تو میری طرف سے فارغ ہے
    تاریخ: 28 جنوری، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 682

    سوال

    لڑکی کا بیان:تو میری طرف سے فارغ ہے، ایک دو تین کل آکر فیصلہ کردونگا۔

    بیوی کی ماں کا بیان: میں نے فارغ کردیا ہے، ایک دو تین، کل آکر فیصلہ کرونگا۔

    لڑکے کا بیان:میں جارہا ہوں ابو کے گھر ہوکر آؤں گا ایک دو تین کردونگا۔

    سائل:ساجدعلی: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مرد کے اعتبار سے حکم:

    صورتِ مسئولہ میں اگر مرد حلفیہ اقرار کرلے کہ اس نے صرف یہی الفاظ '' میں جارہا ہوں ابو کے گھر ہوکر آؤں گا ایک دو تین کردونگا'' کہے تھے تو اسکی بات معتبر مانتے ہوئے عورت کو قضاءً (یعنی قا ضی اور لوگوں کے نزدیک ) کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

    لیکن یاد رہے کہ یہ حکم قضاءًہے یعنی ظاہری صورت حال کے مطابق ہے ، البتہ اگرشوہر نے مذکورہ الفاظ ِ طلاق ادا کئے تھے پھر بعد میں حلفاً کہہ دیا کہ یہ الفاظ نہیں تھے تو دیانۃً (یعنی بندے اور خدا کے درمیان جو معاملہ ہے اسکے مطابق) ایک طلاق واقع ہوگئی ۔ اور اس جھوٹ کا وبال شوہر پر ہی ہے۔

    تفصیل اس امر کی یہ ہے کہ

    مذکورہ صورت حال میں میاں بیوی کا الفاظِ طلاق میں اختلاف ہے ، شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ کہے کہ '' میں جارہا ہوں ابو کے گھر ہوکر آؤں گا ایک دو تین کردونگا ''جبکہ عورت کا کہنا ہے کہ شوہر کے الفاظ یہ تھے کہ '' میں نے فارغ کردیا ہے، ایک دو تین کل آکر فیصلہ دونگا''۔یہاں عورت مدّعیہ اور مرد مُنکر ہے ، کیونکہ عورت دعوٰی کررہی ہے کہ مرد نے ان الفاظ (میں نے فارغ کردیا ہے، ایک دو تین) کے ذریعے طلاق دی ہے تو اس پر گواہ دینا لازم ہے ، لہذا اس پر گواہ دینا لازم ہے ، لیکن یہاں عورت کے پاس گواہ نہیں ہیں ،کہ ماں کی گواہی اس لڑکی کے حق میں مسموع نہیں ، سو لامحالہ یہاں مرد کی بات حلف کے ساتھ معتبر ہوگی۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :بحالتِ اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو گواہ عادل شرعی شہادت بروجہِ شرعی اداکریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلّقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلاً مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اُس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    عورت کے اعتبار سے حکم:

    اگرعورت کو کامل یقین ہے کہ اس نے مرد کہ منہ سے یہ الفاظ(تو میری طرف سے فارغ ہے) اپنے کانوں سے سنے ہیں اور اس میں اسے کوئی شک نہیں توان الفاظ کے ذریعے عورت کو دیانۃً (یعنی اللہ تعالی اور بندے کے درمیان جو معاملہ ہےاس کے مطابق )محض ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگی۔ اور اس صورت میں بھی مرد کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے، بعد از رجوع دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔ طلاق رجعی کا شرعی حکم یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے عدت کے اندربغیرنکاح کے رجوع کرسکتا ہے،اوراگرعدت کے اندررجوع نہ کیا جائے تو عدت گزرتے ہی عورت نکاح سے نکل جاتی ہے پھرعدت کے بعد عورت کی رضامندی سے نکاح کے ذریعے رجوع ہوسکتا ہے۔یادر ہے کہ رجوع کے بعد آئندہ شوہر کو فقط دو طلاق کا حق ہو گا۔

    عورت کے بیان میں ذکر کردہ الفاظ '' ایک دو تین کل آکر فیصلہ کردونگا '' ان الفاظ کے ساتھ طلاق کا کوئی قرینہ موجود نہیں اور بظاہر ان کا تعلق اگلے جملے سے ہے لہذا یہ بھی الفاظ مفیدِ طلاق نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہیں ۔

    تفصیل:وہ میری طرف سے فارغ ہے،اور اس جیسے الفاظ بابِ طلاق میں صریح کا درجہ رکھتے ہیں لہذا اگر شوہر یہ الفاظ ایک بار کہہ چکا ہے تو عورت کو ان الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی پڑ جائے گی جسکے فوراً بعد عورت پر عدت لازم ہوچکی ہے ۔عدت تین حیض ہے ، حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ اور اگر عورت حاملہ ہو تو جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے اس وقت تک عدت ہے۔

    وہ میری طرف سے فارغ ہے اور اس جیسے الفاظ فی زمانہ صریح ہیں اس سلسلے میں فقیہ العصر ، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اپنے مبسوط فتوٰی بنام ''طلاق کےالفاظ صریح وکنایہ پرایک مبسوط فتوى'' میں فرماتے ہیں:ہمارے نزدیک اردو زبان کے الفاظ '' میں نے تمہیں فارغ کیا '' یا ''تم میری طرف سے فارغ ہو'' کی وضع طلاق کے لئے نہیں ہے اس لئے فقہاء کرام نے انہیں کنایہ شمار فرمایا تھا۔لیکن بحکمِ مقدمہ خامسہ پاکستان کے اکثر شہروں میں یہ الفاظ طلاق کے لئے کثیر الاستعمال ہونے اور عرف و عادت کی وجہ سے ملحق بالصریح ہیں ۔کیونکہ آک کل جب بھی کوئی شخص یہ الفاظ بولتا ہے تو بغیر کسی قرینہ خارجیہ کے متبادر الی الفہم طلاق کے معنٰی ہی ہوتے ہیں ۔لہذا بحکمِ مقدمہ اولٰی ان الفاظ سے ہر حال میں بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی۔اور ایک سے زائد بار بولنے کی صورت میں پہلے والی دوسری کو لاحق ہو گی۔اور تین بار بولا تو طلاق بائنہ مغلظہ وقوع پذیر ہوگی۔(ماخوذ از وسیم الفتاوٰی، حوالہ نمبر 7382 غیر مطبوعہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 صفر المظفر 1445ھ/ 02 ستمبر 2023 ء