فاسق کی تعظیم اور دست بوسی کے شرعی ضوابط

    Fasiq Ki Tazeem Aur Dast Bosi Ke Shari Zawabit

    تاریخ: 25 اپریل، 2026
    مشاہدات: 78
    حوالہ: 1231

    سوال

    فاسق کی تعظیم کرنا منع ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا۔اب اس تعظیم سے مراد کونسی تعظیم ہے؟ کیا داڑھی منڈھے والدین کے ہاتھ چومنا، دنیاوی استاذ یا سادات کرام کے ہاتھ چومنا بھی اس ممانعت میں شامل ہونگے؟دوسری عرض یہ ہے بعض اوقات کئی ایسے دنیاوی اساتذہ یا کوئی محسن و مشفق کے ہاتھ بطور ادب کے چومے جاتے ہیں کیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟ کوئی صورت جواز ارشاد فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

    سائل: شاہ زیب رضوی عطاری ، کنری ڈسٹرکٹ عمرکوٹ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    فاسق کی جس تعظیم و تعریف سے حدیثِ مبارکہ میں منع فرمایا گیا ہے، اس سے مراد ایسی تعظیم ہے جو اس کے فسق کی وجہ سے ہو یا جس سے اس کے گناہ کی تائید ہوتی ہو۔ جہاں تک والدین، ساداتِ کرام، اساتذہ اور محسنین کا تعلق ہے، تو ان کے ہاتھ چومنا یا ان کا ادب کرنا ان کے گناہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے شرعی مرتبے، نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حقِ تربیت اور احسان کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا داڑھی منڈے والدین، گناہ گار سادات یا دنیاوی اساتذہ کی دست بوسی کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ان کے حقوق کی ادائیگی کا حصہ ہے۔البتہ مقتدا بہ افراد (جن کی لوگ پیروی کرتے ہیں جیسے علمائے کرام و پیران عظام) کو علی الاعلان ایسوں کا ہاتھ چومنے سے احتراز لازم ہے، تاکہ عوام ان گناہوں کو ہلکا نہ سمجھے،جیسا کہ خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ کا حکم ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    فاسق کی تعریف و تعظیم کی ممانعت کے متعلق علامہ عبدالرؤف مناوی (المتوفی: 1031ھ) لکھتے ہیں: "وذلك لأن فيه رضا بما فيه سخط الله وغضبه بل يكاد يكون كفرا لأنه ربما يفضي إلى استحلال ما حرم الله".ترجمہ: (فاسق کی تعریف پر) عرشِ الہی کے ہلنے کی وعید اس لیے ہے کہ اس میں اس چیز پر رضا مندی پائی جاتی ہے جس میں اللہ کی ناراضی ہے، بلکہ یہ تعریف کفر کے قریب بھی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ (بعض اوقات) اللہ کے حرام کردہ کام کو حلال سمجھنے کی طرف لے جاتی ہے۔ (فیض القدیر ، 1/441، تحت الحدیث: 1707، المکتبة التجاریة الکبریٰ)

    فاسق کے کسی اچھے وصف کی تعریف کے متعلق شیخ عبدالحق محدث دہلوی (المتوفی: 1052ھ) فرماتے ہیں: "ولو مدح بوجه خاص فيه كالسخاوة والتواضع فجائز".ترجمہ: اگر کسی خاص وصف کی وجہ سے فاسق کی تعریف کی جائے جو اس میں موجود ہو، مثلاً اس کی سخاوت یا عاجزی، تو یہ جائز ہے۔ (لمعات التنقیح فی شرح مشکاة المصابیح، 8/167، تحت الحدیث: 4859، دار النوادر، دمشق)

    ساداتِ کرام کی تعظیم و تکریم کے متعلق علامہ سید احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) فرماتے ہیں: "ويجب إكرام الأشراف ولو تحقق فسقهم؛ لأن فرع الشجرة منها ولو مال".ترجمہ: ساداتِ کرام کی تعظیم واجب ہے اگرچہ ان کا فسق ظاہر ہو، کیونکہ درخت کی شاخ درخت ہی کا حصہ ہوتی ہے اگرچہ وہ ٹیڑھی ہو جائے۔ (حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص: 12، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    والدین کے ساتھ حسنِ معاشرت کے متعلق قرآنِ کریم کا حکم ہے: وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا".ترجمہ: اور دنیا میں اچھی طرح ان (والدین) کا ساتھ دے۔ (لقمان: 15)

