خون چڑھوانا اور خون کا عطیہ کرنا کیسا

    khoon charhwana aur khoon ka atiya karna kaisa

    تاریخ: 13 جون، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 1447

    سوال

    کسی مریض کو ضرورت کی وجہ سے خون لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ نیز خون کا عطیہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ پھر اس میں مسلم و غیر مسلم کی قید ہے یانہیں؟محارم و غیر محارم کی قید ہے یا نہیں؟

    سائل:عبدالاحد : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بلاشبہ خون ایک حرام اور نجس چیز ہے اور نجس چیز سے استفادہ از روئے شرع منع ہے تاہم بعض مخصوص حالات میں شریعتِ مطہرہ نے چند شرائط کے ساتھ حرام اشیاء سے استفادہ کی اجازت دی ہے۔

    مریض کو خون چڑھانے کے جواز کی چند صورتیں ہیں :

    1: مریض کی جان بچانے کے لئے خون چڑھایا جائے۔

    2: اعضاء کو بے کار ہونے سے بچانے کے لئے خون چڑھایا جائے۔

    3: جمالِ مقصد کے تحفظ کے لئے مثلا حلقہ چشم کی حفاظت کے لئے خون چڑھایا جائے۔

    4: خون کی کمی کے باعث کسی بیماری کے لاحق ہونے کا خطرہ ہو جو شدید موذی ہو، ھرنیا۔

    5: خون نہ چڑھانے کے سبب مرض کی تکلیف لمبا عرصہ تک رہے اور تکلیف ناقابلِ برداشت ہو۔

    6: جسم میں خون کی کمی اس قدر ہوجائے کہ اسکی وجہ سے انسان کی طبیعت میں تناؤ ، ہوش و حواس میں اختلال،لاغرپن اور جسم کا برف کی مثل ٹھنڈا پڑ جانے والی کیفیات طاری ہوجائیں ۔ تو ان تمام صورتوں میں خون چڑھانے کی اجازت ہے۔

    شریعت مطہرہ نے بعض حالات میں حرام اشیاء کے استعمال کو مباح بلکہ بعض صورتوں میں واجب قرار دیا ہے۔ قال اللہ تعالٰی :إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔ ترجمہ کنز الایمان : اس نے یہی تم پر حرام کیے ہیں مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خداکا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو ناچار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور

    نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرہ: 173)

    دوسرے مقام پر ارشاد ہے: وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ۔ ترجمہ کنز الایمان : تو تم سے مُفَصَّل بیان کرچکا جو کچھ تم پر حرام ہوا مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو۔(الانعام : 119)

    اول الذکر آیت میں خون اور دیگر اشیاء کی حرمت کے ساتھ ساتھ حالتِ اضطرار میں انکے استعمال کی اجازت بھی دی گئی ہے ،جبکہ ثانی الذکر آیت میں مجملا اشیاءِ محرمہ کو حالتِ اضطرار میں استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

    یوں ہی احادیث مبارکہ میں بھی ہے:

    ابن ماجہ میں ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِحْدَى يَدَيْهِ ثَوْبٌ مِنْ حَرِيرٍ، وَفِي الْأُخْرَى ذَهَبٌ، فَقَالَ:إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ۔ ترجمہ: ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے انھوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس (گھر سے ) باہر تشریف لائے ۔ آپ کے ایک ہاتھ میں ریشمی کپڑا تھا اور دوسرے ہاتھ میں سونا تھا ۔سو آپ نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔(ابن ماجہ: حدیث نمبر 3597)

    پھر بخاری شریف میں ہے: عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ فِي قَمِيصٍ مِنْ حَرِيرٍ، مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا۔ ترجمہ: جناب قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت انس بن مالک نے انہیں یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہما کو خارش کے مرض کی وجہ سے ریشمی کرتہ پہننے کی اجازت دے دی تھی ، جو کہ ان دونوں کو لاحق ہوگیا تھا۔(بخاری شریف، حدیث نمبر 2919)

