ایس ایم ایس پر طلاق دینے کا شرعی حکم
    تاریخ: 14 جنوری، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 591

    سوال

    گزارش ہے کہ چند ماہ پہلے میری شادی ہوئی ، میری بیوی اس عرصے میں بغیر کسی وجہ کے اپنے والد کے گھر بیٹھتی رہی لیکن میں ہردفعہ اسکو منا کر لےآتا ۔ لیکن اس بار وہ میرے ساتھ گھر نہیں آئی ۔میری بیوی اور اسکے والد نے اپنا موبائل فون بھی بند کردیا ۔ اور اس دوران میرا ان سے کوئی رابطہ بھی نہ ہوسکا ۔ اسی پریشانی کی کیفیت میں میں نے اسے موبائل سے تین طلاقیں تین بار (میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں) لکھ کر اپنی بیوی کے فون پر ایس ایم ایس کردیا ۔لیکن دوسری طرف موبائل بند ہونے کی وجہ سے میری بیوی کو یہ ایس ایم ایس موصول نہ ہوسکا ۔ تین چار دن بعد جب فون کھولا تو اسکو ایس ایم ایس ملا ۔ اب آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ ان حالات میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ جبکہ میں اس قسم کے الفاظ کہنا یا لکھنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ سب عجیب کیفیت اور انتہائی پریشانی میں ہوا۔

    سائل: افتخار احمد ولد محمد احمد : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں بیوی کو طلاق دینے کی غرض سے ایس ایم کیا تھا تو ایس ایم ایس کرتے ہی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔کہ یہ طلاق ِ غیر مرسومہ مستبینہ کی ہے۔(جسکی تفصیل آرہی ہے)

    اب عورت شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔عورت عدت شمار کرنا شروع کردے۔ عدت کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ غیر حاملہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےعدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو اس صورت میں عدت وضع حمل ہوگی۔

    حاشیہ شامی اور،عالمگیریہ میں ہے: واللفظ لہ الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْکَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ)کی دو قسمیں ہیں ،مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح)مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اور غیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں)طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔( حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1ص414 )

    مذکورہ صورت بھی طلاق غیر مرسومہ مستبینہ کی ہے ۔

    عدت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرہ :228)

    دوسری جگہ ارشاد ہے:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4)

    ا ب اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا،ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ'ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''۔( البقرہ: 230)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں ےا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 12 ص 418)

    خلاصہ یہ ہے اگربیوی کو طلاق دینے کی غرض سے ایس ایم کیا تو ایس ایم ایس کرتے ہی آپکی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔(کما ہو الظاہر)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 ربیع الثانی 1440 ھ/18 دسمبر 2018 ء