سوال
مجھے میرے شوہر رمیز نے ان الفاظ سے طلاق نامہ پر طلاق بھجوائی ''میں رمیز ولد عبدالستار اللہ اوراسکے رسول کو حاضر ناضر جان کر فلک ناز ولد محمد حسین کو ایک طلاق بھجوا رہا ہوں''آپ رہنا نہیں چاہتیں تو مجھے Return میں جواب چاہیے۔کیا میری طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟ اگر ہوگئی تو رجوع کی کیا صورت ہوگی ۔(طلاق نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے)
سائل:فلک ناز :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ان الفاظ سے کہ ''ایک طلاق بھجوا رہا ہوں ''ایک طلاق واقع ہوگئی۔ جس کےبعد عورت عدت شمار کرے۔شوہر عدت کے دوران اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے، اگر عدت گزر جائے تو بھی نئے نکاح اور نئے مہر کے ساتھ (بغیر حلالہ)دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں ۔لیکن آئندہ محض دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔
عدت کے دوران رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہہ دیں کہ میں رجوع کرتا ہوں یا عورت سے میاں بیوی والے معاملات کرلیں خواہ شہوت سے چھونا ہی کیوں نہ ہو۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ) كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا ، أَوْ نَائِمًا (ملخصا): ترجمہ: اور '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''جیسے الفاظ کے ساتھ رجوع درست ہے ، اور ہر اس فعل سے بھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، لیکن مکروہ ہے جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ)اگر چہ نیند وغیرہ میں چھوئے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3 ص 398)
بدائع الصنائع میں ہے : أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخر:ترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )
مذکورہ الفاظ خبر و انشاء ہر دو کا احتمال رکھتے ہیں،لیکن یہاں کیونکہ طلاق نامہ پر یہ الفاظ لکھے گئے ہیں جسکی بناء پر انشاء کی جہت ترجیح پاگئی ہے،اور یہ الفاظ انشاء پر دال ہونے کی وجہ سے مفید طلاق ہوگئے ہیں ،بدائع میں ہے: لِأَنَّ الظَّاهِرَ إرَادَةُ الْإِنْشَاءِ مِنْ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ۔ ترجمہ:کیونکہ ان الفاظ سے بظاہر انشاء ہی مراد ہے۔(بدائع الصنائع ،جلد4ص 46)
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں ایک طلاق واقع ہوچکی ہے ۔رجوع کے بعد آئندہ محض دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 ربیع الثانی 1441 ھ/11 دسمبر 2019ء