imam ke ghalat masla batane ka hukm
سوال
میں محمد اسامہ علی صدیقی ولد محمد علی صدیقی، ساکن کراچی، گلشنِ حدید، میری زوجہ شگفتہ پروین بنت رحیم بخش سیال سے کچھ سال پہلے، تقریباً 2020ء میں کچھ گھریلو ناچاقی کی بناء پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد میری زوجہ ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی اور تقریباً 7 سے 8 ماہ بعد صلح ہوئی۔ اسی دوران میں نے کسی امامِ مسجد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی زوجہ اتنا عرصہ آپ سے دور رہی اور آپ نے حقِ زوجیت بھی ادا نہیں کیا، تو اسی وجہ سے آپ کی خود بخود ایک طلاق واقع ہو چکی ہے۔ پھر یہی معاملہ کچھ عرصہ بعد بھی ہوا، تو پھر ہم نے صحبت اختیار کر لی۔
اور یہ بات میں حلفاً کہتا ہوں کہ ان دو مرتبہ ناراضگی میں زوجہ کا اپنے میکے میں بیٹھ جانے پر میں نے طلاق کے کوئی الفاظ ادا نہیں کیے۔ اور اب آج سے تقریباً تین سال قبل میری زوجہ سے پھر کسی گھریلو بات پر جھگڑا ہوا، تو میں نے اسے خود اس کے سامنے، زوجہ کو ایک طلاق دی، یہ کہا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘، اور میں یہ حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے ایسا صرف ایک بار ہی کہا۔ پھر اسی مسجد کے امام صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کو حلالہ کرنا ہوگا۔پھر زوجہ کی عدت گزرنے کے بعد، اس کی رضامندی سے ہم نے مظہر نامی قاری صاحب سے نکاح کروایا، حلالہ کے لیے، اور پھر مظہر قاری نے حقِ زوجیت یعنی صحبت اختیار نہیں کیا اور بغیر کسی وجہ کے اس شخص سے طلاق بھی ہو گئی۔ قاری مظہر نامی شخص نے میری سابقہ زوجہ کو طلاق دے دی ہے۔ اور نکاح یعنی حلالہ ہم نے سب سے چھپ کر کیا تھا۔تو آیا پہلی دونوں صورتوں میں ہماری طلاقیں واقع ہو چکی تھیں یا نہیں؟ اور بعد میں، میں نے جو ایک طلاق دی تھی، اس کے بعد دوسرے سے نکاح ہوا اور پھر اس نے بھی طلاق دے دی، تو کیا اب میں اپنی سابقہ زوجہ سے پھر سے نکاح کر سکتا ہوں؟ شریعت کے مطابق قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
نوٹ: قاری مظہر جو شوہر ثانی تھا اس کی وائس سنی گئی جس میں کہہ رہا ہے کہ : میں شگفتہ کو طلاق دے چکا ہوں اور اس شگفتہ سے فون پر رابطہ ہوا جس پر انہوں نے واضح بتا یا کہ قاری مظہر نے تین دفعہ ان الفاظ سے : میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "طلاق دے دی ۔
سائل :اسامہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہے کہ شریعت کے احکام، بالخصوص طلاق و نکاح جیسے نہایت حساس اور اہم مسائل میں صرف مسلک ناجی اہلسنت وجماعت کے مستند اور معتمد مفتیانِ کرام ہی سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ محض ہر امامِ مسجد یا ایسے عالم دین سے جو مفتی نہ ہو، ان حساس مسائل کے بارے استفسار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہر عالم یا امام کے لیے ضروری نہیں کہ اسے تمام فقہی مسائل، بالخصوص طلاق و نکاح کے پیچیدہ مسائل میں مہارت حاصل ہو۔ لہٰذا جو حضرات شرعی مسائل کو جانے بغیر لوگوں کو ان کاجواب دیتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ان کے دیے ہوئے غلط فتویٰ یا جواب کی وجہ سے کسی کا نکاح یا گھرانہ متاثر ہوا تو اس کی ذمہ داری کتنی سنگین ہوگی۔ کیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ وعیدیں نہیں سنیں ؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا، تو آسمان و زمین کے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔" اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ شرعی مسائل، بالخصوص طلاق و نکاح کے معاملات میں صرف اہلِ علم اور مستند مفتیانِ کرام ہی سے رجوع کرے۔
