قبر پر قبر بنانا کیسا؟
    تاریخ: 28 نومبر، 2025
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 303

    سوال

    زید نے اپنی والد صاحب کیقبر کھولی ،اور اس کے درمیان میں تختہ وغیرہ رکھ کر اپنی والدہ کو دفنا دیا تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا قبر کھولنا اور پھر اس میں والدہ کو دفناناشرعی لحاظ سے کیسا ہے؟

    سائل:عبد اللہ

    بمعرفت استاد محترم ڈاکٹرمحمد عمران شامی ذیدمجدہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر زید کےمذکورہ عمل کی کوئی ضرورت و حاجت نہ تھی تو اس فعل کی وجہ سے وہ ناجائز وحرام کا مرتکب ہوا،اسے چاہیے کہ اللہ کے حضور معافی مانگے۔اور اگر یہ فعل ضرورت و حاجت کے پیشِ نظر تھا توشرعا اس کی گنجائش ہے۔

    اس اجمال کی تفصیل یہ ہےکہ یہاں دو صورتیں ہیں : (1) قبر کشائی کر کے ایک قبر میں دولوگوں کو دفنانا۔(2) قبر کے اوپر قبر بنانا یعنی قبر کشائی کیے بغیر سلیپوں کے اوپر قبر بنانا۔

    (1) قبر کشائی کر کے پہلی میت کے ساتھ دوسری میتکو دفنانا جائز نہیں خواہدونوں کو ملا کر دفنایا جائے یا دونوں کے درمیان مٹی کی آڑ حائل کر دی جائے ،بہر دو صورت اس کی اجازتنہیں اس لیے کہ اس میں بلا ضرورت قبر کو کھولنا لازم آرہا ہے جو کہ سخت ممنوع،اور گناہ کا کام ہے۔البتہ اگر ضرورت ہو اور ضرورت بھی ایسی کہ جسے ضرورت شدیدہ کہا جاسکے تو اسصورت میں فقہائے کرام نے قبر کشائی اورایک قبر میں دو مردوں کو دفنانے کی مشروط اجازت دی ہے ۔

    ضرورت و حاجت کا یہاں پر یہ معنی ہے کہقبر کسی وجہ سے کھل گئی تو اسے ڈھانکنے کے لیے،اس کی مرمت کے لیےاسے مزید کھولنا ہوگا۔یا میت کو دفنانا ہے اور قبرستان میں مزید دفنانے کی گنجائش نہیں ،اور اریب قریب کوئی قبرستان بھی نہیں ،یا پھر قبرستان تو ہے لیکن قبر کے لیے نئی جگہ خریدنے کی مالیسکت نہیں توایسی قبر جس کامدفون مٹی ہو چکا ہو یہاں تک کہ اس کی ہڈیاںتک باقی نہ رہی ہوں ،ایسی قبر میں نیامردہ دفنانے کی اجازت ہے۔

    (2)قبرکشائی کیے بغیر قبر پر قبر بناناجیسا کہ شہرِِِ کراچی کے بعض قبرستانوں میں مختلف(جائز و ناجائز ) وجوہات کی بنا پر گورکنپہلی قبر کی

    سلیپوں کو ہٹائے بغیر اس پر دوسری قبر بنا دیتے ہیں جسے عوام الناس کی زبان میںریڈی میڈ قبر کہا جاتا ہے ،اس میں قبر کشائی اور ایک قبر میں دو مردوں کو دفنانے کا معاملہ تو نہیں ہوتا ،لیکن ایسا کرنا خلافِ سنت ضرور ہے ،بلا ضرورت اس سے بھی بچنا لازم ہے۔

    محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہام رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں : لایدفن ا ثنان فی قبرواحد الا لضرورۃ ولایحفر قبر لدفن اٰخر الا ان بلی الاول فلم یبق لہ الا عظم الا ان لایوجد بد فیضم عظام الاول ویجعل بینھما حاجز من تراب ۔ ترجمہ: بلاضرورت ایک قبر میں دو (مردوں)کو دفن کرنا جائز نہیں، نہ ہی دوسرے (مردے )کو دفنانے کے لیے کسی قبر کو کھوداجائے گا ، مگر جب پہلا (مردہ) خاک ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈی تک نہ باقی رہی ہو ، ہاں مجبوری ہو توپہلی میت کی ہڈیوں کو جمع کیا جائے اور ان دونوں کے مابین مٹی کی آڑ قائم کردی جائے ۔( فتح القدیر فصل فی الدفن ،جلد 2 صفحہ 141،دار الفکر)

