سونے اور ادھار رقم کی سات سالہ زکوٰۃ کا شرعی حکم
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 852

    سوال

    مفتی صاحب السلام علیکم

    2گولڈ سیٹ ڈھائی تولہ کے اور 50ہزار رقم کیش ادھار پر دی ہوئی تھی،فروخت ہونے پر جو رقم مل رہی ہے وہ دو لاکھ بیس ہزار ہے۔اس پر کتنی ذکوۃ ہوگی؟؟ 7سال کی زکوۃ بتائیں؟؟نیز سونے پر سے کھوٹ ہٹاکر زکوۃ نکالیں یا پھر کھوٹ کے ساتھ ہی زکوۃ نکالنی ہوگی؟؟


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سونے کا نصاب یعنی سونے کی وہ مقدارجس پر زکوۃ لازم ہوتی ہے ،بیس مثقال یعنی ساڑھے سات تولہ ہے اور چاندی میں دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے۔اگر اتنے مال پر سال گزر جائے تو اس مال پر زکوۃ لازم ہے یعنی اسکا چالیسواں حصہ دینا لازم ہے۔

    سنن ابی داؤد کتاب الزکوۃ باب زکاۃ السائمۃ ج 1ص143حدیث نمبر1573:عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ، فَمَا زَادَ، فَبِحِسَابِ ذَلِكَ»حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوجائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں سے پانچ درہم زکوۃ ہے اور جب تمہارے پاس بیس دینار ہوجائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں سےنصف دینار زکوۃ ہے۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار کتاب الزکوۃ باب الاموال ج2 ص295میں ہے:نِصَابُ الذَّهَبِ عِشْرُونَ مِثْقَالًا وَالْفِضَّةِ مِائَتَا دِرْهَمٍ ترجمہ: سونے کا نصاب بیس مثقال (ساڑھے سات تولہ )ہے اور چاندی کا نصاب دوسو درہم ( ساڑھے باون تولہ) ہے۔

    لیکن اگر کسی کے پاس سونا ہے جو نصاب کی مقدار کو نہیں پہنچتا لیکن اسکے پا س سونے علاوہ کچھ رقم بھی ہے تو اس رقم کو اور سونے کی ملا کردیکھیں اگر چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے تو اس پر زکوۃ لازم ہے ۔اور اس صورت میں بھی آپ کے پاس ڈھائی تولہ سونا ہے اور اسکے علاوہ پچاس ہزار روپے(50000) ہیں جو آپ نے ادھار دئیے ہوئے تھے ، اور وہ چاندی کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زائد ہیں اس طرح کہ ایک تولہ چاندی کی قیمت اس وقت 780روپے ہے تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت40950روپے ہوئی،لہذا آپ پر مجموعی رقم 270000یعنی 2لاکھ 20ہزار روپے سونے کی قیمت جو فروخت کرنے پر مل رہی ہے اور 50ہزار روپے جو آپ نے ادھار دئیے تھے اس مجموعی رقم کا چالیسواں حصہ ادا کرنا ہوگا اور اسکا چالیسواں حصہ 6750ہے۔

    اور گزشتہ سات سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کے طریقہ کے بارے میں مفتی اعظم پاکستان ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں،

    فرض کریں کہ دس سال پہلے اس کے پاس ایک لاکھ روپے کی مالیت تھی تو اس پر ڈھائی ہزار روپے زکوۃ واجب ہوئی ، اگلے سالاگر اسکی مالیت میں اضافی نہیں ہوا تو قابل زکوۃ مال 97500روپے ہوگا، علی ہذاالقیاس ہرسال کاحساب ہوگا لیکن بظاہر مالیت بڑھتی رہتی ہے ۔ گزشتہ سالوں کا نہایت احتیاط کے ساتھ اسے حساب لگانا چاہیے اور بازاری قیمت کا تعین کرنا چاہیے اور احتیاطا کچھ زیادہ دینا چاہیے ، اگر کچھ زیادہ گئی تو اس کا اجر ملے گا لیکن اگر اس نے اپنے اوپر عائد زکوۃ سے کم رقم ادا کی تو اس کی جواب دہی ہوگی(تفہیم المسائل جلد 6ص161)۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:مفتی محمد عمران شامی صاحب

    تاریخ اجراء: 18جمادی الثانی 1439ھ