کیا فقراء ایک بکرے کی قربانی میں شریک ہوسکتے ہیں

    kya fuqara ek bakre ki qurbani mein shareek ho sakte hain

    تاریخ: 1 جولائی، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 1534

    سوال

    دو بھائی مل کر ایک بکرا یا دنبہ کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں؟ حالانکہ وہ دونوں الگ الگ رہتے ہیں اور صاحب استطاعت بھی نہیں ہے یعنی ان پہ قربانی واجب نہیں ہے۔ آیا کہ ایسے دو بھائی مل کر ایک بکرا کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں؟

    سائل: علامہ تسلیم شاہد قادری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اونٹ، گائے اور بھینس کے علاوہ چھوٹے جانور یعنی بکرا، دنبہ وغیرہ میں ایک سے زائد حصہ ڈالنا شرعا معتبر نہیں ۔ اگر دو بھائی مل کر ایک بکرے میں مشترکہ قربانی کرنا چاہیں تو یہ درست نہیں ، خواہ ان پر قربانی واجب نہ ہو؛ ہاں صدقہ کی نیت سے ایسا کرنا جائز ہے۔ اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ قربت خون بہانا ہے اور وہ (ایک جانور میں) تقسیم نہیں ہوتا، لہذا کوئی سا بھی جانور ہو اس میں ایک سے زائد حصے قیاساً جائز نہیں۔ لیکن بڑے جانوروں میں سات حصوں کی اجازت پر حدیث موجود ہے۔ لہذا بڑے جانور میں قیاس کو چھوڑ کر سات حصوں کی اجازت دی گئی۔ چونکہ بکرے یا دنبے میں ایسی کوئی نص یا حدیث موجود نہیں، اس لیے وہ اپنے اصل قیاس پر برقرار ہے کہ اس میں ایک سے زائد فرد شریک نہیں ہو سکتا۔ لہذا، مشترکہ قربانی کیلئے گائے یا بیل میں حصے لینا ہی شرعی طریقہ ہے۔البتہ اگر بھائی اپنے پیسے دوسرے بھائی کو ہبہ کردے اور وہ اس رقم میں اپنی رقم ملا کر قربانی کا جانور خرید کر ذبح کردے، تو قربانی درست ہوگی اور پیسے لینے والے کو اپنی نیت کا ثواب ملے گا۔

    دلائل و جزئیات:

    ایک بکری کی قربانی میں شرکت کے عدمِ جواز پر علامہ علی بن سلطان محمد القاری (المتوفی: 1014ھ) روایت نقل فرماتے ہیں: "الغنم الواحد لا يكفي عن اثنين فصاعدا".ترجمہ: ایک بکری دو یا دو سے زیادہ افراد کی طرف سے کفایت نہیں کرتی۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، 3/1079، دار الفکر، بیروت)

    علاء الدين السمرقندی (المتوفى: 540ھ) فرماتے ہیں: "ولا تجوز الشاة عن أكثر من الواحد وإن كانت عظيمة قيمتها قيمة شاتين لأن القربة إراقة الدم وذلك لا يتفاوت".ترجمہ: اور ایک بکری ایک سے زائد افراد کی طرف سے (قربانی میں) جائز نہیں اگرچہ وہ اتنی بڑی ہو کہ اس کی قیمت دو بکریوں کے برابر ہو، کیونکہ قربت خون بہانا ہے اور اس میں (جسامت کی وجہ سے) تفاوت نہیں ہوتا۔ (تحفة الفقہاء، کتاب الاضحیة، 3/85، دار الکتب العلميۃ بیروت)

    اس ممانعت کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام برہان الدین المرغینانی (المتوفی : 593 ھ) لکھتے ہیں: "ويذبح عن كل واحد منهم شاة أو يذبح بقرة أو بدنة عن سبعة" والقياس أن لا تجوز إلا عن واحد، لأن الإراقة واحدة وهي القربة، إلا أنا تركناه بالأثر وهو ما روي عن جابر رضي الله عنه أنه قال: "نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البقرة عن سبعة والبدنة عن سبعة". ولا نص في الشاة، فبقي على أصل القياس".ترجمہ: اور ان میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی یا سات افراد کی طرف سے ایک گائے یا ایک اونٹ ذبح کیا جائے گا اور قیاس کا تقاضا تو یہ تھا کہ (کوئی بھی جانور) صرف ایک ہی شخص کی طرف سے جائز ہو، کیونکہ خون بہانا ایک ہی عمل ہے اور وہی قربت ہے، مگر ہم نے اس قیاس کو اثر (حدیث) کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے اور وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر ایک گائے سات افراد کی طرف سے اور ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے نحر کیا۔ اور بکری کے معاملے میں (ایک سے زائد کیلئے) کوئی نص نہیں ، لہذا وہ اپنے اصل قیاس پر باقی رہی (کہ ایک بکری ایک ہی فرد کی طرف سے ہوگی)۔ (الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، کتاب الاضحیۃ، 4/85، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ)

    صدقہ کی نیت سے ایک بکرے میں اشتراک کے جواز پر مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی: 1422ھ) لکھتے ہیں:’’جس طرح یہ جائز ہے کہ چند مسلمان شریک ہو کر ایک بکرا خریدیں اور اس کی قربانی سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام یا کسی دوسرے بزرگ کے نام کریں ، کوئی قباحت نہیں۔اسی طرح کچھ مسلمان مشترکہ طورپر بڑا جانور خریدکر ساتواں حصہ کسی بزرگ یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےنام قربانی کریں،جائز ہے ‘‘۔ (فتاوی فیض الرسول، 2/446، شبیر برادرز، لاہور) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19ذو القعدہ 1447ھ/7 مئی 2026ء