    حدیثِ اول سے مردوں کے لئے ریشم پہننے کی حرمت ثابت ہوئی جبکہ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ان حضرات کو خارش (ضرورت) کی بناء پر اجازت دی ، اس طرح خون بھی نجس و حرام ہے لیکن مذکورہ صورتوں کی بناء پر اس سے استفادہ کی شریعت میں اجازت ہے مثلا کسی شخص کو گولی لگی اور اسکا بہت سا خون بہہ گیا اور بغیر خون لگائے اسکی موت کے وقوع کا امکانِ قوی کا ہے یا کسی کو بلڈ پریشر ہو جس میں مریض کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک ماہ یا ایک مخصوص مدت کے بعد مریض کے جسم کا سارا خون ناکارہ ہوجاتا ہے، پھر مریض کے پورے جسم کا خون تبدیل کیا جاتا ہے ورنہ مریض کا مرجانا یقینی ہوتا ہے۔ ان حالات میں شریعت خون لگانے سے کیونکر منع کرے گی جبکہ شریعت کا واضح اعلان ہے : قال اللہ تعالٰی : وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ۔ ترجمہ:اور اس نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔(الحج: 78)

    پھر ہمارے فقہاء نے صراحت کی ہے کہ ہے حرام اشیاء سے علاج یعنی تداوی بالحرام درست ہے، جبکہ معلوم ہوکہ شفا صرف اسی حرام چیز سے استفادہ میں ہی ہے اسکے علاوہ کسی اور چیز میں شفا نہیں ہے۔

    چناچہ الدر المختار میں ہے: اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان وعليه الفتوى۔ ترجمہ:حرام اشیاء سے علاج کے بارے میں اختلاف ہے اور ظاہر مذہب میں ہے جیساکہ بحر کے باب الرضا ع میں ہے لیکن مصنف نے یہاں اور وہاں حاوی سے نقل کیا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ حرام اشیاء سے علاج کی اجازت ہے جبکہ معلوم ہوکہ شفا صرف اسی حرام چیز سے استفادہ میں ہی ہے اسکے علاوہ کسی اور چیز میں شفا کاہونا معلوم نہ ہو۔جیساکہ پیاسے کو حالتِ اضطرار میں شراب پینے کی اجازت ہے۔اور اسی پر فتویٰ ہے۔(الدر المختار، جلد 01 ص 210)

    پھر ردالمحتار، مطلب فی التداوی بالمحرم میں ہے:قال في النهاية: وفي التهذيب يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاءه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه۔ترجمہ:نہایہ میں فرمایا کہ تہذیب میں ہے کہ مریض کو بغرضِ علاج پیشاب ، خون اور مردار کا استعمال جائز ہے جبکہ اسکو کسی مسلمان طبیب نے بتایا ہو کہ شفا صرف اسی میں ہے اسکے علاوہ کوئی مباح چیز اسکے قائم مقام نہیں کہ جس سے علاج ممکن ہو۔(رد المحتار علی الدرالمختار، مطلب فی التداوی بالمحرم، جلد 5 ص 227)

    معلوم ہوا کہ جب حرام چیز میں شفا کا علم ہو تو اسکا استعمال بطورِ تداوی جائز و صحیح ہےاور یہاں علم سے مراد علمِ یقینی نہیں بلکہ ظنِ غالب ہے: چناچہ علامہ شامی لکھتے ہیں : والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم ۔ ترجمہ:اور تجربہ (یعنی طبیب نے اپنے تجربہ سے جو حرام سے علاج تجویز کیا)سے بظاہر غلبہ ظن حاصل ہوتا ہے یقین حاصل نہیں ہوتا مگر یہ کہ فقہاء کی علم سے مراد غلبہِ ظن ہی ہے اور یہ انکے کلام میں کثیر الوقوع ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار، مطلب فی التداوی بالمحرم، جلد 1 ص 210)

    مذکورہ بالا کلماتِ فقہاء سے معلوم ہوا کہ اگر شفا یا بیماری سے خلاصی یا مریض کی جان بچانا محض حرام چیز کے استعمال پر ہی منحصر ہو اور اسکے علاوہ کوئی اور چیز جوکہ حلال و مباح ہو اسکے قائم مقام نہ ہو تواس ضرورت کی بناء پر اس حرام چیزکو استعمال کرنا جائز ہے ۔ اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ خون ایک ایسی چیز ہے کہ جس کا بدل اور خلیفہ کچھ اور نہیں ہے۔ خون والی صلاحیات اور صفات کسی دوسری چیز میں نہیں ہیں ،لہذا ان صورتوں میں جن کا ہم ابتداء میں ذکر کرچکے ضرورت متحقق ہے اس وجہ سے خون لگانا اور خون چڑھوانا بلاشبہ جائز عمل ہے۔ البتہ انکے علاوہ کسی اور صورت میں مثلا محض جسمانی طاقت میں اضافہ کے لئے یا کسی اور مقصد کے حصول کے لئے خون لگوانا جائز نہیں ہے کہ وہاں ضرورت متحقق نہیں ہے۔تو جہاں ضرورت متحقق ہے وہاں اجازت ہوگی اور جہاں ضرورت کا تحقق نہ ہو وہاں اجازت بھی نہ ہوگی۔

