سوال
میرے بیٹے دانیال کی ایک لڑکی سے دوستی ہے اور ابھی تک ہے ، آج سے تین سال پہلے وہ اس لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا تھا جس کے بعد اسکے والد ہمارے گھر لڑنے آئے اور میرے بیٹے سے قرآن پر ہاتھ رکھوا کر قسم دلوائی کہ تم بولو یہ میری بہن ہے ، دانیال نے قسم کھالی ۔ پھراس کے والد کاکرونا سے انتقال ہوگیا۔ اب بھی وہ لڑکی چھپ کر میرے لڑکے سے باتیں کرتی ہے اور میرا لڑکا بھی کرتا ہےلڑکے کا کہنا ہے کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ، لیکن ہم قرآن سے ڈرتے ہیں مولوی صاحب کا یہ کہنا ہے یہ رشتہ نہیں ہوسکتا آپ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:سعدیہ قاسم : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت کا حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر لڑکے نے قرآ ن مجید پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا ہی کہا کہ یہ میری بہن ہے ،تو یہ صورت شرعا ًقسم یا حلف کی صورت نہیں ہے ۔ لہذا لڑکے پر کسی قسم کا کوئی کفارہ لازم نہ آئے گا ۔اور نہ ہی ایسا کرنے سے لڑکی اس کے لئے حرام ہوگی، بلکہ اس لڑکی سے بدستور نکاح کرنا جائز و حلال ہے۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے قسم یا حلف کے لئے الفاظِ قسم ہونا ضروری ہے مثلا یوں کہ میں قسم کھاتا ہوں یا حلف اٹھاتا ہوں، لہذا جب فقط ہاتھ رکھ کر ایسے الفاظ کہے جس میں الفاظِ قسم نہ ہوں جیساکہ صورتِ مسئولہ میں ہے تو وہ شرعا قسم نہ ہوگی، سو جب شرعاً قسم نہ ہوگی تو اسکا کفارہ وغیرہ کیونکر ہوگا۔۔۔؟؟
سیدی اعلیٰ حضرت ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :مصحف شریف ہاتھ میں لے کر اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظاًحلف و قسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگا مثلاً کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایسا کروں گااور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا۔(فتاویٰ رضویہ جلد 13ص575رضا فاؤنڈیشن لاہور)
البتہ قرآن کو بطورِ حلف اٹھا نا جائز ہےیا نہیں ؟ تو بہتر یہی ہے کہ قرآن کو بطورِ حلف نہ اٹھایا جائے کیونکہ قرآن لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے نازل کیا گیا ہے نہ کہ قسم وغیرہ اٹھانے کے لئے، قال اللہ تعالیٰ ذلک الکتاب لاریب فیہ ہدی للمتقین۔ترجمہ : یہ وہ شان والی کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں یہ پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے ۔(البقرہ:2)
وقال ایضاَ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس۔ترجمہ: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔(البقرہ:185)
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت قسم نہیں ہے اور نہ ہی اس فعل کی وجہ سے وہ لڑکی حقیقتاً اس لڑکے کی بہن بن جائے گی کہ اس سے نکاح اور رشتہ حرام ہوجائے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 محرم الحرام ا1444 ھ/23 اگست 2022 ء