سوال
مسجد کے پروگرام کے لئے مسجد کی چھت پر حلیم یا بریانی بنوانا کیسا ہے؟جس سے مسجد کے چھت پر ظاہری طور کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔
سائل: مولانا وارث۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسجد کی چھت پر حلیم یا بریانی بنوانا جائز نہیں اگرچہ چھت مؤثر نہ ہو۔کیونکہ مسجد کی چھت مسجد ہی کے حکم میں ہے،لہذا جس طرح مسجد کی چھت پر پیشاب پاخانہ کرنا،بے غسل مرد و عورت کا اس پر جانا حرام ہے اسی طرح اس پر کھانا پکوانا بھی حرام ہے کہ کھانے میں بعض ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں، جن کی بو فرشتوں کے لیے باعث اذیت ہے، جیسے: کچا پیاز اور کچا لہسن وغیرہ اور مسجد میں کوئی ایسا کام جائز نہیں جو مسجد کے احترام کے خلاف ہو یا اس سے فرشتوں کو اذیت ہو؛ اس لیے مسجد شرعی کی حدود میں نچلی یا اوپری منزل میں کھانا پکانا جائز نہیں۔
البتہ اگر چھت پر خارج مسجد کچھ حصہ ملتا ہو تو اس خارج حصے میں کھانا پکواسکتے ہیں۔یاد رہے کہ صحن مسجد خارج مسجد نہیں،لہذا اس حصے کی چھت پر یہ اجازت نہیں۔کیونکہ مسجد وہ ہے جو فرض نمازوں کیلئے وقف ہو اور اس تعریف میں صحن مسجد بالیقین شامل ہے۔
دلائل و جزئیات:
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَ) كُرِهَ تَحْرِيمًا (الْوَطْءُ فَوْقَهُ، وَالْبَوْلُ وَالتَّغَوُّطُ) لِأَنَّهُ مَسْجِدٌ إلَى عَنَانِ السَّمَاءِ".ترجمہ:مسجد کی چھت پر جماع اوربول و براز مکروہ تحریمی ہے کیونکہ مسجد تو بلندی ِآسمان تک ہے۔
چھت کے مسجد کے حکم میں ہونے سے متعلق متفرعات بیان کرتے ہوئے خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) لکھتے ہیں:"وَلَا يَبْطُلُ الِاعْتِكَافُ بِالصُّعُودِ إلَيْهِ وَلَا يَحِلُّ لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِ الْوُقُوفُ عَلَيْهِ".ترجمہ:(اسی لئے) مسجد کی چھت پر جانے سے اعتکاف باطل نہیں ہوتا۔ اسی طرح جنبی شخص اور حیض و نفاس والی عورت کا چھت پر ٹھہرنا بھی جائز نہیں۔(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ،1/656،دار الفکر)
مزید آپ فرماتے ہیں:"(قَوْلُهُ وَأَكْلُ نَحْوِ ثُومٍ) أَيْ كَبَصَلٍ وَنَحْوِهِ مِمَّا لَهُ رَائِحَةٌ كَرِيهَةٌ لِلْحَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي النَّهْيِ عَنْ قُرْبَانِ آكِلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ الْمَسْجِدَ. قَالَ الْإِمَامُ الْعَيْنِيُّ فِي شَرْحِهِ عَلَى صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ قُلْت: عِلَّةُ النَّهْيِ أَذَى الْمَلَائِكَةِ وَأَذَى الْمُسْلِمِينَ وَلَا يَخْتَصُّ بِمَسْجِدِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -، بَلْ الْكُلُّ سَوَاءٌ لِرِوَايَةِ مَسَاجِدِنَا بِالْجَمْعِ".ترجمہ:(تھوم وغیرہ مسجد میں کھانا مکروہ ہے) جس طرح پیاز وغیرہ جن کی بو ناپسندیدہ ہو۔ یہ اس حدیث کی وجہ سے ہے جو تھوم اور پیاز کھانے والے کے مسجد کے قریب آنے سے نہی کے بارے میں ہے۔امام عینی رحمہ اللہ نے بخاری کی اپنی شرح میں فرمایا: میں کہتا ہوں اس نہی کی علت فرشتوں اور مسلمانوں کو اذیت دینا ہے۔ یہ نہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام مساجد برابر ہیں۔ کیونکہ حدیث مساجدنا صیغہ جمع کے ساتھ مروی ہے۔(رد المحتار،کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ،1/661،دار الفکر)
خاتم المحققین ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ کتاب الوقف میں فرماتے ہیں:"وَبِهَذَا عُلِمَ أَيْضًا حُرْمَةُ إحْدَاثِ الْخَلَوَاتِ فِي الْمَسَاجِدِ كَاَلَّتِي فِي رِوَاقِ الْمَسْجِدِ الْأُمَوِيِّ، وَلَا سِيَّمَا مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى ذَلِكَ مِنْ تَقْذِيرِ الْمَسْجِدِ بِسَبَبِ الطَّبْخِ وَالْغَسْلِ وَنَحْوِهِ".ترجمہ: میں کہتا ہوں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مساجد میں خلوت گاہیں بنانا حرام ہے جیسا کہ مسجد اموی کے برآمدے میں ہیں اور بالخصوص اس صورت میں کہ جب وہاں کھانا پکانے اور برتن دھونے اور اس طرح کے دیگر کام کرنے کی وجہ سے مسجد میں غلاظت اور گندگی پھیلے۔(رد المحتار،کتاب الوقف،فرع بناء بیتا للامام فوق المسجد،4/358،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ صحنِ مسجد قطعاًجزء مسجد ہے ... اوّلا ًمسجد اس بُقعہ کا نام ہے جو بغرض نمازِ پنجگانہ وقف خالص کہا گیا...یہ تعریف با لیقین صحن کو بھی شامل 'اور عمارات و بنایا سقف وغیرہ ہر گز اس کی ماہیت میں داخل نہیں یہاں تک کہ اگر عمارت اصلاً نہ ہو صرف ایک چبوترہ یا محدودمیدان نماز کے لئے وقف کردیں قطعاً مسجد ہوجائے گا اور تمام احکامِ مسجد کااستحقاق پائے گا‘‘۔(فتاوی رضویہ،8/60-61،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16محرم الحرام 1445 ھ/23 جولائی 2024ء