baghair ijarah tay kiye jumuah parhane wala ujrat ka mustahiq nahin
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام صاحب جن کا اجارہ فقط 5 وقت نمازوں پر طے ہوا۔ جمعہ المبارک کی نماز اور خطابت کیلئے الگ سے ایک عالم دین اجارے پر مقرر ہیں۔ خطیب صاحب کی عدم موجودگی میں امام مسجد نے خطیب صاحب اور مسجد کمیٹی کے حکم پر 4 جمعہ پڑھائے۔ بعد ازاں جب امام مسجد نے 4 جمعوں کا معاوضہ طلب کیا تو اس میں نزاع ہو گیا جسکی صورتیں درج ذیل ہیں۔
1: مسجد کمیٹی کا موقف ہے کہ چونکہ ہم نے آپ سے اس کا اجارہ طے نہیں کیا تھا لہذا آپ اس معاوضے کے حقدار نہیں۔نیز جس وقت آپکو خطابت کیلئے کہا گیا آپ اُس وقت اجارے کی بات کرتے تو پھر ہم مشاورت کر کے آپکو بتاتے یا پھر معاوضہ دینے سے منع کر دیتے۔
2:امام مسجد کا کہنا ہے کہ چونکہ میں خطیب صاحب کے بَدَل کے طور پر تھا اور مسجد کمیٹی کے بلانے پر ہی خطابت کیلیے آیا لہذا جو حکم مبدل منہ کا ہوتا ہے وہی حکم بَدَل کا ہوتا ہے لہذا اس اعتبار سے مجھے معاوضہ دیا جائے۔نیز جب مسجد کمیٹی کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اسکا معاوضہ نہیں دینا تو وہ پہلے ہی بنا دیتے کہ امام صاحب یہ خطابت فی سبیل الله ہے تو نزاع کی صورت ہی نہ پیدا ہوتی۔
3: امام مسجد کا کہنا ہے کہ اگر چہ مسجد کمیٹی نے معاوضہ نہ دیا لیکن خطیب صاحب کی عدم موجودگی کی کٹوتی بھی ہوئی ہے اس رقم کا کیا ہوا؟
مذکورہ تمام مسئلے میں آپ عرض ہے کہ قرآن و حدیث، فقہ واصول فقہ کی روشنی میں اس نزاع کا فیصلہ فرمائیں۔
سائل: سید فرحان شاہ قادری رضوی: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ امام مسجد اجارہ کا مستحق نہیں کہ استحقاقِ اجرت کے لئے عمل سے پہلے عقدضروری، اور یہاں عقد مفقود ہے لہذا اجرت کا استحقاق ثابت نہیں۔ البتہ مسجد کمیٹی کو چاہیے کہ 4 جمعے پڑھانے کی جس قدر اجرت بنتی ہے بطورِ تبرع امام مسجد کو دے دے کہ امام مسجد کی جانب سے عمل بہرحال پایا گیا ہے۔
دُرَرُالحکام میں ہے: وإنما تجوز بإيراد العقد ولم يوجد ۔ترجمہ:اجارہ صرف عقد کے ذریعے جائز ہے اور وہ یہاں مفقود ہے۔( دُرَرُالحکام شرح غُررالحکام ، جلد 2 ص 226)
الجوہرۃ النیرہ شرح قدوری میں ہے: الإجارة عقد يتعلق بها الاستحقاق۔ترجمہ:اجارہ وہ عقد ہے جس کے ساتھ استحقاق(اجرت) متعلق ہوتا ہے۔( الجوہرۃ النیرہ شرح قدوری ، ج 1 ص 239)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02 ربیع الاول 1445ھ/ 19 ستمبر 2023 ء