    مشرک والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے متعلق امام بخاری (المتوفی: 256ھ) روایت نقل فرماتے ہیں: "أتتني أمي راغبة، في عهد النبي صلى الله عليه وسلم، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم: آصلها؟ قال: نعم".ترجمہ: (حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ) میرے پاس میری والدہ (مدینہ منورہ) آئیں اور وہ (اسلام سے) بے رغبت (مشرکہ) تھیں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک کا واقعہ ہے، پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ ولسم نے فرمایا: ہاں۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب صلۃ الوالد المشرک، 4/96، رقم الحدیث: 5978، دار طوق النجاۃ)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اطاعت والدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتا‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 25/204، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    والدین اور اکابر کی دست بوسی کے متعلق علامہ ابو الحسن علی بن سلطان نور الدین الملا ّعلی قاری (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں: "وكذا تقبيل يد الأبوين والشيخ والرجل (الصالح)" . ترجمہ: اور اسی طرح والدین، شیخ اور نیک آدمی کے ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتح باب العنایة بشرح النقایة، 3/21، دار الأرقم بن أبي الأرقم بیروت)

    عالم اور عادل حاکم کی دست بوسی کے متعلق علامہ عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں: "ولا بأس بتقبيل يد العالم والسلطان العادل لأن الصحابة كانوا يقبلون أطراف رسول الله ﷺ".ترجمہ: عالم اور عادل بادشاہ کے ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعضائے مبارکہ چوما کرتے تھے۔ (الاختیار لتعلیل المختار ، 4/157، مطبعة الحلبي القاهرة)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اساتذہ وشیوخ علم شرعیہ بلاشبہ آبائے معنوی وآبائے روح ہیں جن کی حرمت وعظمت آبائے جسم سے زائد ہے کہ وہ پدر آب وگل ہے اور یہ پدر جان ودل، علامہ مناوی تیسیر جامع صغیر میں فرماتے ہیں: من علم الناس ذاک خیراب ذا ابوالروح لاابوالنطف یعنی استاد کا مرتبہ باپ سے زیادہ ہے کہ وہ روح کا باپ ہے، نہ نطفہ کا۔ (التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث انما انا لکم بمنزلۃ الوالد) علامہ حسن شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر وغرر میں فرماتے ہیں: الوالد ھو والد التربیۃ فرتبتہ فائقۃ رتبۃ والد التبنیۃ۔ یعنی اعلٰی درجہ کا باپ استاد مربی ہے۔ اس کا مرتبہ پدر نسب کے مرتبہ سے زائد ہے۔ (غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررالحکام) عین العلم شریف میں ہے: یبرالوالدین فالعقوق من الکبائر، ویقدم حق المعلم علی حقہما فہو سبب حیاۃ الروح۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرے کہ انہیں ناراض کرناگناہ کبیرہ ہے اوراستاد کے حق کو ماں باپ کے حق پر مقدم رکھے کہ وہ زندگی روح کا سبب ہے۔ (عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ ) امام شعبہ فرماتے ہیں: ماکتبت عن احدحدیثا الاوکنت لہ عبدا ماحیی۔ میں نے جس کسی سے ایک حدیث بھی لکھی میں عمر بھر اس کاغلام ہوں۔ (المقاصد الحسنۃ تحت حدیث 1164) فتاوٰی بزازیہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے: حق العالم علی الجاہل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء وھو ان لایفتتح بالکلام قبلہ ولا یجلس مکانہ وان غاب ولا یرد علی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ۔ عالم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر برابر یکساں حق ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرے، وہ موجود نہ ہو جب بھی اس کی جگہ پر نہ بیٹھے اس کی کوئی بات نہ الٹے، نہ اس سے آگے چلے ( فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی البزازیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن)۔ وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالی اعلم‘‘۔(فتاوی رضویہ، 19/451، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    امام اہلسنت علیہ الرحمہ ہی فرماتے ہیں:’’بزرگان دین مثل پیر مہتدی وعالم سنی کے ہاتھ چومنا جائز بلکہ مستحب بلکہ سنت ہے ہاں کسی دنیادار کا ہاتھ دنیا کےلئے چومنا منع ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 22/338، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    خودکشی کرنے والے کے جنازے اور اس سے اعراضِ علماء کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اگر علما وفضلا، باقتدائے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فی المدیون و فی قاتل نفسہ (یعنی جیسے مقروض اور خودکشی کرنے والےکی حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے زجراً نمازِجنازہ نہیں پڑھی ایسے ہی) بغرض زجر و تنبیہ نماز جنازہ بے نماز سے خود جُدا رہیں، کوئی حرج نہیں، ہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلاً کوئی نہ پڑھے یوں سب آثم و گنہگار رہیں گے۔ مسلمان اگرچہ فاسق ہو اُس کے جنازہ کی نماز فرض ہےالامن استثنی و لیس ھذا منھم (مگر جو مستثنی ہیں اور یہ ان میں سے نہیں ہے)“۔ (فتاوی رضویہ، 5/108، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:3 ذو القعدہ 1447ھ/21 اپریل 2026ء