    الاشباہ میں ہے: ما ابیح للضرورۃ یتقدر بقدرھا۔ ترجمہ: جو چیز ضرورتا جائز کی جائے تو وہ اپنی مقدار کے ساتھ (یعنی جس سے ضرورت پوری ہوجائے )مقدر ہوگی۔(الاشباہ والنظائر لابن نجیم حنفی ص 73)

    اب سوال یہ ہے کہ کیا خون کا عطیہ کرنا درست ہے یا نہیں ؟تو اسکا جواب یہ ہے کہ جس طرح خون لگوانا درست ہےاسی طرح مریض کی حاجت کا عتبار کرتے ہوئے خون کا عطیہ کرنا بھی جائز امر ہے کیونکہ خون ایک نادر و نایاب شئے ہے ، اسکا ہر وقت میسر ہونا مشکل ہے ، لہذا خون عطیہ کیا جائے تاکہ ضرورت کے وقت مریض کو بروقت لگایا جائے اور اسکی جان بچائی جائے۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : پھر اپنی ضرورت تو ضرورت ہے ہی دوسرے مسلم کی ضرورت کا بھی لحاظ فرمایا گیا۔ مثلا: دریا کے کنارے نماز پڑھتا ہے اور کوئی شخص ڈوبنے لگااور یہ بچا سکتا ہے لازم ہے کہ نیت توڑ ے اور اسے بچائے، حالانکہ ابطال عمل حرام تھا۔قال تعالٰی لاتبطلوا اعمالکم ۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو اپنے اعمال کو باطل نہ کیا کرو۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ ، جلد 21ص 206)

    پھر اگر خون عطیہ کرنے سے کسی کی جان بچ جائے تو یہ بات لائقِ سعادت ضرور ہے: قال اللہ تعالٰی :وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۔ ترجمہ کنز الایمان: اور جس نے ایک جان کو جِلا لیااس نے گویا سب لوگوں کو جِلالیا ۔(المائدہ: 32)

    معلوم ہوا کہ خون کا عطیہ نہ صرف جائز بلکہ کارِ ثواب ہے۔

    پھر تیسری بات کہ خون دینے میں مسلم و غیر مسلم ، محارم و غیر محارم کی قید ہے یا نہیں ؟ تو اس میں مسلم و غیر مسلم، محارم و غیر محارم کی قید نہیں ہے کیونکہ خون کافر کا ہو یا مسلم کا، محارم کا ہو یا غیر محارم کا نجاست و حرمت میں یکساں حکم رکھتا ہے۔ البتہ خونِ مسلم کی حرمت بمعنٰی عزت خونِ کافر سے بہرحال جدا ہے۔

    تنویر الابصار مع الدر میں ہے: (ودم) مسفوح من سائر الحيوانات۔ ترجمہ:اور تمام حیوانات کا بہتا خون نجس ہے۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار ، باب الانجاس ج1 ص 319)

    لیکن بہتر یہ ہے کہ مسلمان کا خون میسّر ہو تو غیرمسلم کا خون نہ لیا جائے اور مسلمان کے خون کو ترجیح دی جائے تاکہ غیر مسلم کے جبلی فسادات بذریعہ خون مسلم کے جسم میں منتقل نہ ہوں۔ ہاں ۔۔۔۔! اگر ایسی صورتِ حال پیدا ہوجائے کہ مریض کو جس خون کی ضرورت ہے وہ گروپ ماسوائے غیر مسلم کے کسی اور مسلم شخص میں موجود نہیں یا موجود تو ہے لیکن وہ مسلم کسی وجہ سے دے نہیں سکتا مثلا اسکے جسم میں خون کی متعین مقدار پوری نہ ہو یا یہ کہ اسکے خون میں کوئی بیماری ہو تو اب غیر مسلم کا خون لگوانے میں حرج نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 03 ربیع الثانی 1443 ھ/09 نومبر2021 ء