دین کی قیمت میں فرق آگیا
    تاریخ: 29 نومبر، 2025
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 310

    سوال

    ہمارے دادا نے وراثت میں ایک عدد گھر چھوڑا تھا جو کہ ان کی وفات کے بعد ان کی اولا د یعنی ہمارے والد اور ان کے بہن بھائیوں کے حصے میں آیا ۔ ہمارے والد صاحب نے گھر کو فروخت کرنے کے بجائے رکھنے کو ترجیح دی اور اپنی بہنوں اور بھائی کو ان کے حصے کے مطابق 2017میں اس وقت کے گھر کی قیمت کے مطابق رقم ادا کی، جس میں ایک بھائی کو 30لاکھ ادا کئے گئے اور ایک بہن کو 15لاکھ ادا کئے گئے اور کچھ عرصے بعد دوسری بہن (نورِ خورشید) کو 15لاکھ میں سے ایڈوانس کی صورت میں 5لاکھ ادا کئے اور زبانی وعدہ کیا کہ بقایا 10لاکھ کچھ عرصے میں ادا کر دیا جائیگا، جس پر بہن نے بھی رضا مندی ظاہر کی اور زبانی طے ہو گیا ۔

    اب والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور ہم نے اپنے والد کے کئے گئے وعدہ کے مطابق ان کی بہن کو بقایا 10 لاکھ ادا کرنے کے لئے رابطہ کیا جس پر وہ اب بقایا 10 لاکھ کی رقم کے بجائے آج کی موجودہ رقم یعنی تقریبا 25 لاکھ کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ والد صاحب ان کو 5لاکھ ایڈوانس کی صورت میں دے چکے ہیں ۔آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمیں اپنے والد کی بہن کو گھر کی موجودہ قیمت کے تحت تقریبا 25 لاکھ ادا کرنے چاہیے یا والد صاحب کے وعدہ کے مطابق بقایا 10 لاکھ ادا کر نے چاہیے؟

    نوٹ: بہن نورِ خورشید کے بیانیہ کے مطابق انہوں نے مرحوم کی حیات اور وفات کے بعد از خود مطالبہ نہیں کیا ،بلکہ مرحوم کے بیٹے (عبد الحافظ) نے اپنے والد کے انتقال کے بعد انہیں یقین دہانی کروائی کہ کچھ عرصے میں بقایا جات ادا کردیے جائیں گے جس پر یہ راضی رہیں،البتہ اب ان کا کہنا یہ ہے کہ جب یہ گھر بیچا جارہا ہے اور اب تک میری اس گھر میں شراکت بھی باقی ہےتو مجھے بقیہ 10 لاکھ سے زائد مطالبے کا حق پہنچتا ہے۔

    سائل:عبد الحافظ عمر ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بہن صرف طے شدہ بقایا جات کے مطالبہ کا حق رکھتی ہیں، ان کااضافی 15 لاکھ کا مطالبہ درست نہیں کہ یہ سود ہے۔بہن کا یہ کہنا کہ میری شراکت اب بھی قائم ہے باطل ہےکہ یہاں در اصل بھائی نے دیگر ورثاء کے حصہِ میراث کو خریدا ہے جس کا ثمن (قیمت) تمامی کو ادا کردیا سوائے نور خورشید کے ،لہذا یہاں شراکت نہ رہی بلکہ باقاعدہ خریدوفروخت ہوئی جس کا بقیہ ثمن بھائی کے ذمے تھا۔

    اگر ترکے میں گھر ہو اور کوئی وراث اسے رکھنا چاہے تو تقسیم وراثت کیلئے گھر بیچنا ضروری نہیں،بلکہ اس کی مارکیٹ ویلیو لگوا کر جس وارث کے حصے جتنی رقم آتی ہو دے دی جاتی ہے۔یہاں اُس قیمت کا اعتبار ہوگا جس وقت وارثین اپنے حصوں کا مطالبہ کریں اور ان کا حصہ میراث خریدا جائے۔لہذا جب بھائی مرحوم نے تقسیم وراثت میں تمام کو ان کی رقم دے دی اور ایک بہن کو کچھ رقم دے کر بقیہ کی مہلت حاصل کرلی تو بہن کا موجودہ قیمت کا مطالبہ درست نہیں، کہ یہ وقتِ مطالبہ و عقد نہیں بلکہ انہیں اسی طے شدہ وقتِ عقد کی قیمت کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔عباراتِ فقہاء میں جہاں باہمی رضا مندی سے ثمن میں اضافے کا جواز بیان ہوا وہ مقام اس سے مقید ہے کہ جب دائن مشتری کی جانب سے اضافے کا مطالبہ نہ ہوکہ اس وقت اضافہ حسنِ قضاء کہلاتا ہے لیکن اگر اضافہ مشروط یا معروف ہو تو سود ہوتا ہے۔اسی طرح یہ اضافہ عوض سے خالی ہے اور بحکم حدیث (لا يحل بيع ما ليس عندك ولا ربح ما لم يضمن)اس شے کا نفع حرام ہوتا ہے جو مضمون نہ ہو۔یہاں چونکہ اضافی 15 لاکھ عوض سے خالی ہیں اور یہ نفع مضمون بھی نہیں تو یہ سود قرار دیا جائے گا۔

