advance zyada lekar kirayah kam karne ka hukm
سوال
میں اپنا گھر کرائے پر دے رہا ہوں ، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ڈھائی لاکھ روپے ایڈوانس لونگا اورااس سے چھت پر گھر بنواؤں گا ۔ اور کرایہ 7 ہزار طے ہوا لیکن میں نے انکی رعایت کے لئے اس میں سے 3 ہزار کم کردئیے ۔ اب 4 ہزار کرایہ لے رہا ہوں کیا یہ طریقہ سود کے زمرے میں تو نہیں آرہا ؟
سائل:شمشاد:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ایڈوانس در حقیقت قرض کی ایک صورت ہے ، جو کرایہ دار، مالک کو کوئی بھی چیز کرایہ پر لینے سے پہلے دیتا ہے اور جب کرایہ دار اس مکان وغیرہ کو چھوڑتا ہے تو مالک اسے وہ رقم جو اس نے بطورِ ایڈوانس لی ہوتی ہے واپس کردیتا ہے یا واپس کرنے کی بجائے اس میں سے کرایہ کی مد رکھ لیتا ہے، اور یہ ایڈوانس کی رقم کرائے سے کم پڑے تو تقاضا کرتا اور زیادہ ہوجائے تو مابقی اسے واپس دیتا ہے۔
اس تفصیل کے بعد حکم شرع یہ ہے کہ اگر آپ اس لئے کرایہ کم کررہے ہیں کہ اس نے ایڈوانس ڈھائی لاکھ روپے دیا ہے ، تو یہ صورت ناجائز و حرام اور سود کے زمرے میں ہے ، کیونکہ کرائے دار کو کرایہ میں کمی کی سہولت اورفائدہ اسی ایڈوانس (یعنی قرض)کی وجہ سے مل رہا ہے ، اور قرض کی وجہ سے جو بھی نفع ملے وہ سود ہے ۔ مسند الحارث میں ہے :عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا»ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔ (مسند الحارث باب فی القرض یجر المنفعۃ جلد 1 ص500)
بدائع الصنائع میں ہے:(وَأَمَّا) الَّذِي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ: فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِ جَرُّ مَنْفَعَةٍ، فَإِنْ كَانَ لَمْ يَجُزْ، نَحْوُ مَا إذَا أَقْرَضَهُ وَشَرَطَ شَرْطًا لَهُ فِيهِ مَنْفَعَةٌ؛ لِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «نَهَى عَنْ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا» ؛ وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا؛ لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ، وَالتَّحَرُّزُ عَنْ حَقِيقَةِ الرِّبَا، وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ۔ترجمہ:اور جوشرائط نفس قرض کی طرف لوٹتی ہیں وہ یہ ہے کہ وہ قرض ایسا ہو جس سے نفع حاصل نہ ہو تا ہو ، وگرنہ جائز نہیں ہے،مثلا جب قرض دیا تو اس میں نفع کی شرط لگادی ۔ یہ حرام ہے کیونکہ نبی کریم ﷺسے مروی ہے کہ آپ نے اس قرض سے منع فرمایا جو نفع دیتا ہو،کیونکہ اس زیادتی کی شرط سود کی طرح ہے اور کیونکہ یہ ایسی زیادتی ہے ، جس کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہے،اور سود اور سود کے شبہہ سے بچنا واجب ہے ۔(بدائع الصنائع جلد 7 ص 395)
النتف فی الفتاوی میں ہے:أنواع الربا: وأما الربا فهو علی ثلاثة أوجه:أحدها في القروض، والثاني في الدیون، والثالث في الرهون. الربا في القروض: فأما في القروض فهو علی وجهین:أحدهما أن یقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها. والآخر أن یجر إلی نفسه منفعةً بذلک القرض، أو تجر إلیه وهو أن یبیعه المستقرض شيئا بأرخص مما یباع أو یؤجره أو یهبه، ولو لم یکن سبب ذلک (هذا ) القرض لما کان (ذلک )الفعل، فإن ذلک رباً۔ترجمہ:سود کی تین اقسام ہیں ۔1: قرض میں سود ۔ دین میں سود اور رہن میں سود ۔قرض میں سود کی دو قسموں پر ہے پہلی یہ کہ دس درہم قرض سے اور واپس گیارہ یا بارہ درہم لے۔ دوسری یہ کہ اس قرض کی وجہ سے کوئی نفع ملے، یا یہ قرض نفع کھینچے جیسے قرض خواہ کوئی چیز قرض کی وجہ سے ویلیو سے کم قیمت میں بیچے یا جیسے قرض کی وجہ سے کم کرایہ لے یا قرض کی وجہ سے کوئی تحفہ ملے ۔ کہ اگر یہ قرض نہ ہوتا تو یہ چیزیں بھی نہ ہوتیں۔لہذا یہ سود ہے۔(النتف فی الفتاوٰ ی ص 291،292)
واﷲ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 جمادی الاول 1441 ھ/13 جنوری 2020ء