aulad mein se kisi ek ko ariyatan zameen dena
سوال
میرے والد صاحب نے میری ایک بہن کو عارضی طور پر رہائش کے لئے 60 گز زمین دی ہے ، کیونکہ اسکا شوہر شرابی، نشئی اور جواری ہے، ایگریمنٹ میں بھی یہی لکھا کہ عارضی طور پر ہے، اب بقیہ تین بہنوں کا بھی تقاضا ہے کہ انہیں بھی اسی طرح زمین دی جائے جسکی بنیاد پر انکی کبھی امی سے اور کبھی ابو سے لڑائی ہوتی رہتی ہے، انکا یہ عمل کرنا کیسا ہے؟ شرعی فتوی صادر فرمائین تاکہ علاقے کے معززین کو بٹھا کر مسئلہ حل کیا جاسکے۔
سائل:شکیل احمد: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
والد صاحب کا ایک بہن کو گھر دینا احسان و تبرع ہے بالخصوص چونکہ اسکا شوہربقول سائل شرابی ہے تو اس اعتبار سے وہ بہن زیادہ ضرورت مند ہے لہذا باقی بہن بھائیوں کو چاہیے کہ اس بہن کے دست و بازو بنیں ۔ پھر چونکہ والد نے عارضی طور پر دیا ہے بطورِ ھبہ نہیں دیا اس لئے باقی بہنوں کا تقاضا درست نہیں کہ انہیں بھی دیا جائے، نیزاس بنیاد پر والدین سے لڑائی کرنااور انہیں ایذاء دینا ناجائز و حرام ، گناہ کا کام ہے، قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی خدمت کی بڑی تاکید آئی ہے، اور والدین کی نافرمانی، ان کے ساتھ بدکلامی کے ساتھ پیش آنے، اور والدین کو ستانے کی بہت وعیدیں آئی ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ً وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَبَّيَانِي صَغِيرًا۔ ترجمہ: اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو، اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، سو ان کو کبھی اُف بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا ، اور ان سے خوب اَدب سے بات کرنا، اور ان کے سامنے شفقت سے، انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیں جیساکہ انہوں نےمجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیا ہے۔(الاسراء: 23، 24)
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کے والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو اور اُن کو اُف تک بھی نہ کہو، والدین کی عزت و احترام دینی ودنیاوی بہتری کا سبب ہوتی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اورسعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین بالخصوص والد کے ساتھ حُسن سلوک رکھتی ہے اور اُن کا احترام کرتی ہے۔
حدیث پاک میں اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی قرار دیا گیا ہے۔چناچہ بخاری شریف میں ہے:عن عبد الرحمن بن أبي بکرة عن أبيه قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ألا أخبرکم بأکبر الکبائر قالوا بلی يا رسول الله قال الإشراک بالله وعقوق الوالدين۔ترجمہ:عبدالرحمن بن ابی بکرہ ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ نہ بتلا دوں، لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔( بخاری شریف ،حدیث نمبر 2654)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:05 ذوالعقدہ 1445ھ/ 14 مئی 2024 ء