کیا متولی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے
    تاریخ: 14 جنوری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 582

    سوال

    مسجد کے ٹرسٹی حضرات نے ایک مدرسہ چلانے والے ٹرسٹ کو ایک جگہ دی۔اور اسٹام پیپر پی یہ مندرجہ بالا کلمات مندرج ہیں :

    "منقولہ جگہ ہم بقائم بہوش وحواس بغیر جبر اپنی آزادانہ مرضی سے علاقے میں مذہبی تعلیم بچے اور بچیوں کو دینے کی خاطر وقف کرتے ہیں۔ وقف کرنے کا مقصد صرف رضائے الہی کے حصول اور مذہبی تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    "نیز اسٹام پیپر میں یہ شرط بھی درج ہے کہ "(نام ادارہ)ٹرسٹ کی انتظامیہ مدرسہ میں معلمین اور معلمات مقرر کر کے بہترین مدرسہ چلائیں گے"پھر مذکورہ ٹرسٹ نے اس جگہ پر خطیر رقم خرچ کر کے عمارت تعمیر کروا دی،اور باقاعدہ اساتذہ رکھے اور مدرسہ چلا دیے۔تقریبا 2007 مذکورہ ٹرسٹ چلا رہا ہے۔

    دریافت طلب یہ امر ہے کہ ٹرسٹ کی طرف سے پڑھائی کا نظام نہایت کمزور رہا۔عرصہ 10 سال سے اس ادارے سے کسی بچے نے ناظرہ قرآن بھی ختم نہیں کیا۔اساتذہ کے لیٹ آنے اور چھٹی کرنے پر کوئی مضبوط رکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔مثلا کٹوٹی وغیرہ،جس کی وجہ سے معلمین ایک مہینے میں چار..پانچ...چھ.سات تک چھٹیاں کرتے رہتے تھے۔اس کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی نقصان رہا ،اس دوران موجودہ مسجد کی انتظامیہ مسلسل ٹرسٹ کو خراب کارکردگی سے آگاہ کرتی رہی کہ اہل علاقہ مسجد کمیٹی کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں۔لہذا مدرسہ کی پڑھائی کا انتظام درست کریں ۔لیکن مدرسہ انتظامیہ نے توجہ نہیں دی۔جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایک طویل عرصے(کم و بش پانچ سے دس سال) سے کوئی ناظرہ خواں بھی مدرسہ سے فارغ نہیں ہوا ۔اب عرصہ تین مہینے سے بظاہر انتظام بہتر ہو رہے ہیں۔مثلا اساتذہ کا وقت پر آنا اورچھٹیا نا کرنا۔ لیکن مسجد کمیٹی اس ٹرسٹ سے عدم اطمنان کی وجہ سے اس ٹرسٹ سے مدرسہ لے کر کسی اور ٹرسٹ کو دینا چاہ رہے ہیں۔کیا انتظا میہ ایسا کر سکتی ہے؟

    سائل:انتظامیہ مسجد ھذا

    بمعرفت:علامہ سید عبد الرؤوف شاہ صاحب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہ فتوی اس شرط کے ساتھ صادر کیا جا رہا ہے کہ معاملہ فی الواقع ایسا ہی ہے جو سوال میں مذکور ہوا ، جھوٹ کی اس میں آمیزش نہیں۔

    جب مسجد انتطامیہ کی جانب سے مخصوص تنظیم کو مدرسہ کی تولیت دی گئی تو ٹرسٹیوں کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وقتاً فوقتاً تحقیق و تفتیش اور مدرسے کے معاملات پر نظر (check and balance)رکھتے اور عملے کی سستی و لاپرواہی اور قابلِ اعتماد نتیجہ نہ آنے پر فوراًایکشن لیتے( جو کہ شرعی لحاظ سے ضروری بھی تھا )تو شاید یہ نوبت نہ آتی ۔ اللہ تعالی ہم اہلسنت کے حال پر رحم فرمائے ہمیں معیارِ شرعی و میزانِ شرعیکا لحاظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ! آمین

    ہمارے بعض لوگوں نے مساجد ،مدارس اور جامعات میں جو ماحول پیدا کر رکھا ہے وہ ناگفتہ بہ ہے۔ انتظامی تدریسی معیارات جو مقرر ہیں ان میں من مانی،ذاتی پسند و ناپسند واضح نمایاں ہیں الا ما شاء اللہ استثناء موجود ہے۔ در پیش مسئلہ کی بابت ضابطہشرعی یہ ہے کہ: اگر متولی یانگران جس کام کے لیے مامور ہوا وہ کام سرے سے نہ کرے یا اس میں سستی و لاپرواہی کرےاور وقف سے مقصودِ وقف فوت ہو جائے تو ایسے متولی یا نگران کو معزول کرنا واجب ہوجاتا ہے اگرچہ متولیخود واقف ہی کیوں نہ ۔

    مسئلہ کی بابت حکم شرعی:

    پوچھی گئی صورت میں ادارے کی بابت جو کچھ بتایا گیا ( کہ دس سال سے کوئی کارکردگی نہیں یہاں تک کہ اس عرصہ میں ایک بچے نے بھی ناظرہ مکمل نہیں کیا ۔مدرسین کی چھٹیوں کا معاملہ الگ ہے)اس صورت میں ادارے سے تولیت لینا واجب تھی لیکن مسجد انتطامیہ کی جانب سے ادارے کو تعلیمی و انتظامی معامالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک موقع دے دیا گیا ہے جس میں انتظامیہ کے بیان کے مطابق تین ماہ سے بہتر ی آئی ہے لہذا جب تک مقررہ ادارہ تعلیمی معامالات احسن طریقے سے چلا ئے رکھے تب تک معزول نہیں کر سکتےکہ اب معزول کرنا فتنہ سے بھی خالی نہیں ہو گا ۔تاہم ادارہ اگراپنیسابقہ روش پر آ جائے تو اس صورت میںضرور معزول کیا جائے گا ۔

    اللہ کریم جل شانہ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-۔ترجمہ:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔(النساء:58)

    ضرب المثل ہے:من استرعی الذئب فقد ظلم۔ترجمہ:جس نے بھیڑئیے کو راعی بنایا تو اس نے ظلم کیا۔

    اشباہ میں ہے:إذَا وَلَّى السُّلْطَانُ مُدَرِّسًا لَيْسَ بِأَهْلٍ لَمْ تَصِحَّ تَوْلِيَتُهُ۔ترجمہ:جب بادشاہ نے نااہل کو مدرس بنایا تو اس کی تولیت درست نہیں ہو گی ۔(الأشباه والنظائر لابن نجيم جلد1 صفحہ 337، دار الكتب العلمية)

    متولی یا نگران کی معزولیت کے متعلق شامی میں ہے :(وَيُنْزَعُ) وُجُوبًا بَزَّازِيَّةٌ (لَوْ) الْوَاقِفُ دُرَرٌ فَغَيْرُهُ بِالْأَوْلَى (غَيْرَ مَأْمُونٍ) أَوْ عَاجِزًا أَوْ ظَهَرَ بِهِ فِسْقٌ ۔ترجمہ : جب (متولی درر میں ہے خواہ وہ واقف ہی کیوں نہ ہو لہذا غیر واقف متولی کو معزول کرنا تو بدرجہ اولی واجب ہے ) امین نہ ہو یا (کام کرنے سے) عاجز ہو یا اس میں فسق ظاہر ہو جائے تو اُسکو معزول کرنا واجب ہے۔ (رد المحتار ،کتاب الوقف جلد 04 صفحہ 380دار الفکر بیروت)

    فتاوی رضویہ شریف میں ہے:متولیان وورثہ بحال تولیت اگر صالح تولیت رہے تو بہتر، ورنہ بحال جرم وخیانت وعدم لیاقت ضرور مسلمانوں کو دست اندازی پہنچے گی۔( فتاوی رضویہ جلد16 صفحہ207رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    صاحبِ بہار شریعت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: واقف نے اپنے ہی کو متولی کیا ہے اور وقف نامہ ميں یہ شرط لکھ دی ہے کہ ''مجھے اس کی تولیت سے جدا نہيں کیا جاسکتا یا مجھے قاضی یا بادشاہ اسلام بھی معزول نہيں کرسکتے'' اِس شرط کی پابندی نہيں کی جاسکتی اگر خیانت وغیرہ وہ امور ظاہر ہوئے جن سے متولی معزول کردیا جاتا ہے تو یہ بھی معزول کر دیا جائے گا۔(بہار شریعت حصہ 10،صفحہ577 مکتبۃ المدینہ کراچی)

    متولی کے اوصاف اور خصوصیات:

    متولی ایسے شخص کو بنایا جائے جو(1) مسلمان سنی صحیح العقیدہ ۔(2)عاقل۔(3)بالغ ۔(4)متدین ۔(5)کام کرنے کی اہلیت ہو۔ (6) امانتدار ۔ (7) وقف کا خیر خواہ ہو ۔ ۔(8) فاسق نہ ہو ۔ (9)سست نہ ہو۔

    سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں متولی کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” لائق وہ ہے کہ دیانت دارکار گزار ہوشیار ہو جس پر دربارہ حفاظت وخیرخواہی وقف اطمینان کافی ہو، فاسق نہ ہو جس سے بطمع نفسانی یا بے پروائی یاناحفاظتی یا انہماک لہو ولعب وقف کو ضرر پہنچانے یا پہنچنے کا اندیشہ ہو بدعقل یا عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت یا نادانی یا کام نہ کرسکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کرے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد16، صفحہ557،رضافاونڈیشن،لاہور)

    بہارشریعت میں ہے "جو شخص اوقاف کی تولیت کی درخواست کرے ایسے کو متولی نہيں بنانا چاہیے اور متولی ایسے کو مقرر کرنا چاہیے جو امانت دار ہواور وقف کے کام کرنے پر قادر ہو خواہ خود ہی کام کرے یا اپنے نائب سے کرائے اور متولی ہونے کے ليے عاقل بالغ ہونا شرط ہے۔"(بہارشریعت ،ج02،حصہ10،ص575،مکتبۃ المدینہ)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 09 رمضان المبارک 1444 ھ/31مارچ2023 ء