سوال
میری بیٹی خدیجہ شاکر کی شادی ریحان احمد سے ہوئی ، بعد ازاں ریحان احمدنے میرے گھر پر طلاق نامہ بھیجا ۔( طلاق نامہ منسلک ہے جس میں تین طلاقیں واضح ہیں۔)
اس تناظر میں چند سوالات ہیں :
1: میں نے اپنی بیٹی کاجہیز واپس لینے کا کہا تو انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیااور تقریباً تیسرے دن میرے واٹساپ پر پیغام بھیج دیا۔(اسکا اسکرین شارٹ لف ہے) جس کے مطابق انہوں نے کہاکہ پہلے یہ سامان بمع اخراجات واپس کرو ،اسکے بعد جہیز کا سامان اٹھانے دیں گے، کیا انکا یہ تقاضا قرآن و حدیث کی رُو سے درست ہے یا نہیں؟
2: حق مہر کی رقم 50 ہزار روپے عندالطلب مقرر کی گئی تھی ، لیکن جب بھی طلب کیا تو لڑکی کی والدہ نے کہا کہ تمہیں جو سونے کا سیٹ ہم نے دیا ہے وہ بھی پیسوں کا ہی ہے اس میں سے ایڈ جسٹ کرلینا، کیا ایسا کرنا درست ہے جبکہ شرائط نامہ میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔
3: جب ہم ان کے گھر گئے تو انہوں نے منع کردیا کہ واپس اپنے گھر جاؤ ہم نے رشتہ ختم کردیا ہے کاغذات گھر پہنچ جائیں گے، میری بیٹی سے کہا کہ یہ جو انگوٹھی پہنی ہے واپس کرو اور اپنا حق مہر لے لو، لہذا بچی کے طلب کرنے کے ایک ماہ ایک دن بعد وہ حق مہر بچی کو ادا کیا۔ کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
4: جہیز کے سامان کی لسٹ یہ ہے:
بیڈ ایک عدد، سائڈ ٹیبل دو عدد، ڈریسنگ ایک عدد، شوکیس ایک عدد، الماری تین خانوں والی،3سوٹ بیٹی کے، میک اپ کا سامان، دو عدد شالیں، ایک عدد قرآن پاک ، ایک عدد جائے نماز، دس عدد مردانہ کپڑے جو لڑکے والوں کے رشتہ داروں اورگھر والوں کو دیئے۔ چھ عدد خواتین کے سوٹ جو لڑکے کی ماں اور بہنوں کے لئے دیئے۔
کیا یہ سامان ہم شرعی طور پر لینے کے روا دار ہیں یا نہیں؟ نیز سونے کا ایک سیٹ جو لڑکے والوں نے شادی کے وقت میری بیٹی کو تحفۃً دیا تھا وہ انہی کے پاس ہے کیا ہم اسکا تقاضا کرسکتے ہیں یا نہیں؟
سائل:محمد اشرف شاکر: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: اسکرین شاٹ میں موجودمیں تمام چیزوں کا تقاضا شرعاً بے جا و بے اصل اور اخلاقی اصولوں کے قطعاً منافی ہے۔ ان اخراجات میں کوئی بھی ایسا نہیں جو لڑکی کے تقاضے یا جبر کرنے پر خرچ کیا ہوا بلکہ اصلاً لڑکے اور اسکے گھر والوں نے برضائے خود خرچ کیا تو لڑکی کے اہلِ خانہ سے اسکا تقاضا کیونکر جائز ہوگا؟
2،3،4: ان تمامشقوں کے جوابات سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ فریقین (شوہر و بیوی) کے باہمی لین دین کی چار صورتیں متحقق ہیں ۔ہر ایک صورت کا جواب درج ذیل ہے:
1:جہیز کی صورت میں لڑکی کو ملنے والا سامان:جو سامان لڑکی کو اس کے گھر والوں کی طرف سے جہیز کی صورت میں ملا ہے ۔وہ تمام سامان لڑکی کی ملکیت ہے۔اس میں کسی اور کا حق نہیں۔لہذا شوہر پر بعد از طلاق وہ تمام سامان واپس کرنا ضروری و لازم ہے۔
ردالمحتارمیں ہے: كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها۔ترجمہ: ہرایک جانتاہےکہ جہیزعورت کی ملکیت ہےلہذا جب شوہراسے طلاق دیدے تووہ تمام جہیزلے لے گی اورجب عورت مرجائے توجہیزمیں وراثت جاری ہوگی۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:3،ص:158،دارالفکر بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:203،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی رضویہ میں ایک اورمقام پرہے: زیور، برتن، کپڑے وغیرہ جوکچھ ماں باپ نے دختر کودیاتھا وہ سب ملک دخترہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:26،ص:211،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
2: شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے جو سامان اور زیورات وغیرہ لڑکی کو دیئے گئے:اس کی درج ذیل تین صورتیں ہے:
