میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں
    تاریخ: 29 جنوری، 2026
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 690

    سوال

    گھریلو جھگڑے کے دوران میری بیوی نے کہا ، پتہ نہیں تم سے کب جان چھوٹے گی تو میں نے کہا ابھی چھوڑ دیتے ہیں اسی اثناء میں ، میں نے ایک سادہ کاغذ پر تحریر لکھ کر دے دی جسکے الفاظ یہ تھے'' میں اپنے ہوش و حواس میں طاہرہ کو طلاق دیتا ہوں، میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں۔اسکے بعد وہ اپنے بھائی کے گھر چلی گئی پھر میں بھی وہیں چلا گیا اور آدھے گھنٹے کے اندر اندر میں بیوی کو واپس لے آیا۔ نیز ایک سال قبل بھی میں نے اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ ایک طلاق دی تھی '' میں آپکو طلاق دیتا ہوں'' ۔اسکے ایک گھنٹے بعد ہی رجوع کرلیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

    نوٹ: شوہر سے بات کی گئی تو ان کاحلفیہ اقرار ہے کہ یہ تحریر محض ڈرانے دھمکانے کے لئے لکھی گئی ، بنیتِ طلاق نہیں لکھی گئی ۔

    سائل:نعمان : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مفتی کا کام صورتِ مسئولہ کا جواب دینا ہے واقعہ کی تحقیق اسکے ذمے لازم نہیں ، لہٰذا اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو حکمِ شرع درج ذیل ہے:

    چونکہ مرد کی جانب سے طلاق کی تحریر سادہ کاغذ پر لکھی گئی تو بلاشبہ یہ تحریر طلاقِ غیر مرسومہ مستبینہ کی ہے جو وقوع کے لئے محتاجِ نیت ہے ۔ سو اگر مرد اپنی بات میں سچا ہے تو عدمِ نیت کے سبب ایسی تحریر سے طلاق واقع نہ ہوگی۔باقی نیتوں کا حال اللہ خوب جانتا ہے۔

    البتہ چونکہ شوہر اس بات کا مُقِر ہے کہ پہلےایک طلاق کے بعد رجوع کرلیا تھا تو اب انہیں صرف دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔

    اسکی تفصیل یہ ہے کہ طلاق نامے کی دو قسمیں ہیں۔ 1 : مستبینہ مرسومہ طلاق نامہ ۔ 2: مستبینہ غیرمرسومہ طلاق نامہ ۔

    مستبینہ مرسومہ طلاق نامہ : وہ طلاق نامہ جس میں طلاق کا عنوان اورتمہیدیعنی طلاق دینے کی وجہ، الفاظِ طلاق اور شوہر کے دستخط بھی موجود ہوں جیساکہ فی زمانہ اسٹامپ پیپروالاقانونی طلاق نامہ ہوتا ہے اس طرح کے طلاق نامے سے بغیر کسی نیت کے اظہار کے قضاء طلاق واقع ہو جائے گی۔

    مستبینہ غیرمرسومہ طلاق نامہ : وہ طلاق نامہ جو طلاق کے عنوان ،سبب ِطلاق کے بیان ،شوہر کے دستخط کے بغیر ہو یاان میں سے کسی بھی ایک چیز کے بغیر ہو یا فی زمانہ سادہ کاغذ پر ہو۔ اس میں نیت لازم ہوتی ہے اور بلانیت طلاق واقع نہ ہوگی۔

    حاشیہ شامی و عالمگیریہ میں ہے :واللفظ لہالْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ:ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،1: مرسومہ۔2: غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں، مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین ےا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اور غیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں)طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اس مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔(شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)

    تبیین الحقائق میں امام فخرالدین زیلعی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ثم الکتاب علی ثلاث مراتب مستبین مرسوم وھوان یکون معنوناً ای مصدرا بالعنوان ، وھو ان یکتب فی صدرہ من فلان الی فلان علی ماجرت بہ العادۃ فی تسییر الکتاب فیکون ھذاکالنطق فلزم حجۃ ومستبین غیر مرسوم کالکتابۃ علی الجداران واوراق الشجر،او علی الکاغذ لاعلی وجہ الرسم فان ھذا یکون لغواً ،لانہ لا عرف فی اظہار الامر بھذا الطریق ،فلایکون حجۃ الا بانضمام شیء اخر الیہ کالنیۃ والاشھاد علیہ والاملاء علی الغیر حتی یکتبہ ،لانہ الکتابۃ قد تکون للتجربۃ ،وقد تکون للتحقیق ،وبھذا الاشیاء تتعین الجھۃ وقیل :الاملاء من غیر اشھاد لا یکون حجۃ ، والاول اظھر وغیر مستبین کالکتابۃ علی الھواء او الماء وھو بمنزلۃ کلام غیر مسموع ولایثبت بہ شیء من الاحکام وان نوی۔ترجمہ: تحریر کی تین اقسام ہیں(پہلی قسم) مستبینہ مرسومہ اور وہ وہ ہوتی ہے کہ شروع میں عنوان ہو اورشروع میں اس طرح لکھے کہ فلاں سے فلاں کی طرف جس طرح پر خط بھیجنے کی لوگوں کی عادت جاری ہو چکی ہے تو یہ بولنے کی طرح ہے پس یہ ضرور حجت ہوگی ۔(دوسری قسم)مستبینہ غیرمرسومہ جیسے دیواروں پر لکھنا اور درختوں کے پتوں پر لکھنا یا کاغذپرغیر معروف طریقے سے لکھنا ،بے شک یہ تحریرلغو ہے کیونکہ اس طریقے سے کسی امر کے اظہار کا ہمارے ہاں عرف نہیں پس یہ حجت بھی نہیں ہوگامگر جب اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز ملی ہوئی ہو۔ جیسا کہ طلاق کی نیت کرنایا اس تحریر پر گواہ بنانا، اور کسی دوسرے سے لکھواناحتی کہ وہ لکھ دے کیونکہ تحریر کبھی تجربہ کے لئے ہوتی ہے اور کبھی تحقیق کے لئے ان مذکورہ چیزوں کے ساتھ اس کی جہت متعین ہو جائے گی۔اور بعض نے کہا کہ املاء کرواناگواہوں کے بغیرہو تووہ حجت نہیں اور پہلا قول زیادہ واضح ہے۔اور (تیسری قسم)غیر مستبینہ جیسا کہ ہوایا پانی پر لکھنا اور یہ اس کلام کی طرح ہے جواتنا آہستہ ہو کہ سُنا نہ جا سکے( جس طرح دل میں کہی ہوئی بات )اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا اگرچہ اس نے نیت بھی کی ہو ۔(تبیین الحقائق ، ج:7،ص:448، مطبوعہ مرکز اہلسنت برکات رضا،ہند)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:01 جمادی الثانی 1443 ھ/05 جنوری 2022 ء