ٹھیک ہے میں نے تمہیں طلاق دے دی کا حکم

    theek hai main ne tumhein talaq de di ka hukm

    تاریخ: 23 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 30
    حوالہ: 1789

    سوال

    لڑکی کو اس کے شوہر نے جھگڑے کے بعد ایک طلاق دے دی اب ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے اب اگر دوبارہ نکاح کروانا ہو شریعت کے اعتبار سے کیا حکم ہے ؟کیا دوبارہ اسی سے نکاح ہوسکتا ہے جس نے ایک طلاق دی ۔

    نوٹ :شوہر کی وائس بھیجی گئی اس میں شوہر نے یہ الفاظ بولے :’’اب میں جو کہہ رہا ہوں اس کو غور سے سننا اور اپنے گھر والوں کو بھی سنانا۔میں محمد انصار ولد محمد اسلم اپنی بیوی خدیجہ ولد عبدالغفار کو اپنے پورے ہوش و حواس میں ایک طلاق دیتا ہوں۔ٹھیک ہے خدیجہ، میں نے تمہیں ایک طلاق دے دی ہے۔ اب اگے دیکھو کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا؟ وہ تمہاری اپنی مرضی ہے۔لیکن اتنا یاد رکھنا جب میں ایک دے سکتا ہوں تو دوسری تیسری بھی دے سکتا ہوں۔صحیح ہے، ایک دینے کے لیے میں نے اتنا سوچا تو دوسری تیسری کے لیے نہیں سوچوں گا۔ٹھیک ہے، اپنا خیال رکھنا ‘‘۔شوہر سے رابطہ نہیں ہوا عورت کی عدت گزر گئی ہے ۔

    سائل:عثمان :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے:"میں محمد انصار ولد محمد اسلم، اپنی بیوی خدیجہ بنت عبدالغفار کو اپنے پورے ہوش و حواس میں ایک طلاق دیتا ہوں" ان الفاظ سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے۔ جس وقت شوہر نے طلاق دی، اسی وقت سے عورت کی عدت شروع ہو گئی۔ چونکہ یہ طلاقِ رجعی تھی، اس لیے شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل تھا، لیکن اس نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ تین حیض گزرنے سے عدت مکمل ہو گئی۔ عدت ختم ہوتے ہی یہ طلاقِ رجعی، طلاقِ بائن میں تبدیل ہو گئی اور نکاح ختم ہو گیا۔اب اگر عورت اپنے اسی سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو بغیر تحلیل شرعی کے، نئے ایجاب و قبول، نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ اس نئے نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

    نیز شوہر کےیہ الفاظ:"ٹھیک ہے خدیجہ، میں نے تمہیں ایک طلاق دے دی ہے۔"یہ نئی طلاق نہیں، بلکہ پہلے سے دی گئی ایک طلاق کی محض خبر اور اطلاع ہے، لہٰذا ان الفاظ سے کوئی نئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

    نوٹ: یہ جواب سوال میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق دیا گیا ہے، کیونکہ شوہر سے براہِ راست رابطہ نہیں ہو سکا۔ اگر سوال میں مذکور حقائق کے خلاف کوئی بات ہو یا بعد میں کوئی تبدیلی سامنے آئے، تو یہ جواب قابلِ اطلاق نہیں ہوگا۔

    اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے"اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ :ترجمہ کنز الایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔

    (البقرہ :۲۲۹)

    جب صریح الفاظ سے طلاق دی جائے تو اس سے رجعی طلاق واقع ہوتی ہے اور اس میں نیت کا اعتبار بھی نہیں کیا جاتا اس بارے مختصر القدوری میں ہے ’’ أنت طالق ومطلقه وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي ولا يقع به إلا واحدة وإن نوى أكثر من ذلك ولا يفتقر إلى النية۔ ترجمہ : تو طلاق والی یا تو مطلقہ ہے اور میں نے تمیں طلاق دی اس سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اور ایک ہی ہوتی ہے اگر چہ زیادہ کی نیت کرے اور نیت کی طرف محتاجی نہیں ۔( مختصر القدوری ،کتاب الطلاق، صفحہ :155،دار الکتب العلمیة)

    مطلقہ عورت کی عدت کے متعلق علامہ علاؤ الدین سمرقندی (المتوفی:540ھ) فرماتے ہیں ’’ وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن }۔ تر جمہ: طلاق کی عدت ان عورتوں کے حق میں جو حیض والی ہیں، تین حیض ہے، بشرطیکہ وہ آزاد ہوں۔ حاملہ عورت کے حق میں اس کی عدت بچے کی پیدائش ہے، اس میں مطلقہ عورت کے معاملے میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا ظاہر یہی ہے: "اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا بچہ جنم دینے تک ہے۔ ( تحفة الفقهاء،كتاب الطلاق، باب العدة،جلد:2،صفحہ:234، دا رالکتب العلمیة)

    طلاق رجعی عدت گزرنے کے بعد بائن ہو جاتی ہے اس بارے علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی :1252ھ) فرماتے ہیں:" والرجعی لا یزیل الملك الا بعد مضی العدۃ. ترجمہ : رجعی طلاق ملکیت کو زائل نہیں کرتی مگر عدت گزرنے کے بعد ملکیت کو ختم کر دیتی ہے ۔( رد المحتار ، کتاب الطلاق ،باب الرجعۃ ،ج:3،ص:441،دار الفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12صفر المظفر 1448ھ/27جولائی2026ء