(1):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً (واضح طور پر)لڑکی کو سامان اور زیورات دیتے وقت مالک بناتے ہوئے قبضہ دیا تھا۔
(2):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً لڑکی کو سامان اور زیورات عاریتاً (یعنی عارضی استعمال کیلئے) دئیے تھے۔
(3):شوہر یا اس کے گھر والوں نے دیتے وقت کچھ بھی نہیں کہا۔
پہلی صورت میں لڑکی سامان اور زیورات کے ہِبہ کیے جانے کی وجہ سے مالکہ ہے، اسی کو یہ سب دیا جائے گا۔ دوسری صورت میں جس نے دیا وہی مالک ہے۔ وہ واپس لے سکتا ہے اور تیسری صورت میں شوہر کے خاندان کا رواج دیکھا جائے گا۔ اگر وہ لڑکی کو ان اشیاء کا مالک بناتے ہیں تو لڑکی کو دیا جائے گا ورنہ وہ حقدارنہیں اس سے واپس لیا جا سکتا ہے۔
امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کردیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
3:لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کو ملنے والا سامان:لڑکے کو جو سامان لڑکی والوں کی طرف سے ملتا ہے ۔مثلاً گاڑی ،بائیک ،سونا وغیرہ ، عرف عام یہی ہے کہ لڑکے کو ہبہ کی جاتی ہیں۔یعنی لڑکے کی طرف سے قبضہ ہونے کے بعد وہ چیز لڑکے کی ملک ہوجاتی ہے۔اور ہبہ کی واپسی سے کوئی مانع نہ پایا جائےتو قاضی کی قضا یا لڑکے کی رضا مندی سے واپس لینے کا اختیار ہے۔ لیکن واپس لینا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ اورشرعاًنہایت قبیح فعل ہے ، جسےحدیث پاک میں کُتّے کےقےیعنی اُلٹی کرکےاُسے چاٹ لینے سے تعبیرکیاگیا ہے۔اگر کسی نے گفٹ کی ہوئی چیز زبردستی چھین لی ، تو یہ شخص اُس گفٹ کی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ جس کو گفٹ دیا تھاوہ چیز اسی کی ملکیت میں باقی رہے گی ۔اور اس کے تمام تصرفات ،ملکِ غیر میں تصرف کرنا کہلائے گا۔
بخاری شریف میں ہے:نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: العائد في هبته كالکلب یقی ءثم یعود في قيئه ترجمہ: اپنے ہبہ سے رجوع کرنے والااس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے پھر چاٹ جاتا ہے ۔(صحیح البخاری،رقم:2589)
فتاوی رضویہ میں ہے:اگر موانع رجوع نہ ہوں جب بھی رجوع کا خود بخود اختیارنہیں ہوتا بلکہ یا تو موہوب لہ (جس شخص کو گفٹ دیا گیا ہو اس ) کی مرضی سے ہبہ واپس کر لے یا نالش کر کے بحکم حاکم رجوع کرے ،اس کے بعد دوسرے کو ہبہ کر سکتا ہے بغیر اس کے وہی ملک غیر کا ہبہ ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:332،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شادی کےوقت سُسرال سےملنے والےجوڑے کےمتعلق امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں: شوہر کا جوڑا ادھر سےآتا ہےبعد قبضہ قطعاً مِلک شوہر ہو جاتا ہے کہ لوگ اُس سےتملیک ہی کا قصد کرتے ہیں وذٰلک واضح لاخفاء بہ۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12، ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی رضویہ میں سُسرال کی جانب سےملنے والےجوڑے کی واپسی کے بارے میں لکھاہے: اگرجوڑا مِلکِ شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلاً والدینِ زن نے بنایا تو اُن سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو، یا مالِ زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یاقاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانابحکمِ عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے،نہ ایک دوسرے کے عوض میں، ولہذا اگر ایک جا نب سے مثلاً بوجہ افلاس جوڑا نہ آئے تو بھی دوسری طرف والے بھیجتے ہیں تو عوض صریح کہ موانع رجوع سے ہے متحقق نہیں، پھر دُولہاکی جانب سےبری میں ہرگز اُس جوڑے کا خیال نہیں جودُولہا کو ملتا ہے بلکہ محض ناموری یا وہی کثرتِ جہیز کی طمع پروری، بہر حال یہ ہبہ معاوضہ سے خالی ہے تو بشرائط مذکورہ دُلہن والوں کو رجوع کا اختیار،مگر گنہگار ہوں گےاس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی مِلک سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی۔(ملتقطاً ازفتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:204،205،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ہاں اگر کوئی چیزدیتے وقت صراحتاً کہہ دیا تھا کہ بطور عاریت دے رہے ہیں یا اپنی بیٹی کی ملک کر رہے ہیں ۔تو اس صورت میں لڑکا مالک نہیں ہوتا۔
