بدمذہب کی نماز جنازہ پڑھانے والے امام کا حکم
    تاریخ: 28 نومبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 306

    سوال

    ایک شخصجو کہ اہلسنت وجماعت کی مسجد میں امام ،بدمذہب کے جنازے میں شرکت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا نکاح بھی پڑھاتا ہو ،نیز اس نے امسال تراویح کی جماعت صرف دس رکعت تک محدود کی ،ایسے شخص کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

    سائل:خرم مدنی/جہلم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ایسے امام کی بابت حکم شرعی چند صورتوں پر مشتمل ہے:

    1:۔اگر بد مذہبوں کے کفریہ اور گمراہ کن عقائد پر مطلع ہو کر انہیں حق جانتا ہو تو اس کا حکم بھی وہی ہے جو ان (گمراہ و بددین لوگوں )کا ہے ۔سو جن لوگوں نےاس(امام) کی مذکورہ کیفیت کا علمنہ ہونے کی وجہ سے اس اقتدا میں نمازیں پڑھ لی ،علم ہو جانے کے بعد ان نمازوں کا اعادہ (دہرانا )واجب ہے۔

    اور اگر ان (بد مذہبوں )کے عقائد و نظریات سے بے خبر ہے(جو کہ اس منصب کے حامل شخص سےممکننہیں )تو اس صورت میں وہاں کے صاحبان ِعلم اسے ان کے کفریاتاور گمراہیوں پر سے آگاہ کریں ،اگر بازآ جائے تو ٹھیک ورنہ اس کا وہیحکم رہے گایعنی یہشخص گمراہ و بددین ہے۔اور مسجد انتظامیہ اسے فی الفور معزول کرے اور کسی صحیح العقیدہ عالمِ دین کو یہ منصب سونپے ۔

    اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہلکھتے ہیں: اگر اس کے ضلالت وکفریات پرآگاہی ہو کر اُسے اہلِ حق جانتا ہو تو خود اُس کی مثل گمراہ بددین ہے اور اُس کے پیچھے نماز کی اجازت نہیں ،اگر نادانستہ پڑھ لی ہو تو جب اطلاع ہو اعادہ واجب ہے،کما ھوالحکم سائر اعداء الدین من المبتدین الفسقۃ المرتدۃ المفسدین ترجمہ :جیسا کہ یہی حکم تمام ان اعداء دین کا ہے جو بدعتی ،فاسق ،مرتد اور فساد پھیلانے والے ہیں۔اوراگرآگاہ نہیں تو اُسے اس کے اقوالِ ضالہ دکھائے جائیں، اس کی گمراہی بتائی جائے ۔ اگر اب بعد اطلاع بھی اُسے اہلِ حق کہے وہی حکم ہے، اور اگر توفیق پائے حق کی طرف فاخوانکم فی الدین ترجمہ: تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔(فتاوی رضویہ جلد6 صفحہ486 رضا فاؤنڈیشن لاہور،ملخصاً)

    2:۔اور اگر ان بد مذہبوں کوگمراہ و بدین جانتے ہوئے ان سے اس طرح کے راہ و رسم رکھتا ہوتو فاسق ہے،اور فاسقِ معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ۔

    تبیین الحقائق میں ہے: لِأَنَّ فِي تَقْدِيمِهِ لِلْإِمَامَةِ تَعْظِيمَهُ وَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِمْ إهَانَتُهُ شَرْعًا ترجمہ:کیوں کہ امامت کے لیے اسے مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے اور بے شک لوگوں پر شرعی لحاظ سے اساہانت واجب ہے ۔(تبین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الامامۃ جلد 1صفحہ134 )

    حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: کرہ إمامة الفاسق العالم لعدم اہتمامہ بالدین،فتجب إھانتہ شرعاً، فلا یعظم بتقدیمہ للإمامة ترجمہ: فاسق عالم کی امامت،اس کے پابندِ دین نہ ہونے وجہ سے مکروہ ہے اور شرعی لحاظ سے اس کی اہانت واجب ہے،پس اس کو امامت کے لیے مقدم کر کے تعظیم نہیں کی جائے گا۔ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، صفحہ 303 دار الکتب العلمیة بیروت)

    امام اہلسنت سے اسی طرح کاسوال ہوا کہ :کیا ارشاد ہے شریعت مقدسہ کا اس مسئلہ میں کہ زید بد مذہبوں کے یہاں علانیہ کھاتا ہے بد مذہبوں سے میل جول رکھتا ہے مگر خود سُنّی ہے اُس کے پیچھے نماز کیسی اور اسکے تراویح سننا کیسا ہے؟ تو آپ علیہ الرحمہ جواباً فرماتے ہیں: اس صورت میں وہ فاسق معلن ہے اورامامت کے لائق نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ جلد6 صفحہ625 رضا فاؤنڈیشن لاہور،)

    البتہ ایسا شخص اگر توبہ و رجوع کر لے،اپنے آپ کو سنی حنفی کہے تو اس کی بابت حسنِ ظن اور اس کے ساتھ تعلق برداری قائم رکھیں گے، ارشاد باری تعالی ہے: ولا تقولوالمن القی الیکم السلام لست مومنا ترجمہ:اور جو تمھیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ (النساء:94)

    نبی کریم صلی اﷲ تعا لیٰ علیہ وسلم کا فرمان ہیں : افلا شققت عن قلبہ ترجمہ: کیا نونے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا۔(صحیح مسلم،رقم الحدیث :158)

    البتہ منصب ِامامت پر بحال نہیں رکھا جائے گا اس لیے کہ نفسِ امامت کا حکم اس کی ذات کے حکم سے الگ ہے کہ یہاں حد درجہ کی احتیاط چاہیے ،سوکچھ عرصہ اس کے حالات و تعلقات ،میل جول ،محافل و مجالس اور افکار پر نظررکھی جائے گی ،قلبی اطمینان ہو جانے کے بعد منصب سونپ سکتے ہیں ،تاہم دوبارہ اسی شخص کو امام مقرر کرنا شرعی لحاظ سے ضروری نہیں ۔

    فتاوٰی عالمگیری میں ہے:الفاسق اذاتاب لا تقبل شھا دتہ مالم یمض علیہ زمان یظھر علیہ اثر التوبۃ والصحیح ان ذلک مفوض الی راء القاضی ترجمہ:فاسق اگر توبہ کرلے تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی جب تک اتنازمانہنہ گزر جائے جس میں اس پر توبہ صدق کا اثر ظاہر ہو اور صحیح یہ ہے کہ یہ معاملہ قاضی کی رائے کی طرف سپرد کیا جائے۔ ( فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادۃ لفسقہ جلد 3صفحہ 468)

    پھر اگر یہ شخص توبہ بھی کرلے تو بمجر و توبہ اسے امام نہیں بنا سکتے بلکہ لازم ہے کہ ایک زمانہ ممتد تک اسے معزول رکھیں اور اور اس کے احوال پر نظر رہے، اگرخوف وطمع وغضب ورضا وغیرہا حالات کے متعدد تجربے ثابت کردیں کہ واقعی یہ سنی صحیح العقیدہ ثابت قدم ہے اور روافض سے اصلاً میل جول نہیں رکھتا بلکہ ان سے اور سب گمراہوں بدینوں سے متنفر ہے اس وقت اسے اما م کرسکتے ہیں۔(فتاوی رضویہ جلد6 صفحہ531 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح :ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء: 08 جمادی الثانی1442ھ/22جنوری2021