ajeer khas ka sharai hukm
سوال
کسی شخص کے ساتھ اس طرح اجارہ کرنا کہ ہمیں دو گھنٹے چاہییں ،ہم آپ سے کوئی بھی کام لےسکتے ہیں۔اب وہ شخص اہل علم ہے تو کیا ہم اس سے گلی کی صفائی یا اس جیسے دوسرےکام کرواسکتے ہیں ؟ یعنی منفعت مجہول رکھ کر اجارہ کرنا ممکن ہے؟کتب دینیہ کے حوالہ جات کے ساتھ مفصل جواب تحریر فرمائیں۔
سائل:مولانا کاظم رضا: تھر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اجارہ کی مذکورہ صورت فی نفسہ جائز ہے ، البتہ عرف و عادت کی بناء پر اس اجیر سے ایسا کام لیا جائے گا جس کام میں اسکی مہارت ہو یا جو کام اسکی فیلڈ سے تعلق رکھتا ہو، اسکے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں لیا جاسکتا ۔کیونکہ مذکورہ صورت اجیر واحد یا اجیر خاص کی ہے جس میں اجیر پر تسلیم نفس(جو وقت طے ہوا اتنا وقت دینا) لازم ہوتا ہے ،عمل لازم نہیں ہوتا، تو جب یہ اجیر طے شدہ وقت دے دے تو اجرت کا مستحق ہوجائے گا۔ اسکی تفصیل یہ ہے کہ اجارہ کی دو اقسام ہیں ۔اجارۃ المنافع اور اجارۃ الاشخاص (اسکو اجارۃ الاعمال بھی کہا جاتاہے۔)اجارۃ المنافع میں ضروری ہے کہ جس چیز کا اجارہ کیا جارہا ہے وہ معلوم ہو،یوں ہی اجرت معلوم ہو اور اجارہ کی مدت معلوم ہو ۔ اجارۃ المنافع میں منفعت کا علم کبھی بیان مدت سے ہی ہوجاتا ہے۔جیسے کوئی شخص گھر اجارہ پرلے،توجس قدر مدت بیان کرے گا اسی قدر منفعت متعین ومعلوم ہوجائے گی۔مثلا ایک ماہ،ایک سال وغیرہ دوسری قسم اجارۃ الاشخاص ہے ، پھر اسکی دو اقسام ہیں (1) اجیر مشترک (2) اجیر خاص ۔ اجیر مشترک وہ اجیر ہوتا ہے جو ایک وقت میں کئی لوگوں کا اجیر ہوسکتا ہے ، اور یہ کام کرکے دینے کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے ، تسلیم نفس کی وجہ سے اجرت کا مستحق نہیں ہوتا۔اور اجیر واحد جس کو اجیر خاص بھی کہتے ہیں ،یہ وہ اجیر ہے جو ایک وقت میں ایک شخص کا اجیر ہوسکتا ہے ،اس کے اجارہ کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اجارہ کا وقت معلوم ہو مثلا گھنٹوں کے حساب سے یا دنوں کے یا مہینوں کے حساب سے معلوم ہو۔ اجارہ کی اس قسم میں کام معلوم ہونا ضروری نہیں ،البتہ عرف میں اس سے جو کام لیا جاسکتا سے وہی لیا جائے گا اسکے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں لیا جاسکتا۔
چناچہ علامہ بدرالدين ابومحمدمحمودبن احمدبن موسى حنفى عينى المتوفى: 855ھ لکھتے ہیں:وقال صاحب " التحفة ": الإجارة نوعان، إجارة على المنافع، وإجارة على الأعمال، ولكل نوع شروط وأحكام أما الإجارة على المنافع فكإجارة الدور والمنازل والحوانيت والصناع وعبيد الخدمة، والدواب للركوب والحمل، والثياب وحلي البسر، والأواني للاستعمال، والعقد في ذلك كله جائز. وشرط جوازه أن تكون العين المستأجرة معلومة، والأجرة معلومة، والمدة معلومة بيوم أو شهر أو سنة،وأما الإجارة على الأعمال فكاستئجار الإسكاف والقصار والصباغ وسائر من يشترط عليه العمل في سائر الأعمال من حمل الأشياء من موضع ونحوه، أشار إليه بقوله (الإجارة قد تكون عقدا على العمل كاستئجار القصار والخياط، ولابد أن يكون العمل معلوما وذلك في الأجير المشترك) أي كون العقد على العمل في الأجير المشترك (وقد يكون عقدا على المنفعة) كاستئجار الرجل يوما أو شهرا للعمل (كما في أجير الواحد) ترجمہ:صاحب تحفہ نے فرمایا: اجارہ کی دو اقسام ہیں: اجارۃ المنافع اور اجارۃ الالاعمال، ان میں سے ہر قسم کی چند شرائط اور احکام ہیں۔ اجارۃ المنافع (کی مثالیں )جیسے گھر،دکان،مستری،خدمت کے غلام ، سواری کا جانور،بوجھ اٹھانے کا جانور، کپڑے، زیورات، اور استعمال کے برتن۔ ان تمام اشیاء میں عقد جائز ہے۔ اس عقد کے جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ جس چیز کا اجارہ کیا جارہا ہے وہ معلوم ہو ، یوں ہی اجرت معلوم ہو اور اجارہ کی مدت معلوم ہو مثلا دن ،مہینہ یا سال۔ رہا اجارۃ الاعمال جیسے موچی،دھوبی،رنگریزکو اجرت پر لینااور وہ تمام جن میں ہر کام کرنے کی شرط ہو جیسے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھا لیجاناوغیرہ۔مصنف نے ان اقسام کی طرف اپنے قول سے اشارہ کیا کہ اجارہ کبھی عمل پر عقد ہوتا ہے جیسا کہ دھوبی ،درزی اس میں کام کا معلوم ہونا لازم ہے ،اور یہ اجیر مشترک میں ہوتا ہے،یعنی عمل پر عقد اجیر مشترک ہوتا ہے۔ اور کبھی عقد منفعت پر ہوتا ہے ،جیسا کسی مرد کو ایک دن یا ایک مہینے کام پر اجیر رکھنا جیساکہ اجیر واحد میں ہوتا ہے۔(البنایہ شرح الھدایۃ کتاب الاجارۃ باب مایصلح للاجارۃ جلد 10 ص 230 الشاملہ)
علامہ علاء الدين،ابوبكربن مسعودبن احمد كاسانی حنفی متوفى 587ھ فرماتے ہیں : والأجير قد يكون خاصا وهو الذي يعمل لواحد وهو المسمى بأجير الواحد، وقد يكون مشتركا وهو الذي يعمل لعامة الناس وهو المسمى بالأجير المشترك ۔۔۔أن المنفعة تختلف باختلاف محل المنفعة فيختلف استيفاؤها باستيفاء منافع المنازل بالسكنى، والأراضي بالزراعة، والثياب۔۔۔ والصناع بالعمل من الخياطة، والقصارة ونحوهما، وقد يقام فيه تسليم النفس مقام الاستيفاء كما في أجير الواحد حتى لو سلم نفسه في المدة ولم يعمل يستحق الأجر۔ ترجمہ:اجیر کبھی خاص ہوتا ہے ،یہ وہ ہےجو ایک کے لئے عمل کرتا ہےاسے اجیر واحد کہتے ہیں اور کبھی اجیر مشترک ہوتا ہے،یہ وہ اجیر ہے جو تمام لوگوں کے لئے کام کرتا ہے اسکو اجیر مشترک کہتے ہیں ۔منفعت کے محل کی وجہ سے منفعت مختلف ہوجاتی ہے پس منفعت کا حصول بھی مختلف ہوجاتا ہے لہذا گھر کی منفعت رہائش ہے حاصل ہوگی ،زمین کی زراعت سے،کپڑوں کی پہننے سے ،کاریگر مثلا درزی،دھوبی وغیرہ کی منفعت اس کے کام سے حاصل ہوگی اور کبھی تسلیم نفس ہی منفعت کے قائم مقام ہوتا ہے جیساکہ اجیر واحد کہ اگر اس نے خود کو طے شدہ وقت میں سپرد کیے رکھا اور کچھ کام نہ کیا تو بھی اجرت کا مستحق ہوگا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاجارۃ فصل فی رکن الاجارۃ جلد 4 ص 175۔ ملخصا و ملتقطا)
امام فخر الدين عثمان بن علی بن محجن، زيلعی حنفی المتوفى: 743 ھ فرماتے ہیں : قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ الْكَرْخِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ الْقَصَّارُ وَالصَّبَّاغُ وَالْخَيَّاطُ وَالصَّائِغُ وَكُلُّ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ لِعَمَلِهِ دُونَ تَسْلِيمِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ الْكَرْخِيُّ الْأَجِيرُ الْخَاصُّ مَنْ اسْتَحَقَّ الْأَجْرَ بِالْوَقْتِ دُونَ الْعَمَلِ وَذَلِكَ كَرَجُلٍ اسْتَأْجَرَ رَجُلًا لِيَخْدُمَهُ شَهْرًا بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ أَوْ كُلَّ شَهْرٍ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ۔۔۔۔