سوال
ختنے کے بارے میں اسلامی احکامات کیا ہیں؟ آیا یہ فرض ہے ، واجب ہے یا سنت؟ اسکی عمر کی کوئی حد ہے یا نہیں؟نہ کرنے والے کے لئے کیا وعید ہے ؟ یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے یا نہیں؟
سائل:ابو الفضل :کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ختنہ سنت ہے شعائرِ اسلام میں سے ہے،اسلام میں اسکی بہت تاکید آئی ہےاسی لئے بلاوجہ ترک نہیں کرسکتے اگر کسی علاقے والے متفقہ طور پر اسے ترک کریں تو حاکمِ اسلام ان سے جہاد کرے، لیکن فرض یا واجب نہیں ہے۔ختنہ سات سال کی عمر تک کروالینا چاہیے اور زیادسے زیادہ بارہ سال کی عمر تک لازماً کروالے ، بارہ سال کی عمر سے زیادہ بلاعذر ،تاخیر شرعا ً ممنوع ہے۔احادیثِ طیبہ میں اسکا واضح ثبوت موجود ہے۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:خمس من الفطرۃ:الختان،والاستحداد، وتقلیم الأظفار،ونتف الإبط،وقص الشارب۔ ترجمہ: پانچ چیزیں فطرت سے ہیں: ختنہ کرنا، زیرِ ناف کے بال صاف کرنا، ناخن ترشوانا، بغل کے بال اکھیڑنا، اور مونچھیں کتروانا۔(المصنف لابن أبي شیبة،کتاب الطهارة، رقم الحدیث:2059)
البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: الختان سنة کما جاء في الخبر وهو من شعائر الإسلام و خصائصه، حتیٰ لو اجتمع أهل بلدٍ علیٰ ترکه، یحاربهم الإمام، فلایُترَک إلا للضرورة، و عذرُ الشیخ الذي لایطیق ذلك ظاهر، فیُترك۔ترجمہ: ختنہ کرنا سنّت ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، اور یہ اسلام کی شعائِر اور امتیازی علامات میں سے ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی بستی کے لوگ اتفاقِ رائے سے اسے چھوڑ دیں تو امام ان سے جنگ کرے گا۔ لہٰذا اسے صرف ضرورت کی وجہ سے چھوڑا جا سکتا ہے۔ اور اس بوڑھے شخص کا عذر واضح ہے جو اسے برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، پس اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ (البحر الرائق، کتاب الخنثیٰ، مسائل شتّٰی:جلد 9 ص 359، دار الکتب العلمیة)
بہارِ شریعت میں ہے: ختنہ سنت ہے اور یہ شعارِ اسلام میں ہے کہ مسلم وغیرمسلم میں اس سے امتیاز ہوتا ہے اسی لیے عرف عام میں اس کو مسلمانی بھی کہتے ہیں ...، ختنہ کی مدت سات سال سے بارہ سال کی عمر تک ہے اور بعض علما نے یہ فرمایا کہ ولادت سے ساتویں دن کے بعد ختنہ کرنا جائز ہے۔( بہارِ شریعت ،جلد3، حصہ 16، صفحہ 589، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حکیم الامت، مفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:ختنہ کا سنّت طریقہ یہ ہے ساتویں برس بچہ کا ختنہ کرادیا جائے، ختنہ کی عمر سات سال سے بارہ برس تک ہے، یعنی بارہ برس سے زِیادہ دیر لگا نا منع ہے، اور اگر سات سال سے پہلے ختنہ کردیا گیا جب بھی حرج نہیں۔ (اسلامی زندگی، صفحہ26 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نومسلم کے ختنے کا مسئلہ:
