ijarah khatam karne ke baad dobara rakhne ki surat mein darmiyani ayam ke ijarah ka hukm
سوال
ایک شخص کو ادارہ نے اجارے سے فارغ کیا ، پھر دارالافتاء کے فیصلے کے مطابق چند روز بعد دوبارہ بحال کیا گیا۔اس دوران وہ کام پر آنے سے قاصر رہا ۔ جس مدت میں وہ کام پر نہیں آسکا کیا اس دوران اجارہ کا مستحق ہوگا یا نہیں ؟
سائل:جہانگیر عطاری :کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں اجیر ان ایام کے اجارہ کا مستحق نہیں ہوگا،کیونکہ یہ اجیر خاص ہے جوکہ تسلیمِ نفس(طے شدہ وقت دینے ) کے بعد ہی اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے،جبکہ مذکورہ شخص نے وقت نہیں دیا،لہذا اجرت کا مستحق نہ ہوگا۔
اجیرِ خاص پر تسلیم نفس لازم ہوتا ہے ،عمل لازم نہیں ہوتا،اور طے شدہ وقت دینے سے ہی اجرت کا مستحق ہوجائے گا،وگرنہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا۔اس سلسلے میں بدائع میں ہے: لو سلم نفسه في المدة ولم يعمل يستحق الأجر۔ترجمہ:اگر اس نے خود کو طے شدہ وقت میں سپرد کیے رکھا اور کچھ کام نہ کیا تو بھی اجرت کا مستحق ہوگا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاجارۃ فصل فی رکن الاجارۃ جلد 4 ص 175۔ ملخصا و ملتقطا)
تبیین الحقائق میں ہے: الْأَجِيرُ الْخَاصُّ مَنْ اسْتَحَقَّ الْأَجْرَ بِالْوَقْتِ دُونَ الْعَمَلِ۔ ترجمہ: اجیر خاص وہ ہے جو وقت کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ عمل سے۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق مع حاشیہ چلپی،کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر جلد 5 ص 135 ملخصا و ملتقطا)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 رجب المرجب 1442 ھ/06 مارچ 2021 ء