لِيَعْمَلَ عَمَلًا مِنْ الْأَعْمَالِ سَمَّاهُ كُلُّ شَهْرٍ بِكَذَا كَذَا أَوْ كُلُّ يَوْمٍ بِكَذَا أَوْ كُلُّ سَنَةٍ بِكَذَا أَوْ كَذَا فَهَذَا هُوَ الْخَاصُّ. إلَى هُنَا لَفْظُ الْكَرْخِيِّ فِي مُخْتَصَرِهِ،وَقَالَ فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ هُوَ أَنْ يَتَقَبَّلَ الْعَمَلَ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، وَأَجِيرُ الْوَحَدِ أَنْ يَتَقَبَّلَ الْعَمَلَ مِنْ الْوَاحِدِ، وَفِي الْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ الْعَقْدُ إنَّمَا يَقَعُ عَلَى تَسْلِيمِ الْعَمَلِ لَا عَلَى تَسْلِيمِ النَّفْسِ وَالْعَقْدُ فِي أَجِيرِ الْوَحَدِ يَقَعُ عَلَى تَسْلِيمِ النَّفْسِ إلَيْهِ فِي الْمُدَّةِ لَا عَلَى تَسْلِيمِ الْعَمَلِ. إلَى هُنَا لَفْظُ شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ، وَقَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ عَلَاءُ الدِّينِ الْإِسْبِيجَابِيُّ فِي شَرْحِ الْكَافِي وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ كُلَّ مَنْ يَنْتَهِي عَمَلُهُ بِانْتِهَاءِ مُدَّةٍ مَعْلُومَةٍ فَهُوَ أَجِيرٌ وَحَدٌ، وَكُلُّ مَنْ لَا يَنْتَهِي عَمَلُهُ بِانْتِهَاءِ مُدَّةٍ مُقَدَّرَةٍ فَهُوَ أَجِيرٌ مُشْتَرَكٌ۔ترجمہ:شیخ ابوالحسن کرخی نے اپنی مختصر میں فرمایا اجیر مشترک دھوبی، رنگریز،درزی،کاریگر اور ہر وہ شخص ہے جو اپنے کام سے اجرت کا مستحق ہو نہ کہ تسلیم نفس سے۔ پھر امام کرخی فرماتے ہیں اجیر خاص وہ ہے جو وقت کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ تسلیم نفس سےاسکی مثال یہ ہے مثلا کسی شخص نے دوسرے کو ایک ماہ اجارہ پر رکھا تاکہ وہ (مثلا ) پانچ درہم کے عوض اسکی خدمت کرے گا یا پورا ماہ پانچ درہم کے عوض اسکی خدمت کرے گا یا کوئی بھی کام کرے گا اور ہرماہ یا ہر دن یا ہر سال کے پیسے مقرر کرلئے تو یہ اجیر خاص ہے۔یہاں امام کرخی کا وہ کلام ختم ہوا جو انہوں نے اپنی مختصر میں کیا ہے۔ پھر شرح الطحاوی میں فرمایا اجیر مشترک وہ ہے جو ایک وقت میں کئی لوگوں سے کام لے سکتا ہے ، اور اجیر واحد وہ اجیر ہے جو ایک وقت میں ایک شخص کا کام لےسکتا ہے ۔ اجیر مشترک میں عقد تسلیم عمل پر وارد ہوتا ہے جبکہ اجیر واحد میں عقد طے شدہ مدت تک تسلیم نفس پر وارد ہوتا ہےنہ کہ تسلیم عمل پر یہاں شرح الطحاوی کے الفاظ ختم ہوئے۔شیخ الاسلام علاء الدین اسبیجابی نے شرح الکافی میں فرمایا اس میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ شخص اجیر واحد ہے جسکا عمل مدت کے احتتام سے ختم ہوجائے۔اور جس کا عمل مدت کے اختتام سے ختم نہ ہو وہ اجیر مشترک ہے۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق مع حاشیہ چلپی،کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر جلد 5 ص 135 ملخصا و ملتقطا)
خلاصہ یہ ہوا کہاگر کوئی شخص اس طرح اجارہ کرے جیسا سوال میں مذکور ہوا تو یہ صورت فی نفسہ جائز ہے ۔ البتہ عرف و عادت کی بناء پر اس اجیر سے ایسا کام لیا جائے گا جس کام میں اسکی مہارت ہو یا جو کام اسکی فیلڈ سے تعلق رکھتا ہو۔اسکے علاوہ کوئی دسرا کام لینا جائز نہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 محرم الحرام 1441 ھ/16 ستمبر 2019 ء