سوال
میری شادی کو پانچ سال ہوچکے ہیں اس دوران میں بیوی کو دو بار طلاق دے چکا ہوں ۔ پھر ایک دن لڑائی کے دوران جب بیوی مسلسل طلاق مانگ رہی تھی میں نے بیوی کو کہا کہ میں تمہیں طلا۔۔۔ اس کے بعد خاموش ہوگیا ؟ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔
سائل:ریحان ضیاء: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں ذکرکیا گیا تو اس صورت طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ صرف لفظ طلا۔۔۔ کہنا ہمارے عرف و عادت میں طلاق واقع کرنے کے لئے معتاد و مستعمل نہیں ہے لہذا اگر چہ نیت بھی کرلے تب بھی طلاق واقع نہ ہوگی۔
چناچہ مجدِّدِ اعظم ، اعلٰی حضرت،امامِ اھلِسنّت، مجدّدِ دین وملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن جد الممتار علی ردالمحتار میں فرماتے ہیں :قال فی الخانیۃ وقال الفقیہ ابو القاسم –رحمہ اللہ تعالٰی-:لو ان عجمیا قال ذلک بالفارسیۃ وحذف حرف الاخر لایقع وان نوٰی لانہ غیر معتاد فی العجم ۔ترجمہ: خانیہ میں فرمایا کہ ابوالقاسم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عجمی الفاظ طلاق کہے اور آخری حرف حذف کردے تو طلاق واقع نہ ہوگی اگر چہ طلاق کی نیت کرے کیونکہ عجمی زبان میں (آخری حرف کو حذف کرکے استعمال کرنا ) معتاد نہیں ہے۔(جد الممتار علی ردالمحتار،جلد 5 ص 91،دار اہل السنہ)
لیکن یا رہے کہ سائل چونکہ سائل پہلے دو طلاقیں دے چکا ہے لہذا اسکے پاس آئندہ محض ایک طلاق کا حق باقی رہے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 صفر المظفر 1441 ھ/09 اکتوبر2019 ء