اجارہ میں اجرت طے نہ کرنا

    ijarah mein ujrat tay na karna

    تاریخ: 16 جولائی، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1619

    سوال

    میں نے اپنے خالہ زاد کے ساتھ مل کر ایک جگہ 1.5 کروڑ میں خریدی جس میں ہمارا آدھا آدھا سرمایہ تھا ، ہم نے جگہ کو الگ الگ کیا تواسکے حصے میں 26 گز اور میرے حصے میں 21 گز آئی میں نے اپنے حصے کی جگہ پر کاروبار شروع کیاجو کہ ابھی تک چل رہا ہے جبکہ انکی جگہ پر گودام بناکر اسے اپنے استعمال میں لارہا ہوں ، اور اسکی ایک مخصوص رقم(50 ہزار ) انہیں ہر ماہ دیتا ہوں، ان سے میرا کچھ بھی طے نہیں ہوا تھا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا انکی حیثیت مالک اور میری کرائے دار کی ہے یا ہم شریک ہیں؟ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:رفیق گل : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اولاً جب فریقین نے ایک ساتھ زمین خریدی تو وہ زمین شرکتِ ملک کے طور پر دونوں کی ملکیت میں مشترک تھی ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصے میں اجنبی کی مثل تھا تاہم بعد ازاں جب دونوں نے اپنا حصہ الگ الگ کرلیا تو اب ہر ایک اپنے حصے کا مالک ٹھہرا۔

    ثانیاً پھر جب دونوں میں کوئی ایسا عقد نہیں ہوا جو کاروبار میں شرکت پر دلالت کرے تو ظاہر یہی ہے کہ عقدِ اجارہ کا ہی معاملہ ہے،نہ کہ شرکت کا۔ تاہم فریقین کو چاہیے تھا کہ باہمی طور پر طے کرلیتے تاکہ کسی قسم کا خفاء باقی نہ رہتا ،لیکن جب فریقین کے مابین کچھ طے نہ ہوا تو اس صورت میں پہلے ماہ کا اجارہ فاسد ہوا ، اور اسکے بعد اگلے ماہ سے فریقین کے مابین 50 ہزار اجرت معہود ہونے کی وجہ سے یہ اجارہ صحیح قرار پائے گا۔

    کیونکہ اجارہ ایک ایسا عقد ہے جس میں یکبارگی منفعت حاصل نہیں ہوتی بلکہ وقتاً فوقتاً منفعت کا حصول ہوتا ہے ، جس کے سبب اجارہ میں ماہ بماہ تجدید ہوتی رہتی ہےسو جب پہلی بار اجارہ ہوا تو اسکی اجرت معلوم نہ تھی تاہم جب ایک بار دے دی تو معلوم ہوگئی اور اگلے ماہ سے ہر ماہ کی وہی اجرت قرار پائی بالخصوص اس صورت میں کہ جب عاقدین بھی اس رقم پر رضامند رہے۔ لہذا اب یہ پچاس ہزار اس جگہ کی اجرت کے طور پر نہ ہے نہ کہ شرکت وغیرہ کے طور پر۔

    فتاوٰی ہندیہ میں ہے:إذا سكن الرجل في دار رجل ابتداء من غير عقد فإن كانت الدار معدة للاستغلال يجب الأجر، وإن لم تكن معدة للاستغلال لا يجب الأجر إلا إذا تقاضاه صاحب الدار بالأجر وسكن بعدما تقاضاه لأن سكناه حينئذ يكون رضا بالأجر ترجمہ: جب کوئی شخص کسی کے گھر میں ابتداءً ہی بغیر عقد کے ہی رہتا رہا تو اگر گھر معد للاستغلال(اجارہ پر دینے کے لئے ہی بنائی گئی ہو) ہوتو اجرت لازم ہوگی اور اگر معد للاستغلال نہ ہو تو اجرت لازم نہیں الایہ کہ جب گھر والا اجرت کا تقاضا کرے اور تقاضے کے بعد بھی رہتا رہا تو اجرت لازم ہے کیونکہ اب اسکا رہنا اجرت پر رضامندی کے ساتھ ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ، کتاب الاجارۃ، الباب الثامن جلد 4 ص 428)

    سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ عقدِ اجارہ کے فوقتاً فوقتاً نئے ہونے کے متعلق فرماتے ہیں: عقد اجارہ وقتاً فوقتاً نیاہوتا ہے کہ منفعت بتدریج پیداہوتی ہے ۔ اسی تدریج سے اجارہ تجدید پاتا ہے۔ بدائع میں ہے:الطاری فی باب الاجارۃ مقارن لان المعقود علیہ المنفعۃ وانھا تحدث شیئا فشیئا فکان کل جزء یحدث معقودا علیہ مبتدأ۔ترجمہ: اجارہ کے باب میں مقارنت طاری ہوتی ہے کیونکہ اس میں معقود علیہ منفعت ہوتی ہے اور وہ وقتاً فوقتاً بتدریج پیداہوتی رہتی ہے، چنانچہ منفعت کی ہرجزجوپیداہوتی ہے، وہ نئے سرے سے معقود علیہ بنتی ہے ۔ ہدایہ میں ہے:الاجارۃ تنعقد ساعۃ فساعۃ حسب حدوث المنفعۃ۔ترجمہ : اجارہ وقتاً فوقتاً منفعت کے پیداہونے کے مطابق منعقد ہوتاہے۔( فتاویٰ رضویہ ، جلد 25 ، صفحہ 289 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:5 جمادی الثانی1444 ھ/29 دسمبر 2022 ء