بہ حالت نشہ طلاق کا حکم
    تاریخ: 28 نومبر، 2025
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 307

    سوال

    میرا نام سمعیہ ارشد ہے،میری شادی 9 سال قبل عمر گوہر طارق سے ہوئی ،شادی کے ساتویں مہینے جب میں حاملہ تھی ،اس نے مجھے دو اکھٹی طلاقیں دیں جسکے الفاظ یہ تھے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔اس وقت بقول اسکے وہ نشے میں تھا (چرس والے سگریٹ کا نشہ)،جب یہ صورتِ حال پیش آئی اس وقت ہماری بحث چل رہی تھی،لیکن چیخنے چلانے والی لڑائی نہیں تھی،اس کا طلاق دینے کا انداز دھمکانے والا تھا،وقت گزرتا رہا اور وہ اکثر مجھے مارتا تھا ،اور چرس کا نشہ اسی طرح رہا ،کام بھی چھوٹ گیا،یوں وہ سارا دن گھر پہ رہتا اور سارا دن لڑائی جھگڑا اور مارنا اسکا معمول بن گیا،میرے دو بیٹے ہوگئے دوسرے بیٹے کی پیدائش کے وقت ایک بار پھر شدید غصے کی حالت میں اور چرس کے سگریٹ کے نشے میں اس نے ایک پھر طلاق دی،اور معافی تلافی کر لی،میں اس کے ساتھ پھر رہنے لگی،اسی طرح کچھ عرصے کے بعد اس نے سگریٹ کے نشے میں اور شدید غصے میں مجھے تین طلاقیں پھر دے دیں،اس دفع اکھٹی دیں کہ’’ میں تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘پھر پنڈی کے ایک مفتی صاحب سے فتوی لے آیا کہ غصے کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی،البتہ اس طلاق کے متعلق میرا شوہر کہتا ہے کہ میں نے ایک بار طلاق دی ،لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تین بار طلاق دی،لیکن بہ قولعمر اس کو یاد نہیں،،، اس کے بعد میں پھر حاملہ ہوئی ،لیکن نویں مہینے میں میری بیٹی اندر ہی فوت ہو گئی،اس کے بعد بھی لڑائی جھگڑا ہوا ،آخر تنگ آ گھر چھوڑ کر آ گئی۔پھر میں نے پنڈی والا فتوی یہاںدو تین مفتی صاحبان کو دیکھایا،انہوں نےجوابا ً کہا کہ یہ فتوی ٹھیک نہیں۔اب میں اس مسئلہ کو سلجھانے چاہتی ہوں ، آیا یہطلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟

    سائلہ:سمعیہ ارشد ،بہ معرفت مفتی شاہدصاحب/لاہور

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں سمعیہ ارشداپنے شوہر پر تین طلاقوں کے ساتھحرام ہو چکی ہیں،لہذا انکا حلالہشرعی کے بغیر ایک ساتھ رہنا ناجائز و حرام اوراللہ کے غصب کو دعوت دینا ہے ۔اور وہ مفتی صاحب جنھوں نےعدمِ وقوعِ طلاق کا فتوی دیاانھوں نے اس مسئلہ میں صریح غلطان کیا ہے۔چناچہ اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ :

    بابِ طلاق میں نصوص مطلق وارد ہوئی ہیں کہ غصے یا نشے والی کی طلاق کااستثنا نہیں بلکہ ایسی حالت میں بھی طلاق واقعہو جاتی ہے ،اور مذہبِ حنفی کی تمامکتب ِ معتبرہ،متون ،شروح اور فتاوی میں اس بات کی تصریح ہے کہ سکران(نشے والے ) کی طلاق واقع ہو جاتی ہےاگرچے اس نشہ آور چیز کا تعلق شراب کےعلاوہ کسی اور چیز سے ہو ،بلکہ نبیض وغیرہ اشیاء کے استعمال سے نشے کی صورت میں بالتخصیص مفتی بہ قول کے مطابق وقوعِ طلاق کی تصریحات واضحموجود ہیں ،چناچہ فتح القدیر جلد 3 صفحہ 348 ،فتاوی ہندیہ جلد 2 صفحہ 48،اور ردالمحتار میںہے ، واللفظ لہ:" وَفِي التَّتَارْخَانِيَّة: طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَاْقِعٌ إذَا سَكِرَ مِنْ الْخَمْرِ أَوْ النَّبِيذِ وَهُوَ مَذْهَبُ أَصْحَابِنَا". ترجمہ: فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے کہ نشہ والے کی طلاق واقع ہوجاتی ہے، جب نشہ خمر(شراب) یا نبیذ سے ہو،یہی مذہب ہمارے اصحاب کا ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الطلاق، جلد4 صفحہ :434، مکتبہ رحمانیہ لاہور)

