سوال
ایک بار میں نے اپنی بیوی کو دورانِ لڑائی کہا کہ "جا میری زندگی سے چلی جا " مجھے کسی کی ضرورت نہیں زندگی گزارنے کے لیے ۔پھر کچھ عرصہ کے بعدہم لوگ ایک ساتھ رہنے لگے ،پھر کچھ عرصہکے بعد کہا تو اپنی زندگی خود مختار بن کر گزارتی ہے تو گزار جس طرح چاہے اپنیزندگی یہ بتا دیں کہ طلاق ہوئی کہ نہیں ۔اور اگر رجو ع کرنا چاہیں تو اس کا کیا طریقہ ہو گا ؟
نوٹ :سائل نے دورانِ تنقیح بتایا کہ پہلی بار جو میں نے یہ کہا "جا میری زندگی سے چلی جا "اس سے میری نیت طلاق کی تھی،اور اس کے بعد راضی خوشی رہنے لگے۔اور طلاق کے بعد نکاح نہیں کیا،اور دوسری بار جو الفاظ کہے اس سے طلاق کی نیت نہیں تھی۔
سائل:عبد الغنی/کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں پہلے جملے"جا میری زندگی سے نکل جا" سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی تھی،اور دوسرے جملے " تو اپنی زندگی خود مختار بن کر گزارتی ہے تو گزار جس طرح چاہے اپنی زندگی "کچھ واقع نہیں ہوا ۔دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لیے ضروری تھا کہ آپ از سرِ نو نکاح کرتےجو کہ نہیں کیا گیا ،لہذا اب رجوع کیصورت یہ ہے کہ سب سے پہلےاللہ کے حضور توبہ و استغفار کریں کہ اتنا عرصہ بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہتے رہے ،اور پھر جدید مہر اور گواہوں کی موجودگی میں از سرے نونکاح کریں ۔ یاد رہےکہ اب نکاح کے بعد آپ کے پاس فقط دو طلاقوں کا حق بچے گا ،نکاح کے بعد جب کبھی دو طلاقیں دیں تو وہ عورت طلاقِ مغلظ کے ساتھ آپ پر حرام ہو جائے گی۔
در مختار میں ہے:فنحو اخرجی واذھبی یحتمل ردا ترجمہ:نکل جا، چلی جا، کھڑی ہوجا، یہ الفاظ جواب کا احتمال رکھتے ہیں۔(الدرالمختار،کتاب الطلاق، باب الکنایات،جلد3، صفحہ 298تا300 دار الفكر-بيروت ملخصا)
اور جو الفاظ رد (جواب)کا احتمال رکھتے ہوں وہاں ہر حالمیں نیت ضروری ہے،بغیر نیت طلاق واقع نہیں ہو گی ،جیسا کہ علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْأَوَّلَ يَتَوَقَّفُ عَلَى النِّيَّةِ فِي حَالَةِ الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَالْمُذَاكَرَةِ ترجمہ:حاصل کلام یہ ہے کہ پہلی صورت (جوجواب بننے کا احتمال رکھتی ہے)خوشی،غصہ،مذاکرہ طلاق تینوں حالتوں میں نیت پر موقوف ہے۔(الدرالمختار،کتاب الطلاق، باب الکنایات،جلد3 صفحہ 301دار الفكر-بيروت)
علامہ کاسانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وَأَمَّا حُكْمُ الطَّلَاقِ الْبَائِنِ… فَالْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ لِمَا دُونَ الثَّلَاثِ مِنْ الْوَاحِدَةِ الْبَائِنَةِ ، وَالثِّنْتَيْنِ الْبَائِنَتَيْنِ هُوَ نُقْصَانُ عَدَدِ الطَّلَاقِ ، وَزَوَالُ الْمِلْكِ أَيْضًا حَتَّى لَا يَحِلَّ لَهُ وَطْؤُهَا إلَّا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ ترجمہ:طلاق بائن کا حکم :پس تین سے کم یعنی ایک یا دو والیطلاق بائن کا حکم اصلی طلاق کے عدد کا کم ہو جانا ہے اور ملکیت کا زائل ہو جانا بھی ہے یہاں تک کہ شوہر کے لیے مطلقہ بائنہ سے وطی کرنا حلال نہیں رہتا جب تک کہ نکاح جدیدنہ کر لے ۔ (بدائع الصنائع فَصْلٌ في حُكْم الطَّلَاقِ الْبَائِنِ جلد 3صفحہ 187 دار الكتب العلمية)
وﷲ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 جمادی الاول1442ھ/14جنوری2021