اگر کوئی غیر مسلم ، مسلمان ہوجائے تو اسے بھی ختنے کا حکم دیا جائے گا اگرچہ وہ بالغ ہی کیوں نہ ہو بلکہ اگرچہ اسکی عمر تیس برس تک پہنچ جائے کیونکہ ختنہ شعائرِ اسلام میں سے ہے اور اسے کے ذریعے مسلم و غیر مسلم میں امتیاز بھی ہوتا ہے، پھر اگر یہ خود کرسکتا ہو تو خود کرلے وگرنہ کوئی عورت جو ختنہ کرسکتی ہے اس سے نکاح کرکے بعد ازختنہ کروانے چاہے تو اسے چھوڑ دے یا کوئی صورت نہ بن سکے تو حجام مرد سے ہی ختنہ کروالے کہ ختنہ کی ضرورت کی وجہ سے ستر دیکھنا دکھانا ممنوع نہیں ۔البتہ اگر کوئی بوڑھا شخص اسلام قبول کرے اور ختنہ کی تکلیف برداشت نہ کر سکتا ہو، تو ختنہ نہ کرانے کی اجازت ہوگی۔
شامی میں ہے: وأما النظر إلی العورة لأجل الختان، فلیس فیہ ترک الواجب لفعل السنة، لأن النظر مأذون فیہ للضرورة۔ترجمہ: جہاں تک ختنہ کرنے کی خاطر ستر کی طرف دیکھنے کا تعلق ہے، تو اس میں سنّت کے کرنے کے لیے کسی واجب کو ترک کرنا نہیں ہے، کیونکہ ضرورت کی وجہ سے اس (ستر کی طرف دیکھنے) کی اجازت دی گئی ہے۔(رد المحتار مع الدارالمختار، کتاب الحج، مطلب في مکۃ، جلد2 ص 494)
مبسوط سرخسی میں ہے: إذا جاء عذر فلا بأس بالنظر إلیٰ عورة لأجل الضرورة، فمن ذٰلک أن الخاتن ینظر ذٰلک الموضع ، لأن الختان سنة، وھو من جملة الفطرة في حق الرجال لا یمکن ترکہ۔ ترجمہ: جب کوئی عذر پیش آ جائے تو ضرورت کی وجہ سے ستر کی طرف دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی میں سے یہ بھی ہے کہ ختنہ کرنے والا اس جگہ (یعنی ستر کے حصے) کو دیکھ سکتا ہے، ، کیونکہ ختنہ سنّت ہے اور مردوں کے حق میں فطرت کا حصہ ہے، اسے چھوڑنا ممکن نہیں۔(المبسوط للسرخسي، کتاب الاستحسان، النظر إلیٰ الأجنبیات:163/10، الغفاریة، کوئٹہ)
سیدی اعلیٰ حضرت بالغ نومسلم کے ختنے کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر ختنہ کی طاقت رکھتا ہو تو ضرور کیا جائے۔ حدیث میں ہے کہ ایک صاحب خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے حضور پر نورصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:الق عنک شعر الکفر ثم اختتن۔ رواہ الامام احمد و ابو داؤد عن عثیم بن کلیب الحضر می الجھنی عن ابیہ عن جدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ زمانہ کفر کے بال اتار پھر اپنا ختنہ کر۔ اس کو امام احمد اور امام ابوداؤد نے عثیم بن کلیب حضرمی جہنی سے، انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے۔ ہاں ا گر خود کر سکتا ہو توآپ اپنے ہاتھ سے کرلے یا کوئی عورت جو اس کام کو کرسکتی ہو ممکن ہو تو اس سے نکاح کرادیا جا ئے وہ ختنہ کردے، اس کے بعد چاہے تو اسے چھوڑ دے یاکوئی کنیز شرعی واقف ہو تو وہ خریدی جائے۔ اور اگر یہ تینوں صورتیں نہ ہوسکیں تو حجام ختنہ کردے کہ ایسی ضرورت کے لئے ستر دیکھنا دکھانا منع نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 593، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: جمادی الثانی 1447ھ/ 02 دسمبر 2025 ء