ایک طلاق کے بعد رجوع کا حکم
    تاریخ: 15 جنوری، 2026
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 595

    سوال

    ہم میاں بیوی کے مابین اکثر لڑائی جھگڑے رہتے تھے، میرے شوہر نے ساس کی وجہ سے مجھے ایک طلاق دے دی۔ طلاق کو دو ماہ ہونے والے ہیں۔ میں اپنی ماں کے گھر ہوں شوہر بات چیت توکرتا ہے لیکن رجوع وغیرہ کی بات نہیں کرتا اس صورت میں کیا شرعی رہنمائی ہے۔

    سائلہ:عائشہ آفاق : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں اگراس طلاق سے پہلے کبھی طلاق نہیں دی تو عورت کو ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے جسکے فورا بعد عورت کی عدت شروع ہوچکی ہے۔شوہر چاہے تو عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے ۔

    دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرتے ہی عورت طلاق بائنہ کے ذریعے اس کے نکاح سے نکل جائے گی۔ اب اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا،اور دونوں صورتوں میں(عدت میں رجوع کرے یا عدت کے بعد نکاحِ جدید کرے) شوہر کوآئندہ صرف دو طلاق کا اختیار رہے گا۔

    وگرنہ عورت کو اختیار ہوگا کہ جہاں چاہے نکاح کرے۔

    رجوع طریقہ یہ ہے کہ عورت اگر ایام ِ عدت(تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور حمل والی کی عدت بچہ جننے تک ہے اور جسے حیض نہ آتا ہو اسکی تین ماہ ہے) میں ہے تو شوہر قول یا فعل سے رجوع کرے،یعنی یاتو زبان سے یہ کہے کہ میں نے تم سے رجوع کیا یا ایسے الفاظ کہے جو نکاح باقی رکھنے پر دال ہوں، یا عورت کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو صرف میاں بیوی کے درمیان جائز ہو جیسے شہوت سے چھونا یا بوسہ وغیرہ ۔

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ) (وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ) كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا ، أَوْ نَائِمًا (ملخصا): ترجمہ: اور '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''جیسے الفاظ کے ساتھ رجوع درست ہے ، اور ہر اس فعل سے بھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، لیکن مکروہ ہے جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ)اگر چہ نیند وغیرہ میں چھوئے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3 ص 398)

    عدت کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ہے ، اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےاور اگر عورت حاملہ ہوتو تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی،قال اللہ تعالٰی : وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرہ : 228)

    اور دوسری جگہ یوں ارشاد ہوا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب