سوال
میرا نام سونیا ہے میرے شوہر نے تقریبا گیارہ ماہ پہلے لڑائی کے دوران غصے میں مجھے کہا '' میں تجھے طلاق دیتا ہوں'' ایک دفعہ ہی کہا تھا پھر میرے جیٹھ نے اسے چپ کروادیا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے چپ کر ۔ اسکے بعد میں اپنی والدہ کے گھر آگئی اور پچھلے گیارہ ماہ سے میں والدہ کے گھر پر ہوں ۔ان گیارہ ماہ میں دوعیدیں بھی آئیں لیکن میرے سسرال والوں نے صلح کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ تو اب اگر کوئی ہماری صلح کروائے تو صلح ہوجائے گی ؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟ بیوی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ شوہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟میری پریشانی کا حل بتادیں میرے چار بچے ہیں ۔
سائلہ: سونیا مختار
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو آپ کو ایک طلاق واقع ہوگئی ہے جسکے بعد عدت لازم ،عدت کے دوران اگر رجوع نہ کیا گیا تو بعد عدت نئے نکاح ،نئے مہر کے ساتھ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں ۔لیکن آپ کے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا، کیونکہ ایک انہوں نے دے دی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے :أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخر: ترجمہ:طلاق رجعی میں اور طلاق بائن میں (میں عدت گزرنے کے بعد ) عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:زوہیب رضا قادری
الجواب الصحيح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:01 صفر المظفر 1440 ھ/11اکتوبر 2018 ء