مذکورہ بالا سوال کا جواب یہ ہے کہ محض عورت کے ناراض ہوکر میکے بیٹھنے، شوہر سے الگ رہنے یا حقِ زوجیت ادا نہ کرنے سے خود بخود کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، جب تک شوہر باقاعدہ بیوی کو طلاق نہ دےدے، نکاح بدستور قائم رہتا ہے۔ امامِ مسجد کا یہ کہنا کہ اتنے عرصے تک دور رہنے سے خود بخود ایک طلاق واقع ہوجائے گی، بہت بڑی جہالت پر مبنی ہے، اور جہالت میں ایسا کہنا خود بھی گمراہی اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کا سبب ہے، نیز اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ جب یہ معاملہ دوبارہ پیش آیا تو آپ نے اسی دین سے جاہل امام کے بتانے پر اُسے(یعنی میکے رہنے کو) دوسری طلاق شمار کیا ، حالانکہ ان دونوں صورتوں میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی۔
اس کے بعد تقریباً تین سال قبل آپ نے اپنی بیوی سے کہا: ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘، اور حلفاً اقرار کرتے ہیں کہ یہ الفاظ صرف ایک مرتبہ کہے تھے۔ لہٰذا آپ کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی۔ دورانِ عدت، یعنی تین حیض کے اندر، آپ کو رجوع کا اختیار تھا، لیکن مذکورہ امام کے کہنے (کہ نکاح ختم ہوگیا ہے اور حلالہ کرنا ہوگا) پر آپ نے رجوع نہیں کیا اور عدت گزرنے دی۔ حالانکہ اس صورت میں حلالہ کی شرعاً کوئی ضرورت نہ تھی۔شریعت میں حلالہ اس وقت ضروری ہوتا ہے جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے چکا ہو۔ ایک یا دو طلاقوں کی صورت میں دورانِ عدت رجوع کا اختیار ہوتا ہے، اور عدت گزرنے کے بعد بغیر حلالہ کے نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا جب آپ نے صرف ایک طلاق دی تھی اور عدت گزر گئی تھی تو آپ بغیر حلالہ کے نئے مہر کے ساتھ اپنی سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرسکتے تھے، اور اس صورت میں آپ کے پاس مزید دو طلاقوں کا اختیار باقی رہتا۔لیکن عدت گزرنے کے بعد تجدیدِ نکاح کرنے کے بجائے حلالہ کہہ کر قاری مظہر نامی شخص سے اس عورت کا نکاح کردیا گیا، پھر قاری مظہر نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔ لہٰذا قاری مظہر کے طلاق دینے اور عدت گزر جانے کے بعد آپ کا اس عورت سے دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے، چاہے قاری مظہر نے صحبت اختیار کی ہو یا نہ کی ہو، دونوں صورتوں میں۔ جب آپ اس سے نکاح کرلیں تو اگر صحبت اختیار کی گئی تھی تو آپ کے لیے آئندہ تین طلاقوں کا اختیار ہوگا، اور اگر صحبت اختیار نہیں کی گئی تھی تو دو طلاقوں کا اختیارہوگا۔
نوٹ: یہ فتویٰ سوال میں مذکورہ صورتِ حال کے مطابق جاری کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر سوال میں مذکورہ واقعات میں کسی قسم کی تبدیلی یا اختلاف پایا جائے تو یہ فتوی معتبر نہ ہوگا۔
دلائل و جزئیات :
جو بغیر علم کے فتوی یا مسئلہ کا جواب دیتے ہیں ان کے بارے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے :’’ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ أَفْتَى بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بغیر علم کے فتویٰ دیا، تو اس کا گناہ اسی شخص پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا، اور جو شخص اپنے بھائی کو کسی ایسے معاملے کا مشورہ دے جس کے بارے میں وہ جانتا ہو کہ درست اور بھلائی کی راہ اس مشورے کے علاوہ کسی اور میں ہے، تو اس نے اپنے بھائی کے ساتھ خیانت کی۔(مشکاة المسابیح ،ج:1،ص:81،المكتب الإسلامي بيروت)
اعلحضرت الشاہ امام احمد رضا خان اس بارے لکھتے ہیں :’’ جُھوٹا مسئلہ بیان کرنا سخت شدید کبیرہ (گناہ) ہے اگر قَصداً ہے تو شریعت پر افتراء(یعنی جھوٹ باندھنا) ہے اور شریعت پرافتراء اللہ عَزَّوَجَلَّ پرافتراء ہے ، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَایُفْلِحُوۡنَ ﴿ؕ69﴾ (پ 11 یونس 69)ترجمہ: وہ جو اللہ (عَزَّوَجَلَّ)پر جھوٹ باندھتے ہیں ان كا بھلا نہ ہوگا۔اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہِل پر سخت حرام ہے کہ فتویٰ دے ۔ ہاں اگر عالِم سے اِتِّفاقاً سَہو(بھول) واقِع ہوا اور اُس نے اپنی طرف سے بے اِحتِیاطی نہ کی اور غَلَط جواب صادِر ہوا تو مُواخَذَہ نہیں مگر فرض ہے کہ مُطَّلع ہوتے ہی فوراً اپنی خطا ظاہِرکرے، اِس پر اِصرار کرے تو پہلی شِق یعنی اِفتراء (جھوٹ باندھنا)میں آ جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاوٰی رضویہ، ج:23 ص:711،712، رضافائڈیشن )
عورتوں کا کئی عرصہ میکے بیٹھ جانے سے خود بخود کوئی طلاق نہیں ہوتی اس بارے اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃ الرحمن لکھتے ہیں :’’ یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ عورت بے اذن شوہر کے گھر سے نکل جائے تونکاح سے نکل جائے محض غلط ہے۔قال تعالٰی: واللاتی تخافون نشوزھن فعظوھنالایۃ۔ تخافون تعلمون ومن النشوز الخروج بلااذن۔جن عورتوں کی نافرمانی کا احساس کرتے ہو ان کو نصیحت کرو، الآیۃ، یہاں تخافون بمعنی تعلمون اور نشوزسے مراداجازت کے بغیر گھر سے نکلنا ہے۔ (ت)معاذاللہ اگرایسا ہو تو نکاح کی گرہ زنان ناقصات العقل والدین کے ہاتھ میں ہوجائے، جو عورت چاہے بے ارادہ شوہر سہل طور پر نکاح سے آزادی حاصل کرلے حالانکہ اللہ عزوجل نے نکاح کی گرہ مردکے ہاتھ میں رکھی ہے۔قال عزوجل: بیدہ عقدۃ النکاح یعنی الزوج فی قول علی وسعید بن المسیب وسعید بن جبیر وغیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔اسی (خاوند) کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ، سعیدبن مسیب اور سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہم نے خاوند مراد لیا ہے۔ اسی طرح عیاذاً باللہ عورت کے فسق وفجور سے بھی نکاح نہیں جاتا۔قال اللہ تعالٰی: واللاتی یأتین الفاحشۃ من نساءکم سماھن مع ذلک نسائھم،تمھاری بیویوں میں سے جو فحش کاری کی مرتکب ہو،اس میں ا س کے باوجود ان کو بیویاں فرمایا گیا ہےوقال جل وعلاوالذین یرمون ازواجھم ۴؎ الآیۃ الٰی قول تبارک وتعالٰی ویدرؤعنھا العذاب الآیۃاللہ عزوجل نے فرمایا: وہ لوگ جواپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں الآیۃ، اس عورت سے حد کو ساقط کرو، الآیۃ تک۔ (فتاوی رضویہ ،11،ص:313،314،رضا فاونڈیشن)