    علامہ سید ابن عابدین شامیامام ابن امیر الحاج رحمہ اﷲ کےحوالے سے لکھتے ہیں : یکرہ ان یدفن فی القبر الواحد اثنان الالضرورۃوبھذا تعرف کراھۃ الدفن فی الفساقی، خصوصا ان کان فیھا میّت لم یبل، واما ما یفعلہ جھلتہ اغبیاء من الحفارین وغیر فی المقابر المسبلۃ العامۃ وغیرھا من بنش القبور التی لم یبل اربابھا وادخال اجانب علیھم، فھو من المنکر الظاھر الذی ینبغی لکل واقف علیہ انکار ذلک علی متعاطیہ بحسب الاستطاعۃ فان کف والا دفع الٰی اولیاء الامور وفقھم اﷲ تعالٰی لیقا بلوہ بالتادیب، ومن المعلوم ان لیس من الضرورۃ المبیحۃ جمع میّتین ابتداء فی قبر واحد لقصد دفن الرجل مع قریبہ او ضیق محل الدفن فی تلک المقبرۃ مع وجود وغیرہا وان کانت تلک المقبرۃ مما یتبرک بالدفن فیھا البعض من بھا من الموتٰی فضلا عن کون ھذہ الامور و ما جری مجرھا مبیحۃ للنبش وادخال البعض علی البعض قبل البلی مع مایحصل فی ضمن ذلک من ھتک حرمۃ المیّت الاول وتفریق اجزائہ فالحذر من ذلک ۔ترجمہ:بلا ضرورت ایک قبر میں دو میتوں کو دفن کرنا مکروہے، اور اسی سے تَہ خانوں میں دفن کرنے کی کراہت جانی جا سکتی ہے، خصوصاً جبکہ وہاں کوئی میّت موجود ہو جو ابھی تک خاک نہ ہوئی ہو او ر وہ جو بعض گورکن جاہل بد عقل کرتے ہیں کہ وقفی یا غیروقفی قبرستان میں وہ قبر جس کا مردہ ہنوز خاک نہ ہو، کھود کر دوسرا دفن کردیتے ہیں، یہ صریح معصیت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ حتی الامکان انھیں ایسا کرنے سے خود روکے، او راس کے روکے نہ رُکیں تو حکام کو اطلاع دیں کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں، اور شریعت سے معلوم ہے کہ کسی کو اس کے عزیزیا تبرک کے لئے کسی مزار کےپاس دفن کرنے کی غرض سے ابتداء دو جنازے ایک قبر میں رکھنا حلال نہیں جبکہ وہاں دوسرا مقبرہ موجود ہو، نہ کہ ان وجوہ کے لیے اگلی قبر کھود نا، او ر ایک کے خاک ہونے سے پہلے دوسرے کا اس میں داخل کرنا، یہ کیسے حلال ہوسکتا ہے حالانکہ اس میں پہلے میّت کی ہتکِ حرمت اور اس کے اجزاء کا متفرق کرنا ہے تو خبردار اس حرکت سے بچو۔( رد المحتار بحوالہ حلیہ ملخصاً باب صلٰوۃ الجنائزجلد 01، صفحہ 598 ، ادارۃ الطباعۃ المصریۃ)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: میّت اگر چہ خاک ہوگیا ہو بلاضرورت شدید اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا جائز نہیں جیسا کہ تارتاخانیہ وغیرہا میں فرمایا، مگر کسی کی مملوک زمین ہے خاک ہوجانے کے بعد وہ اپنی ملک میں تصرف کرسکتا ہے، عبارتِ تبیین کا یہی محل ہے، بہر حال خاک ہوجانے سے پہلے بلا مجبوری کسی کے نزدیک جائز نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الجنائز،جلد 9 ص 390،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واﷲ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:13رمضان المبارک 1442 ھ/26اپریل2021ء