حالت نشہ میں طلاق کا حکم
    تاریخ: 28 نومبر، 2025
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 308

    سوال

    میں نے ایک وقت میں اپنی بیوی کو چار بار طلاق دی ہے ایک بار طلاق اپنے ہوش و حواس میں دی ہے جبکہ تین بار جو دی ہے اس میں نشے میں تھا ۔ہماری چاربچیاں ہیں،ہم لوگ ساتھ رہنا چاہتے ہیںبرائے مہربانی اس کا حل بیان فرمائیں !

    بیوی کا بیان:

    میرے شوہر تھوڑے نشے میں تھے اور باہر جا رہے تھے تو مین نے کہا کہ اب اس طرف جاؤ تو مجھے فارغ کرتے جانا ،تو اچانک انھوں نے کہا کہ" طلاق طلاق طلاق " پھر انکے بھائی آ گئے تو میں نے کہا: یہ نشے میں تھے اور انھوں نے یہ یہ کہا،تو جوابامیرے شوہر کہنے لگے تب میں نشے میں نہیں تھا بلکہ اب نشے میں ہوں اور مزید نشہ کر کے بولے " میں نے دے دیمیں دے دی " جس پر انکے بھائیوں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔

    سائل: محمد سلیمان ،کورنگی کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شرعی اعتبار سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،اب دونوں کا ایک ساتھ رہنا ناجائز و حرام ہے،بیوی پرلازم ہے کہ اپنی عدت(حیض آتا ہو تو طلاق کے بعدتین حیض ،ورنہ چاند کے حساب سے تین ماہ،اور اگر حاملہ ہو تو بچہ پیدا ہونے تک ) مکمل کرے،عدت مکمل کرنے کے بعد آزاد ہے یعنیکسی اور سے شادی کر سکتی ہیں۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرہ288)

    والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)

    یاد رہےکہ نشے کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے :بابِ طلاق میں نصوص مطلق وارد ہوئی ہیں کہ غصے یا نشے والی کی طلاقکا استثنا نہیں بلکہ ایسی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ،اور مذہبِ حنفی کی تمام کتبِ معتبرہ،متون ،شروح اور فتاوی میں اس بات کی تصریح ہے کہ نشے والےکی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اس نشہ آور چیز کا تعلق شراب سے ہویا کسی اور چیز سے ،یہاں تک کہ نبیذ وغیرہ اشیاء کے استعمال سےنشے کی صورت میں مفتی بہ قول کے مطابق وقوعِ طلاق کی تصریحات موجود ہیں ،چناچہ فتح القدیر جلد 3 صفحہ 348 ،فتاوی ہندیہجلد 2 صفحہ 48،اور ردالمحتار میں ہے ، واللفظلہ:" وَفِي التَّتَارْخَانِيَّة: طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَاْقِعٌ إذَا سَكِرَ مِنْ الْخَمْرِ أَوْ النَّبِيذِ وَهُوَ مَذْهَبُ أَصْحَابِنَا". ترجمہ: فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے کہ نشہ والے کی طلاق واقع ہوجاتی ہے، جب نشہ خمر(شراب) یا نبیذ سے ہو،یہی مذہب ہمارے اصحاب کا ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الطلاق، جلد4 صفحہ :434، مکتبہ رحمانیہ لاہور)

    نیز اسی میں ہے:" الْمُخْتَارُ فِي زَمَانِنَا لُزُومُ الْحَدِّ وَوُقُوعُ الطَّلَاقِ" ترجمہ: ہمارے زمانے میں مختاریہ ہے کہ شرابی کوحدبھی لگائی جائے اوراس کی طلاق بھی واقع ہوجائے۔ (ردالمحتارمع الدرلمختار،مطلب فی تعریف السکران وحکمہ، جلد4، صفحہ :444 مکتبہ امددایہ ملتان)

    اسی کے دوسرے مقامپر ہے:" وَإِنْ لِلَّهْوِ وَإِدْخَالِ الْآفَةِ قَصْدًا فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَتَرَدَّدَ فِي الْوُقُوعِ. وَفِي تَصْحِيحِ الْقُدُورِيِّ عَنْ الْجَوَاهِرِ: وَفِي هَذَا الزَّمَانِ إذَا سَكِرَ مِنْ الْبَنْجِ وَالْأَفْيُونِ يَقَعُ زَجْرًا، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى"ترجمہ:اگر نشہ آور چیز لہو کے طور پر یا جان بوجھ کر نشہ لانے کیلئےاستعمال کی تو پھر ایسے شخص کی طلاق کے واقع ہونے میں کوئی تردد نہیں(یعنی طلاق واقع ہو جائے گی) اور تصحیح القدوری میں جواہر سے ہےکہ:فی زمانہ اگر بھنگ اور افیون سے نشہ کیا ہو تو زجراً طلاق واقع ہو جائے گی،اسی پر فتوی ہے۔ (ردالمحتار کتاب الطلاق، جلد4 صفحہ 446،مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان)

    تین طلاقیں دینے کے بعد عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے،اس کے بعد اگر دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اس کے لیے حلالہ ضروری ہے۔

    اللہ جل وعلا کا فرمان ہے : فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ :ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :'' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:01 جمادی الاول1442ھ/03فروری2021ء