اگر تین طلاق سے کم طلاقیں دی جائیں، یعنی ایک یا دو، تو اسی شوہر کے لیے دورانِ عدت یا عدت گزرنے کے بعد بھی نکاح کرنا جائز ہے، تحلیلِ شرعی ضروری نہیں:’’ وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها» لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه «وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها‘‘.ترجمہ : ’’(اور جب طلاق تین سے کم بائن ہو تو شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ عدت کے دوران بھی اس عورت سے نکاح کرلے اور عدت گزرنے کے بعد بھی)؛ کیونکہ اس عورت کا اس شوہر کے لیے حلال ہونا ابھی باقی ہے، اس کے ختم ہونے کو تیسری طلاق کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، لہٰذا تیسری طلاق سے پہلے اس کا حلال ہونا ختم نہیں ہوتا۔ البتہ عدت کے دوران دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے ممانعت ہے، کیونکہ اس صورت میں نسب کے مشتبہ ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ پہلے شوہر کے لیے نکاح کرنے میں ایسا کوئی اشتباہ نہیں۔اور اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں یا لونڈی کو دو طلاقیں دی گئی ہوں تو وہ عورت پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کسی دوسرے شوہر سے صحیح نکاح نہ کرے، پھر دوسرا شوہر اس سے صحبت کرے، اس کے بعد اسے طلاق دے دے یا اس سے وفات پا جائے۔( الهداية في شرح بداية المبتدي، تابع كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:2،ص:257، دار احياء التراث العربي)
پہلے شوہر نے جب ایک طلاق دی اور عدت گزر گئی، پھر دوسرے مرد سے اس کا نکاح کر دیا جائے۔ دوسرا مرد اگر وطی کر لے، پھر طلاق دے، تو اس دوسرے مرد کی عدت گزر جانے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرے تو پہلے شوہر کو تین طلاقوں کا اختیار ہوگا۔ اگر دوسرے مرد نے وطی نہیں کی تو پہلے شوہرکو دو طلاقوں کا اختیار رہے گا۔اس بارے الاختیارلتعلیل المختار میں ہے :’’ (وَالزَّوْجُ الثَّانِي يَهْدِمُ مَا دُونَ الثَّلَاثِ)، وَصُورَتُهُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ طَلْقَةً أَوْ طَلْقَتَيْنِ وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا، وَتَزَوَّجَتْ بِزَوْجٍ آخَرَ وَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا الْأَوَّلُ عَادَتْ إِلَيْهِ بِثَلَاثِ طَلْقَاتٍ، وَهَدَمَ الزَّوْجُ الثَّانِي الطَّلْقَةَ وَالطَّلْقَتَيْنِ كَمَا هَدَمَ الثَّلَاثَ.ترجمہ : ’’اور دوسرا شوہر تین سے کم طلاقوں کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘ اس کی صورت یہ ہے کہ جب پہلے شوہر نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں، پھر اس کی عدت گزر گئی، اور اس عورت نے کسی دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا، اور دوسرے شوہر نے اس سے صحبت بھی کرلی، پھر اس نے اسے طلاق دے دی، اور اس عورت کی عدت بھی گزر گئی، اس کے بعد پہلے شوہر نے اس سے دوبارہ نکاح کرلیا، تو وہ عورت پہلے شوہر کے نکاح میں تین طلاقوں کے اختیار کے ساتھ واپس آئے گی۔ یعنی دوسرے شوہر نے پہلی ایک یا دو طلاقوں کو بھی اسی طرح ختم کر دیا جس طرح اس نے تین طلاقوں کو ختم کیا۔( الاختیار لتلیل المختار،ج:3،ص:351،مطبعة الحلبي – القاهرة)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28ربیع الاول 1448ھ/11ستمبر2026ء