہنگام اعتبار وملاحظہ نظائر ان شاء اﷲ تعالٰی اظہر، اگرچہ دوسرا پلہ بھی بہت ثقیل وگراں ہے،فی الدالمختار من الاشباہ المذہب عدم اعتبار العرف الخاص لکن افتٰی کثیر باعتبارہ وعلیہ فیفتی بجواز النزول من الوظائف بمال ۔۔۔ الخ قال العلامۃ السید احمد الطحطاوی فی حاشیتہ وقد تعارف ذٰلک الفقہاء عرفا قدیما رضیہ العلماء والحکام الی ان قال عن ابی السعود عن السید احمد الحموی من بعض الفضلاء عن العلامۃ بدرالدین العینی ان النزول عن الوظائف صحیح قیاسا علی ترک المرأۃ قسمہا لصاحبتہا لان کل منہما مجرد اسقاط" ترجمہ:درمختار میں بحوالہ اشباہ مذکور ہے کہ مذہب کہ عرف خاص کے عدم اعتبار کا ہے لیکن کثیر علماء نے اس کے اعتبار کرنے کا فتوٰی دیا اسی بنیاد پر مال کے بدلے وظائف سے دستبرداری کے جواز کا فتوٰی دیا گیا الخ علامہ سید احمد طحطاوی نے اپنے حاشیہ میں کہا کہ فقہاء نے اس کو عرف قدیم سمجھا اور علماء وحکام نے اس کو پسند کیا یہاں تک کہ علامہ طحطاوی نے کہا کہ ابوسعود نے بعض فضلاء کا قول بحوالہ علامہ بدرالدین عینی سید احمد حموی سے نقل کیا کہ وظائف سے دستبرداری صحیح ہے قیاس کرتے ہوئے عورت کے اپنی باری اپنی سوکن کے لئے چھوڑ دینے پر، کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک محض اسقاط ہے۔ علامہ سید احمد حموی غمز عیون البصائر میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے بعض فروع مبسوط سرخسی پر اس مسئلہ کا اعتبار اور صحت کا استظہار نقل کرکے فرماتے ہیں : فلیحفظ فانہ نفیس جدا (اس کو یادرکھنا چاہئے کیونکہ یہ بہت عمدہ ہے۔) خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی ردالمحتار میں کلام علامہ بیری شارح اشباہ سے اس کی تائید نقل اور حقوق موصی لہ بالخدمہ وقصاص ونکاح ورق کا حقوق شفعہ وقسم زوجہ وخیار مخیرہ فی النکاح سے بدیں وجہ کہ صور اولٰی میں حق اصالۃ ثابت ہے تو ان سے اعتیاض جائز بخلاف اخیرہ کے کہ وہاں ثبوت حق صرف بربنائے ضرر ہے جب صاحب حق اعتیاض پر راضی ہو ا معلوم ہوا مستضررنہ تھا راسا حق باطل ہوا یہ عوض کیسا ؟فرق بیان کرکے فرماتے ہیں:ولایخفی ان صاحب الوظیفۃ ثبت لہ الحق فیہ بتقریر القاضی علی وجہ الاصالۃ لاعلی رفع الضرر (ینقل الی ماقال) و ان کان الاظہر فیہا ماقلنا" ترجمہ:اورمخفی نہ ر ہے کہ بیشک صاحب وظیفہ کے لئے حق قاضی کی تقریر سے بطور اصل ثابت ہوانہ کہ رفع ضرر کے طورپر (نقل کرتے ہوئے یہاں تک کہا) اگرچہ اس میں زیادہ ظاہر وہی ہے جوہم نے کہا۔"(فتاویٰ رضویہ ،ج:17،ص:11تا 112،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وراثت میں شوہر کے حصے کے متعلق ارشادباری تعالی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ.ترجمہ: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : 11)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 ربیع الاول 1448ھ/04ستمبر2026ء