قسطوں پہ موبائل فروخت کرکے دوبارہ کم قیمت پہ خریدنے کا حکم

    qiston pe mobile farokht karke dobara kam qeemat pe khareedne ka hukm

    تاریخ: 21 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 242
    حوالہ: 1778

    سوال

    میں موبائل قسطوں پر فروخت کرتا ہوں۔ خریداری مکمل ہونے کے بعد بعض اوقات کسٹمر اپنی مرضی سے کہتا ہے کہ میں یہی موبائل آپ لوگوں کو فروخت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ مارکیٹ نہیں جانا چاہتا۔ میری طرف سے پہلے سے کوئی شرط یا پابندی نہیں ہوتی۔ میرا اور میرے بھائی کا کاروبار مشترک ہے اور دکان بھی ایک ہی ہے۔ ایسے میں اگر میرا بھائی وہ موبائل خرید لے تو کیا یہ شرعاً جائز ہے۔

    نوٹ:کسٹمرکو جس قیمت پر دیا جاتا ہے واپس کسٹمر سے اس سے کم قیمت میں لیاجاتا ہے ۔

    سائل:ارشد عباس


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ موبائل قسطوں پر خریدنے والے شخص پر ابھی اس کی مکمل قسطیں ادا کرنا باقی ہوں ، کہ وہی شخص اسی موبائل کو آپ کے بھائی کے ہاتھ کم قیمت میں فروخت کرے تو اس طرح کی بیع کرنا ناجائز و فاسد ہے۔ اس طریقے سے حاصل ہونے والا نفع بھی طیب نہیں۔ لہٰذا جتنا نفع اس طریقے سے حاصل کیا گیا ہو، اسے بغیر ثواب کی نیت کے کسی شرعی فقیر کو دینا لازم و ضروری ہے۔آپ کا بھائی چونکہ آپ کے ساتھ اس کاروبار میں شریک ہے تو اس کاخریدنا آ پ کا خریدنا کہلائے گا۔

    دلائل وجزئیات:

    شراء ما باع باقل من الثمن الاول کے متعلق ام المومنین سیدتنا عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہکی روایت ہے :’’أخبرنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْريُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ امْرَأَتِهِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فِي نِسْوَةٍ، فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ، فَبِعْتُهَا مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمَائَةٍ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ اشْتَرَيْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ، فَنَقَدْتُهُ السِّتَّمِائَةِ، وَكَتَبْتُ عَلَيْهِ ثَمَانِمِائَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بِئْسَ وَاللهِ مَا اشْتَرَيْتِ! وَبِئْسَ وَاللَّهِ مَا اشْتَرَى! أَخْبِرِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صلی اللہ علیہ و الہ وسلم - إلَّا أَنْ يَتُوبَ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ إِنْ أَخَذْتُ رَأْسَ مَالِي وَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْفَضْلَ؟ قَالَتْ: ﴿فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى﴾ [البقرة: ٢٧٥] الْآيَةَ، أَوْ قَالَتْ: ﴿وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ﴾ [البقرة: ٢٧٩] الْآيَةَ‘‘.ترجمہ : حضرت اُمِّ یونس سے، یعنی ان کی اہلیہ عالیہ بنت اَیْفَع سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اُمِّ محبہ، جو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اُمِّ ولد تھیں، نے عرض کیا:اے اُمّ المؤمنین! کیا آپ حضرت زید بن ارقم کو جانتی ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہاں۔انہوں نے عرض کیا: میں نے حضرت زید بن ارقم کو ادھار کی مدت تک کی ادائیگی کے عوض آٹھ سو درہم میں ایک غلام کے طور پر فروخت کیا۔ پھر انہیں اس رقم کی ضرورت پیش آئی، تو میں نے مدت پوری ہونے سے پہلے ہی وہ غلام چھ سو درہم میں واپس خرید لیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے بہت برا سودا کیا اور بہت بری خریداری کی! زید کو بتا دو کہ اگر وہ توبہ نہیں کرتے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا اپنا جہاد ضائع کر دیا۔اُمِّ محبہ نے عرض کیا: اگر میں دو سو درہم چھوڑ دوں اور صرف چھ سو درہم لے لوں تو کیا یہ جائز ہوگا؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہاں۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ فَانۡتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ﴾(البقرۃ: 275)( المصنف عبد الرزاق ،كتاب البيوع، باب الوديعة،ج:8،ص:18،الناشر: دار التأصيل)

