لے پالک بچے کی ولدیت کا مسئلہ

    le palak bachay ki waladiyat ka masla

    تاریخ: 24 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1206

    سوال

    1: میری اور میری بیوی نے ماموں سسر کا بیٹاپیدا ہوتے ہی گود لیا اب وہ 17 سال کا ہوگیا ہے، یہ شروع سے ہمارے پاس رہا اب اسکے شناختی کارڈ میں کس کا نام لکھا جائے گا ؟ اصلی والدین کا یا پھر گود لینے والے والدین کا۔

    2: اب اسکے والدین اسے ہم سے واپس مانگ رہے ہیں کیا انکا یہ تقاضا جائز ہے یا نہیں؟

    سائل:محمد جاوید: کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:لے پالک بچے کی ولدیت میں اسکے اصلی والدین کا نام لکھنا اور اسی سے پکارنا ضروری و لازم ہے،قال اللہ تبارک و تعالی :ادْعُوهُمْ لِآبائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۔ترجمہ: انہیں انکے پاپ ہی کا کہہ کر پکا رویہ اللہ کے نز دیک زیادہ ٹھیک ہے ۔(سورۃالاحزاب :5)

    اس آیت مبارکہ کے تحت احکا م القرآن للجصاص میں ہے: فیہ حظر اطلاق اسم الابوۃ من غیر جہۃ النسب۔ترجمہ :اس آیت مبارکہ میں ولدیت کی نسبت، نسبی والد کے علاوہ کی طرف کر نے کی ممانعت ہے۔(احکا م القرآن للجصاص قدیمی کتب خانہ ،ج:3 ص:521)

    چناچہ تفسیر مظہری میں ہے:فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك :ترجمہ:منہ بولا بنانے سے نسبی اولاد والے احکام ثابت نہیں ہونگے مثلا وراثت،نکاح وغیرہ کا حکم۔(تفسیر مظہری ، جلد 7 ص 234)

    2:ہمارے عرف میں جب کوئی کسی کو اپنی اولاد گود دیتا ہے تو دینے والے کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ اب اس بچے کی پرورش وغیرہ یہی کرے گا اور ہم واپس نہیں لیں گے اور لینے والا بھی اسی نیت و ارادہ سے لیتا ہے کہ اب اسکی پرورش و نگہداشت میں ہی کروں گا اور یہ میرے پاس ہی رہے گا ۔تو گویا اس تمام معاملہ کے ضمن میں بچہ عرفا واپس نہ لینے کا وعدہ ہوتا ہے۔ اور اَلْمَعْرُوْف کَالْمَشْرُوْط یعنی عرفاً ثابت شدہ بات ایسی ہی ہوتی ہے جیسے صراحتاً کہی ہو۔لہذا دینے والوں کو چاہیے کہ وعدہ کی پاسداری کرتے ہوئے بچے کی واپسی کا تقاضا نہ کریں۔لیکن اگر بچے کی پرورش مناسب طریقے سے نا ہورہی ہو تو واپس لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    اسکا یہ مطلب نہیں یہ بچہ حقیقی والد واپس نہیں لے سکتا بلکہ صرف اتنا ہے کہ والد نے اپنا حقِّ پرورش دوسرے کو دے دیا اور یہ حق دوسر ے کو دینے کے بعد واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔لیکن اس صورت میں وہ وعدہ خلافی کرنے پر اللہ سے معافی مانگیں اور باہم محبت کی فضا میں اس معاملے کو حل کریں۔

    یہ سب اس وقت ہے جبکہ بچہ نابالغ ہو ، اگر بالغ ہو تو اب حقیقی والدین کے پاس رہنے یا لے پالک کے پاس رہنے کا اختیار اسی بچے کا ہے ۔ جہاں چاہے وہیں رہے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 ذیقعدہ 1441 ھ/26 جون 2020 ء