خریداری مل کر کی اس کی تقسیم ،بل کی ذمہ داری
    تاریخ: 6 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 351

    سوال

    1:۔والد کا انتقال 2019 میں ہوا پھر والد ہکا ہوا ،دونوں کے انتقال کے وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے ۔ ان کے ورثامیں ہم دس بہن بھائی ہیں (6 بہنیں ،اور 4 بھائی)۔

    2:۔والدین کے وفات کےبعد بل کی ادائیگی نہیں کی جا رہی تو اس عرصہ کا بل کون ادا کرے گا ؟سب ورثا یا صرف وہی دو بہن بھائی جو اس گھر میں رہتے ہیں ۔

    3:۔اس کے علاوہ والدکا ایک اور گھر بھی ہے ،جو کہ انھوں نے اپنی حیاتی میں بیوہ بہنکو جو ساتھ رہ رہی تھیں ،سات لاکھ میں بیچ دیا ،لیکن گھر بہن کے نام نہیں کروایا بلکہ والد کےنام پر ہی ہے۔اور آج اس کی قیمت35 لاکھ ہے آیا یہ گھر بہن کی جائیداد ہے یا سب کااس میں حصہبنتا ہے ۔؟

    4:۔اگر کوئی شخص اپنا حصہ لینے سے انکار کر دے کہ مجھے نہیں چاہیے میں صاحب استطاعت ہوں ۔تو کیا یہ ہو سکتا ہے ؟

    سائل:عامر حنیف


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سوالات کے جوابات بالترتیب دیے جا رہے ہیں :

    1:۔والد ،والدہ کا جتنی میراث (مکان ،زیورات،روپے پیسے) ہے، اس سے والدوالدہ کے قرض کی ادائیگی کرنے کے بعدکل مالِ وراثت کے 14 حصص کیے جائیں گے جن میں سے ہر بھائی کو دودو حصے ملیں گےجبکہ ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا ۔

    2:۔والدین کی وفات کے بعد بل کی ادئیگی صرف انہی دو بہن بھائیوں پر لازم ہو گی جوگھر میں رہتےرہے۔قاعدہ فقہ ہے :الغرم بالغنم یعنی ان من ینال نفع شیء یتحمل ضررہ۔ترجمہ:نقصان فائدہ کے ساتھ ہے۔یعنی جو شخص کسی چیز کا نفع حاصل کرتا ہےتو اس کا نقصانبھی وہی برداشت کرے گا ۔(شرح المجلۃ لسلیم رستم البنانی،صفحہ 48 دار الکتب العلمیہ لبنان)

    3:۔وہ گھر جو والد نے اپنی حیاتی میں بیٹی کو بیچ دیا ،اس کی قیمتِ فروخت بھی وصول کر لی،لہذا بیع تام و نافذ ہو گئی تھی جس کے بعد وہ مکان کی مالک بن گئیخواہ میں اس میں رہیں نہ رہیں ۔فائلان کے نام ہو یا نہ ہو۔یہ یہاں پر کوئی معنی نہیں رکھتا ۔لہذااس مکان کو میراث میں شامل نہیں کیا جائے گا ۔

    4:۔اگر کوئی وارثاپنا حصہ لینے سے انکار کر دے کہ میں نہیں لیتا پھر بھی میراث اس کو مل کر رہے گی خواہ وہ فقیر ہو یا غنی ۔اس لیے کہ میراث جبری حقہے جو کہ اللہ تعالی کی طرف سے دیا گیا ہے کسی وارثکو قبول نہ کرنے کا اختیار نہیں ۔البتہ اپناحصہ لینے کے بعد جس کو چاہے دے دے،اسے اختیار ہے،لیکن لینا تو بہر حال ہو گا ۔امام اہلسنت مجدددین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ارث جبری ہے کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالک ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگے، لے یانہ لے، دینے کاعرف ہویانہ ہو، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کوگزر جائے، کتنے ہی اشتراک دراشتراک کی نوبت آئے اصلاً کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گی، نہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہے، یہاں تک کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃً کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی مِلک زائل نہ ہوگی۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:26،ص:113،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11جمادی الاول1443 ھ/17دسمبر2021ء