    اس کے متعلق درر الحکام میں ہے :’’شِرَاءُ مَا بَاعَ (بِالْأَقَلِّ) أَيْ بِأَقَلِّ مِمَّا بَاعَ (قَبْلَ النَّقْدِ) أَيْ قَبْلَ نَقْدِ الثَّمَنِ الْأَوَّلِ صُورَتُهُ اشْتَرَى جَارِيَةً بِأَلْفٍ حَالَّةٍ أَوْ نَسِيئَةٍ فَقَبَضَهَا ثُمَّ بَاعَهَا مِنْ الْبَائِعِ بِخَمْسِمِائَةٍ قَبْلَ نَقْدِ الثَّمَنِ الْأَوَّلِ فَسَدَ الْبَيْعُ الثَّانِي.ترجمہ : "شِرَاءُ مَا بَاعَ بِالْأَقَلِّ" یعنی جو چیز فروخت کی تھی، اسے اس قیمت سے کم قیمت پر واپس خریدنا، اور یہ خریداری پہلی قیمت ادا کرنے سے پہلے ہو۔اس کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک لونڈی ایک ہزار درہم میں نقد یا ادھار خریدی، پھر اس پر قبضہ بھی کرلیا۔ اس کے بعد پہلی خریداری کی قیمت ادا کرنے سے پہلے اسی لونڈی کو پہلے بیچنے والے کے ہاتھ پانچ سو درہم میں فروخت کردیا، تو دوسری بیع فاسد ہوگی۔( درر الحکام شرح غرر الاحکام ،ج:2،ص:172،الناشر: دار إحياء الكتب العربية)

    اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن شراء ماباع باقل من الثمن الاول کے بارے تفصیلا لکھتے ہیں :’’جائز ہے مگر ایک صورت میں کہ وہی نوٹ لے کر آئے اور پہلی قیمت سے کم کو بیچے تو یہ ناجائز ہے، لکونہ شراء ماباع باقل مما باع فان قلت ھو ثمن والاثمان لاتتعین فی العقود فلا یحکم بانہ یبیع ماشری قلت المناط ثمہ ایراد العقد علی عین ما ملکہ سابقا وھذا منتف عند عدم التعین اماھہنا فالمناط ان یعود الیہ عین ملکہ کما خرج قال فی التبیین فی تعلیل المسألۃ لان الثمن لم یدخل فی ضمان البائع قبل قبضہ فاذا عادالیہ عین مالہ بالصفۃ التی خرج من ملکہ وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقی لہ علیہ فضل بلا عوض فکان ذٰلک ربح مالم یضمن وھو حرام بالنص اھ ۱؎ وقال فی الفتح وہذا الان الثمن لایدخل فی ضمانہ قبل البقض فاذا عادالیہ الملک الذی زال عنہ بعینہ وبقی لہ بعض الثمن فہو ربح حصل لا علی ضمانہ من جہۃ من باعہ ۱؎ اھ ومثلہ فی سائر الکتب المعللۃ ومعلوم ان الاثمان لاسیما الاصطلاحیۃ وان لم تتعین فی العقود متعینۃ فی الملک قطعا فلیس للمودع ان یبدل دراہم الودیعۃ بدراہم من عندہ فعود ماملک کما خرج ثابت قطعا وعلیہ تدور رحی المنع کما علمت ھذا ماظہر لی وارجوان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی واعلم۔ترجمہ:کیونکہ یہ اپنی ہی فروخت کردہ شیئ کو اس قیمت سے کم پر خریدنا ہے جس پر اس نے فروخت کی تھی اور تو کہے کہ وہ ثمن ہے اور ثمن عقود میں متعین نہیں ہوتے چنانچہ یہ حکم نہیں لگایا جائے گا کہ وہ اسی چیز کو بیچ رہا ہے جس کو اس نے خریدا ۔ میں کہتاہوں کہ وہاں دارومدار عقد کے بعینہٖ اس چیز پر وار دکرنے پر ہے جس کا وہ سابق عقد میں مالک ہواا ور وہ عدم تعین کے وقت منتفی ہے لیکن یہاں دارومدار اس پر ہے کہ اس کا مملوک بعینہٖ اس کے پاس لوٹ آئے جیسے اس کی ملک سے خارج ہوا تھا، تبیین میں اس مسئلہ کی تعلیل یوں فرمائی کہ چونکہ ثمن قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوا اورجب اس کا مال بعینہٖ اس کے پاس لوٹ آیا اسی صفت کے ساتھ جس کے ساتھ اس کی ملک سے خارج ہوا تھا اور بعض ثمن بعض کا بدلہ ہوگئے تو اس کے لئے دوسرے پر کچھ زیادتی بلاعوض رہ گئی تو یہ نفع ہے اس چیز پر جو ابھی ضمان میں نہیں آئی، اور یہ نص سے حرام ہے اھ، فتح میں کہا یہ حکم اس لئے ہے کہ ثمن قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوتے پھر اس کی مملوک جواس کی ملکیت سے زائل ہوئی تھی بعینہٖ اس کی طرف لوٹ آئی اورا س کے بعض ثمن باقی رہے تویہ ایسا نفع ہے جو اس چیز پر حاصل ہوا جو اس کی ضمان میں نہیں اور اس شخص کی طرف سے حاصل ہوا جس کو اس نے یہ چیز بیچی تھی اھ اور اس کی مثل تمام تعلیل بیان کرنے والی کتابوں میں ہے، اور یہ معلوم ہے کہ ثمن خصوصا اصطلاحی ثمن اگر چہ عقود میں متعین نہیں ہوتے مگر ملک میں قطعی طور پر متعین ہوتے ہیں لہذا جس کے پاس امانت کے طور پر درہم رکھے گئے ہوں وہ ان کو اپنے پاس سے دوسرے درہموں سے بدل نہیں سکتا چنانچہ مملوک کا لوٹ کر آنا جیسا کہ وہ ملک سے خارج ہوا تھا قطعی طور پر ثابت ہوگیا اور ممانعت کی چکی اس پر گھومتی ہے جیسا کہ تو جان چکا ہے یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالٰی یہ درست ہوگا، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔

    ( فتاوی رضویہ ،ج:17،ص:621،622،رضافاونڈیشن)

    جب دونوں شریکوں میں سے ایک خریدے تو اس خریداری میں دوسرے کا بھی وکیل ہے۔اس بارے 'اللباب فی شرح الکتاب' میں ہے :’’ وكل واحدٍ منهما وكيل الآخر فيما يشتريه. ترجمہ :دوشریکوں میں سے ہرایک جس کو وہ خرید رہا ہے دوسرے کا وکیل ہے ۔( اللباب فی شرح الکتاب ،ج:2،ص:128، المكتبة العلمية، بيروت – لبنان)

    لہٰذا جب موبائل دوسرے بھائی نے خریدا، جو کہ شریک تھا، تو اس خریداری میں وہ اپنے بھائی کا بھی شریک ہوا جس نے موبائل فروخت کیا تھا۔

    بیعِ فاسد سے حاصل ہونے والا نفع مِلکِ خبیث ہے، لہٰذا اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دے۔ اس بارے صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:" کوئی چیز معین مثلاً کپڑا یا کنیزسوروپے میں بیع فاسد کے طور پر خریدی اور تقابض بدلین بھی ہوگیا، مشتری نے مبیع سے نفع اُٹھایا مثلاً اسے سواسومیں بیچ دیا اور بائع نے ثمن سے نفع اُٹھایا کہ اُس سے کوئی چیز خرید کر سواسو میں بیچی تومشتری کے لیے وہ نفع خبیث ہے صدقہ کردے اور بائع نے ثمن سے جو نفع حاصل کیا ہے اُ س کے لیے حلال ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ11،صفحہ 718، مطبوعہ :مکتبۃ المدینہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمّد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29ربیع الاول 1448ھ/11ستمبر2026ء