    نیز اسی میں ہے:" الْمُخْتَارُ فِي زَمَانِنَا لُزُومُ الْحَدِّ وَوُقُوعُ الطَّلَاقِ" ترجمہ: ہمارے زمانے میں مختاریہ ہے کہ شرابی کوحدبھی لگائی جائے اوراس کی طلاق بھی واقع ہوجائے۔ (ردالمحتارمع الدرلمختار،مطلب فی تعریف السکران وحکمہ، جلد4، صفحہ :444 مکتبہ امددایہ ملتان)

    اسی کے دوسرے مقامپر ہے:" وَإِنْ لِلَّهْوِ وَإِدْخَالِ الْآفَةِ قَصْدًا فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَتَرَدَّدَ فِي الْوُقُوعِ. وَفِي تَصْحِيحِ الْقُدُورِيِّ عَنْ الْجَوَاهِرِ: وَفِي هَذَا الزَّمَانِ إذَا سَكِرَ مِنْ الْبَنْجِ وَالْأَفْيُونِ يَقَعُ زَجْرًا، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى"

    ترجمہ:اگر نشہ آور چیز لہو کے طور پر یا جان بوجھ کر نشہ لانے کیلئےاستعمال کی تو پھر ایسے شخص کی طلاق کے واقع ہونے میں کوئی تردد نہیں(یعنی طلاق واقع ہو جائے گی) اور تصحیح القدوری میں جواہر سے ہےکہ:فی زمانہ اگر بھنگ اور افیون سے نشہ کیا ہو تو زجراً طلاق واقع ہو جائے گی،اسی پر فتوی ہے۔ (ردالمحتار کتاب الطلاق، جلد4 صفحہ 446،مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان)

    یوں ہی طلاقِ غضبان (غصے والی کی طلاق ) کے واقع ہونے کی بھی صاف صاف تصریہات موجود ہیں ،بلکہ ہمارے ائمہ نے تو کو غصے کو دلیلِ طلاق بنایاہے ،اور لکھا ہے کہ الفاظِ کنایہ جومعنی طلاق بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں،اور رد کرنے کا احتمال نہ رکھتے ہوں ، غصے کی حالت میں ان سے بھی طلاق ہو جائے گی ،اگرچہ قائل نیتِ طلاق کا صریح انکار کرے،جیسا کہ فتاوی قاضی خان میںہے کہ :’’و فی حالۃ االغضب یقع الطلاق بثلاثۃ من ہذہالثمانیہ واذا قال لم انو الطلاق لا یصدق قضاء ترجمہ: اور حالتِ غضب میں ان آٹھ الفاظ میں سے تین کےساتھ طلاق واقع ہو جائے گی ،اور جب قائل کہے کہ میں نے ان سے طلاق کی نیت نہیں کی تو قضاءً اسکی تصدیق نہیں کیجائے۔(فتاوی قاضی خان جلد 2 صفحہ 401)

    بابِ طلاق میں حالتِغضب میں جب کنایہ کا یہ معاملہ ہے تو صریح میں بطریقِاولی طلاق ہو گیاس لیے کہ وہ اقوی من الکنایہ ہوتا ہے ۔تو واضح ہوا کہ غصہ منافی طلاق نہیں بلکہ ارادہ طلاق ہے ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری عفی عنہ

    الجواب الصحیح:ابوالحسنینمفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:11جمادی الاخری 1441 ھ/7فروری2020ء