    علامہ علی بن محمد الشريف الجرجانی (المتوفى: 816ھ) سود کی تعریف بیان فرماتے ہیں:"هو فضل خالٍ عن عوض شرط لأحد العاقدين".ترجمہ:وہ اضافہ جو عوض سے خالی ہو اور عاقدین میں سے کسی کیلئے مشروط ہو۔(التعریفات،باب الراء،ص:109،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    دائن اپنے دین ہی کی مثل کا حق رکھتا ہے،خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"إنَّ الدُّيُونَ تُقْضَى بِأَمْثَالِهَا أَيْ إذَا دَفَعَ الدَّيْنَ إلَى دَائِنِهِ ثَبَتَ لِلْمَدْيُونِ بِذِمَّةِ دَائِنِهِ مِثْلُ مَا لِلدَّائِنِ بِذِمَّةِ الْمَدْيُونِ".ترجمہ: دیون ان کی امثال سے ادا کیے جاتے ہیں۔مراد یہ ہے جب مدیون نے دین، دائن کو ادا کر دیا تو دائن کے ذمہ مدیون کیلئے اس کی مثل ثابت ہو گیا جو دائن کا مدیون کے ذمہ تھا۔(ردالمحتار،‌‌كتاب الأيمان،مطلب في قولهم ‌الديون ‌تقضى بأمثالها،3/789،دار الفکر)

    مالیتِ ثمن کی کمی بیشی کا اعتبار نہیں،اتنی ہی مالیت کی ادائیگی لازم ہے جو طے پائی تھی، علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَلَوْ اشْتَرَى بِفُلُوسٍ نَافِقَةً، ثُمَّ كَسَدَتْ قَبْلَ الْقَبْضِ... وَلَوْ لَمْ تَكْسُدْ، وَلَكِنَّهَا رَخُصَتْ قِيمَتُهَا أَوْ غَلَتْ لَا يَنْفَسِخُ الْبَيْعُ بِالْإِجْمَاعِ، وَعَلَى الْمُشْتَرِي أَنْ يَنْقُدَ مِثْلَهَا عَدَدًا، وَلَا يَلْتَفِتُ إلَى الْقِيمَةِ هَهُنَا؛ لِأَنَّ الرُّخْصَ أَوْ الْغَلَاءَ لَا يُوجِبُ بُطْلَانَ الثَّمَنِيَّةِ أَلَا تَرَى أَنَّ الدَّرَاهِمَ قَدْ تَرْخُصُ، وَقَدْ تَغْلُو وَهِيَ عَلَى حَالِهَا أَثْمَانٌ".ترجمہ: اگر مشتری نے صحیح سکوں کے عوض خریداری کی پھر قبضہ سے قبل وہ سکے کھوٹے ہو گئے ۔(یا)اگر سکے کھوٹے نہ ہوئے، لیکن ان کی قیمت کم ہو گئی یا بڑھ گئی تو بيع بالاجماع فسخ نہ ہوگی اور مشتری پر ہم مثل سکوں کو گن کر نقد قیمت ادا کرنا ضروری ہوگا۔ اور یہاں اس کی قیمت کو نہ دیکھا جائے گا۔ اس لئے کہ سستا یا مہنگا ہونا مالیت کے بطلان کو ظاہر نہیں کرتا۔ کیا تجھے علم نہیں کہ درہم کبھی سستے اور کبھی مہنگے ہو جاتے ہیں اور وہ بدستور زر رہتے ہیں ۔(بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل فی حکم البیع،5/242،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    علامہ ابو الحسن علی بن الحسین الحنفی (المتوفی:461ھ) فرماتے ہیں:"ان يَبِيع رجلا مَتَاعا بِالنَّسِيئَةِ فَلَمَّا حل الاجل طَالبه رب الدّين فَقَالَ الْمَدْيُون زِدْنِي فِي الاجل ازدك فِي الدَّرَاهِم فَفعل فان ذَلِك رَبًّا".ترجمہ:ایک شخص نے ادھار سامان بیچا جب ادھار کی مدت پوری ہو گئی تو بائع دائن نے مشتری مدیون سے ثمن دین کا مطالبہ کیا تو مدیون نے کہا کہ مجھے مزید مہلت دے دو میں دراہم کی تعداد بڑھا دوں گا، پھردائن نے اس کو قبول کر لیا تو یہ زیادتی سود ہے۔(النتف فی الفتاوى ،الربا فی الدین،ص:485،مؤسسة الرسالۃ،بيروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1 صفر المظفر 1445 ھ/7 اگست 2024ء