غصہ میں تین طلاق کا حکم

    ghussa mein teen talaq ka hukm

    تاریخ: 22 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 51
    حوالہ: 1784

    سوال

    میرا نام مہرین رفیق ہے، میری عمر 40 سال ہے۔2019ء میں منصور الحق کے ساتھ میری منگنی ہوئی، اور 2023ء میں ہمارا نکاح ہوا۔منصور الحق پہلے سے ایک 60 سالہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ تھے اور کینیڈا جانے کے چکر میں اس خاتون سے شادی کی تھی۔ہمارے درمیان اکثر لڑائیاں ہونے لگیں، کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ وہ خاتون جادو کرواتی ہیں، اور انہوں نے کئی مرتبہ مجھے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ مجھے وہیل چیئر پر بٹھا دیں گی۔ ہمارا نکاح ہوچکا تھا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی، البتہ ہم تقریباً تین سال تک ملتے رہے۔ پھر میرے شوہر نے گزشتہ سال اپریل 2025ء میں شدید غصے کی حالت میں مجھے ایک طلاق دے دی۔ اس کے بعد نومبر 2025ء میں دوسری طلاق بھی غصے کی حالت میں دی، اور اب 10 جولائی 2026ء کو شدید غصے کی حالت میں فون پر ہی تیسری طلاق دے دی۔اب وہ اس بات کو نہیں مان رہے کہ طلاق ہوئی ہے، کیونکہ وہ شدید غصے میں تھے، اس لیے وہ طلاق کے وقوع کا اقرار نہیں کر رہے۔ میرے حساب سے تو طلاق واقع ہوچکی ہے۔ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں اور بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ نیز کیا مجھ پر کسی نے جادو کروایا ہوا ہے؟

    نوٹ: اگرچہ رخصتی نہیں ہوئی تھی، لیکن میاں و بیوی کے مابین جو ازدواجی تعلقات تھے وہ سب پائے گئے ۔ اس کے بعد شوہر نے پہلی مرتبہ اپریل 2025ء میں اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہہ کر ایک طلاق دی: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" پھر اس کے بعد رجوع کرلیا۔ اس کے بعد نومبر 2025ء میں دوبارہ یہی الفاظ، یعنی "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہہ کر دوسری طلاق دی، جس کے بعد بھی رجوع کرلیا۔

    سائلہ :مہرین رفیق


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب شوہر نے اپریل 2025ء میں ان الفاظ سے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" ایک طلاق دی تو اس سے ایک رجعی طلاق ہوگئی، اور اس کے بعد رجوع کرلیا تھا۔ اس کے بعد نومبر 2025ء میں دوسری طلاق دی، اس سے دوسری طلاق بھی ہوگئی، اور اس کے بعد رجوع کرلیا۔ پھر 10 جولائی 2026ء کو تیسری طلاق دی تو اس سے تیسری طلاق بھی ہوگئی۔ جب تین طلاقیں ہوچکی ہیں تو عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔یہ کہنا کہ غصہ میں طلاق دی اور غصہ میں طلاق نہیں ہوتی یہ سراسر غلط ہے اور لاعلمی و جہالت پر مبنی ہے؛ کیونکہ طلاق ہوتی ہی غصے میں ہے، کوئی بھی آدمی اپنی بیوی سے خوش ہو کر طلاق نہیں دیتا۔

    دلائل وجزئیات:

    تین طلاقوں کے بعد عورت مرد پہ حرام ہو جاتی ہے اس بارے اللہ عزّ و جل ّ کا فرمان مقدس ہے ’’فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه " ترجمہ کنز الایمان : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تواب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ (البقرہ:۲۳۰)

    تین طلاقوں سے عورت مرد پہ حرام ہو جاتی ہے اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے '' وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية'' ترجمہ :اگر تین طلاقیں آزاد عورت کو اور دو طلاقیں لونڈی کو ہوئیں تو عورت مرد کے لیے حلال نہیں جبکہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کرے اور دخول ہو پھر دوسرا مرد طلاق دے یا انتقال کر جائے اس طرح ہدایہ میں ہے ۔(الفتاوی الهندية، كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة،جلد:1،صفحة:473،دار الفکر بیروت)

    ایک دفعہ تین اکٹھی طلاقیں دینے ساتھ گناہ گا رہوتا ہے ’’ ’’(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا۔ ترجمہ: بدعی طلاق دو قسم کی ہوتی ہے: ایک وہ جو عدد کی وجہ سے بدعی ہو، اور دوسری وہ جو وقت کی وجہ سے بدعی ہو۔ جو عدد کی وجہ سے بدعی ہو، وہ یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دے، چاہے وہ ایک ہی کلمہ میں ہوں یا مختلف کلمات میں، یا دو طلاقیں ایک ہی طہر میں دے، چاہے وہ ایک کلمہ میں ہوں یا دو مختلف کلمات میں۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور وہ گناہ گار ہو گا۔(فتاوی ہندیہ ،کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، جلد:1، صفحۃ:349، مکتبہ رشيدية)

    اعلیحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن غصہ کی حالت میں طلاق دینے کے حوالے سے لکھتے ہیں: غصّہ مانعِ وقوعِ طلاق نہیں، بلکہ اکثر وہی طلاق پر حامل ہوتا ہے، تو اسے مانع قرار دینا گویا حکمِ طلاق کا راساً ابطال ہے۔ (فتاوی رضویہ،جلد12،صفحہ383،رضافاؤنڈٰیشن)

    والله تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمّد سجّاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:06ربیع الثانی 1448ھ/17ستمبر2026ء