ایک طلاق رجعی و نشے میں طلاق
    تاریخ: 15 جنوری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 593

    سوال

    میرے شوہر نے نشے کی حالت میں مجھے فون پر ایک بار کہا '' میں تمہیں طلاق دیتا ہوں'' پھر میری جٹھانی کو فون پر کہا طلاق دے دونگا ، میں اسے چھوڑ دونگا، میں اسے چھوڑ دونگا۔ اسکے بعداپنی بہن سے بھی فون پر کہا میں اسے طلاق دے دونگااسے فارغ کردونگا۔ اور اس وقت نشے میں تھے۔

    طلاق ہوئی یا نہیں شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    نوٹ: شوہر نشے میں تھا اور اس نے کہا کہ جو بیوی کہہ رہی ہے وہی درست ہوگا مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔ شوہر کی بھابھی نے بھی بیوی کی تصدیق کی ہے۔

    سائل:رضوان/حبیبہ: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر بیوی کا بیان سچ اور حقیقت پر مبنی ہے تو اس بیان کے مطابق عورت کو شوہر کے ان الفاظ'' میں تمہیں طلاق دیتا ہوں'' کے ذریعے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ۔ جبکہ جٹھانی و بہن کو کہے گئے الفاظ وقوعِ طلاق کے لئے مفید نہیں ہیں کہ وہ وعدہ ءِ طلاق پر دال ہیں لہذا ان الفاظ سے طلاق واقع نہ ہوگی۔

    یاد رہے شراب پینا حرام ، گناہ کبیرہ اور موجبِ عذابِ نار ہے تا ہم نشے کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے جبکہ بلااکراہِ شرعی شراب وغیرہ نشہ آور اشیاء سے نشہ كياہواور دواکے طور پربھی نہ ہو۔

    طلاق رجعی کا شرعی حکم یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے عدت کے اندربغیرنکاح کے رجوع کرسکتا ہے،اوراگرعدت کے اندررجوع نہ کیا جائے تو عدت گزرتے ہی عورت نکاح سے نکل جاتی ہے پھرعدت کے بعد عورت کی رضامندی سے نکاح کے ذریعے رجوع ہوسکتا ہے۔یادر ہے کہ رجوع کے بعد آئندہ شوہر کو فقط دو طلاق کا حق ہو گا۔اگر کبھی دو طلاق دے دی تو کل تین طلاقیں ہو جائیں گی،بیوی حرمتِ مغلظہ سے حرام ہو جائے گی اور شرعی حلالہ کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہ ہوگی ۔

    بدائع الصنائع میں ہے: ’’أما السکران إذا طلق امرأتہ فإن کان سکرہ بسبب محظور بأن شرب الخمر حتی سکر وزال عقلہ فطلاقہ واقع عند عامۃ العلماء وعامۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم‘‘یعنی نشہ کرنے والا جب اپنی بیوی کو طلاق دے تو اگر اس کا نشہ محظور شرعی کے سبب تھا اس طرح کہ اس نے شراب پی یہاں تک کہ اسے نشہ ہو گیا اور اسکی عقل زائل ہو گئی تواکثرعلماء کرام اور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک اس کی طلاق واقع ہو جائے گی ۔(بدائع الصنائع، جلد4 ،صفحہ213، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

    ہدایہ میں ہے:" وطلاق السكران واقع "۔ ترجمہ: نشہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ ( ہدایہ کتاب الطلاق فصل ویقع طلاق کل زوج جلد 1 ص 224)

    رجوع کرنے کامسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہردوگواہوں کی موجودگی میں کسی لفظ کے ذریعے رجوع کرے مثلا یہ الفاظ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیااوراگروقت ِ رجوع وہاں بیوی موجود نہ ہوتواسے خبرپہنچا دے کہ میں نےرجوع کر لیا ہے ۔اگرقول کے ذریعے رجوع کیامگرگواہ نہ کئے یا عورت کو خبر نہ دی یا فعل سے رجوع کیا مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیاتو ان تینوں صورتوں میں بھی رجوع ہو جائےگامگر اس طرح رجوع کرنا مکروہ و خلافِ سنت ہے۔

    نقایہ میں طلاق رجعی کی عدت کے دوران رجوع کرنے کے بارے میں فرمایا :تصح الرجعۃ فی العدۃ وان أبت اذا لم تبن خفیفۃ أو غلیظۃ ۔ ترجمہ: مردنے اگر عورت کو طلاق بائن خفیفہ یعنی ایک یا دو طلاق بائن یا طلاق بائن غلیظہ یعنی تین طلاقیں نہ دی ہوں تو اسے عورت سے عدت میں رجوع کرنے کا اختیار ہوتا ہے ۔(نقایہ مع شرحہ فتح باب العنایۃ ،ج2،ص129،ایچ ایم سعید کمپنی )

    صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور عورت کو بھی اس کی خبر کردے کہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کئے یا گواہ بھی کئے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ خلافِ سنت ہے مگر رجعت ہو جائے گی اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے ۔"آپ علیہ الرحمہ رجعت کے الفاظ کے متعلق فرماتے ہیں:"ر جعت کے الفاظ یہ ہیں میں نے تجھ سے رجعت کی یا اپنی زوجہ سے رجعت کی یا تجھ کو واپس لیا ۔ یا روک لیا یہ سب صریح الفاظ ہیں کہ اِن میں بلا نیّت بھی رجعت ہو جائیگی ۔ یاکہا تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی تھی یا تو میری عورت ہے تو اگر بہ نیت رجعت یہ الفاظ کہے ہوگئی ورنہ نہیں اور نکاح کے الفاظ سے بھی رجعت ہو جاتی ہے ۔ (بہارِ شریعت ج1،ص35مطبوعہ ضیاء القرآن ،لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:18 ربیع الاول 1444 ھ/15 اکتوبر 2022 ء