4:لڑکی و الوں کی طرف سے لڑکے کی ماں کو ملنے والا سامان:جب لڑکی والوں نے لڑکے کی ماں کو زیور دے دیااور انھوں نے اس پر قبضہ کرلیا تو اب یہ زیور ان کی ملک ہوگیا۔اور ہبہ کی واپسی سے کوئی مانع نہ پایا جائےتو قاضی کی قضا یا لڑکے کی ماں کی رضا مندی سے واپس لینے کا اختیار ہے۔ لیکن واپس لینا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ اورشرعاًنہایت قبیح فعل ہےجیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔
فتاوی رضویہ میں ہے: اگر وہ شخص اس کا ذی رحم محرم نہیں یعنی نسب کے رو سے ان میں باہم وہ رشتہ نہیں جو ہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کا موجب ہوتاہے جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، بیٹا ، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، بھائی، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، نہ یہ واھب وموہوب لہ وقت ھبہ باہم زوج وزوجہ تھے، نہ موہوب لہ وقت ہبہ فقیر تھا، نہ اب تک موہوب لہ اس ھبہ کے عوض میں کوئی چیز یہ جتا کرواہب کود ے چکا ہے کہ یہ تیرے ہبہ کا معاوضہ ہے، نہ اس عین شیئ موہوب میں کوئی ایسی زیادت موہوب لہ کے پاس حاصل ہوئی اور اب تک باقی ہے جس سے قیمت بڑھ جائے جیسے زمین میں عمارت یا پیڑ یاکپڑے میں رنگ یا جاندار میں فربہی یاکنیز میں حُسن یا اسے کوئی صنعت یا علم آجانا تو ان سب شرائط کے ساتھ جب تک وہ شے موہوب اس موھب لہ کی ملک میں باقی وقائم اور واہب وموہوب لہ دونوں زندہ ہیں اگرچہ ھبہ کو سو برس گزر چکے ہوں واپس لینے کا اختیار ہےبایں معنی کہ یا تو موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہوجائے یا یہ بحکم حاکم شرع واپس کرالے ورنہ آپ جبرا لے لینے کا کسی غیر حاکم شرعی کے حکم سے واپس کرانے کا اصلا اختیار نہیں یونہی اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی بھی کم ہے توواپسی کا مطلقا اختیار نہ ہوگا، پھر یہاں اختیار کا صرف اتنا حاصل کہ واپسی صحیح ہوجائے گی لیکن گناہ ہرطرح ہوگا کہ دے کر پھیرناشرعا منع ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی مثال ایسی فرمائی جیسے کتا قے کرکے چاٹ لیتاہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:198،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
جوابات:
2: اگر یہ سونے کا سیٹ دیتے وقت صراحتاً لڑکی کو مالک بنا دیا تھا یاخاندان کے رواج کے مطابق لڑکی مالک سمجھی جاتی ہے تو شوہر کی ماں کا یہ کہنا لغو ہے کہ اس میں سے ایڈ جسٹ کرلینا کہ جب لڑکی مالک ہوگئی تو اس میں کسی کا حق باقی نہ رہا۔ اور اگر عاریتاً دیا یا خاندان میں کے رواج کے مطابق لڑکی مالک نہیں سمجھی جاتی تو اب لڑکی اس سیٹ میں سے مہر کی رقم منہا کر سکتی ہے۔
3: جب لڑکی نے مہر طلب کیا تو چاہیے تھا فوراً دیا جاتا تاخیر کرنااسکے حق کو روکے رکھنا تھا جوکہ شرعاً ممنوع ہے۔
4: مذکورہ بالا تفصیل ہے واضح ہے کہ یہ سامان لینا آپکا حق ہے اور ان پر جہیز کا سارا سامان دینا لازم و ضروری ہے بصورتِ دیگر سخت گنہ گار مستحقِ عذاب ِنار و مالِ ناحق کھانے والوں میں شمار ہونگے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:03 ذوالقعدہ 1444 ھ/24 مئی 2023 ء