خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا ایسا بورڈ دکان کے باہر لگانا کیسا؟
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 79

    سوال

    بہت سے دوکاندار اپنی دوکان کے باہر یہ بورڈ لگاتے ہیں کہ "خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا"ایسا بورڈ لگانے کی بابت شریعت مطہرہ کیا فرماتی ہے؟

    سائل:علامہ سلمان نوری:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت ِ مستفسرہ میں دوکان کے باہر ایسا بورڈ لگاناشرعاًجائز ہے ۔لیکن ایسا شخص اقالہ(اقالہ یہ ہے کہ بائع اور مشتری باہم رضا مندی سے سودا ختم کردیں ) کی فضیلت سےمحروم رہے گا۔البتہ درج ذیل وجوہات کی بناء پر بیچی ہوئی چیز دوکاندار کو واپس لینا ہوگی:

    1: بیع باطل یا بیع فاسد کی صورت میں عاقدین پر سودا ختم کرنا واجب ہوگا۔یعنی دوکاندار اپنی چیز اور خریداراپنا ثمن واپس لےلے۔

    2:خریدار نے چیز خیار ِشرط کے ساتھ خریدی ہو۔اور وہ خیار شرط کی بناء پر چیز واپس کرے۔

    3:دوکاندار نے چیز ہر عیب سے بری ہو کر فروخت نہ کی ہو۔اورخریدارخیار عیب کی بناء پر چیزواپس کرے۔

    4:خریدار نے چیز دیکھ کرنہ خریدی ہو ۔اور خریدار خیاررؤیت کی بناء پر چیز واپس کرے۔

    5:خرید ارکو دھوکے سے چیز غبن فاحش کے ساتھ فروخت کی گئی ہو۔اور خریدارمطلع ہونے پراس چیز کو واپس کرے۔

    مسئلے کی تفصیل سے قبل چند اصطلاحات کا جاننا ضروری ہے جو کہ درج ذیل ہیں:

    بیع باطل: جس صورت میں بیع کا کوئی رکن نہ پایا جائے یاوہ چیز خریدو فروخت کے قابل ہی نہ ہو ۔پہلی کی مثال یہ ہے کہ مجنون یاناسمجھ بچہ نے ایجاب یا قبول کیا کہ ان کا قول شرعاًمعتبر ہی نہیں، لہٰذا ایجاب یا قبول پایا ہی نہ گیا۔ دوسری کی مثال یہ ہے کہ مبیع مُردار یا خون یا شراب یا آزاد (شخص) ہوکہ یہ چیزیں بیع کے قابل نہیں ہیں۔(ماخوذ از بہارشریعت،حصہ11،ص:696، مکتبہ المدینہ کراچی)

    بیع فاسد: اگر رکنِ بیع یا محلِ بیع میں خرابی نہ ہو بلکہ اس کے علاوہ کوئی خرابی ہو تو وہ بیع فاسد ہے مثلاً ثمن خمرہو یا مبیع کی تسلیم پر قدرت نہ ہویا بیع میں کوئی ایسی شرط ہوجس کا عقد تقاضہ نہ کرے۔(ماخوذ از بہارشریعت،حصہ11،ص:696، مکتبہ المدینہ کراچی)

    خیارشرط: بائع ایک چیز اس شرط پر بیچے یا مشتری اس شرط پر خریدے کہ مجھے تین دن تک اختیار ہےکہ بیع قائم رکھوں یا نہیں خواہ دونوں اپنے لئے تین دن اختیار ہونے کی قید لگالیں، یہ اختیار تین دن سے زیادہ کانہیں لگاسکتے اور کم میں ایک دین یا ایک گھنٹہ جو چاہیں مقرر کریں، اس مدت کے اندر ایک یا دونوں جس کا خیار شرط کیا گیا ہے اسے اختیار ہوگا کہ بیع نامنظور کردے وہ فسخ ہوجائےگی اور اگر مدت مقرر کردہ گزر گئی تو بیع لازم ہوجائے گی۔(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ،جلد:17،ص:91،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    خیار عیب: بائع کا مبیع کو عیب بیان کئے بغیر بیچنا یامشتری کا ثمن میں عیب بیان کیے بغیر چیز خریدنااور عیب پر مطلع ہونے کے بعداس چیز کے واپس کردینے کے اختیار کو خیار عیب کہتے ہیں۔(ماخوذازبہارشریعت، حصہ11، ص673،مکتبہ المدینہ کراچی)

    خیاررؤیت: بغیردیکھے کوئی چیز خریدنااوردیکھنے کے بعداس چیز کے پسندنہ آنے پرچاہے تو خریدار بیع کو ختم کر دے اس اختیار کو خیاررؤیت کہتے ہیں۔ (ماخوذاز بہارشریعت،حصہ11، ص661، مکتبہ المدینہ کراچی)

    غبن فاحش: ایسی قیمت سے خریدوفروخت کرناجوقیمت لگانے والوں کے اندازہ سے باہر ہومثلاً کوئی چیزدس روپے میں خریدی لیکن اس کی قیمت چھ ،سات روپے لگائی جاتی ہے،کوئی شخص اس کی قیمت دس روپے نہیں لگاتا تو یہ غبن فاحش ہے۔(ماخوذمن ردالمحتار علی الدر مختار،ج6،ص22،دارالفکر بیروت)

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ بیع (خرید وفروخت)جب ایجاب و قبول سے تام ہوجاتی ہےتو سوائے خیار عیب و رؤیت اور شرط کے کوئی خیار باقی نہیں رہتا۔ یعنی جانبین کی رضامندی کے بغیر عقد کو ختم کرنا جائز نہیں ہوتاکیونکہ یک طرفہ بیع ختم کرنا دوسرے کے حق کو باطل کرنا ہے اور یہ جائز نہیں ۔اور اگر بائع (فروخت کنندہ)بیچتے وقت مبیع میں موجود تمام عیب سے براءت کرلےاور اسی طرح خریدارمبیع دیکھ کر خریدےاور اور خریدتے وقت خیار شرط نہ رکھے تو اس صورت میں خیار عیب و رؤیت اور شرط بھی باقی نہیں رہتا۔ لیکن اگربائع کو مبیع واپس لینے میں نقصان نہ ہو یا نقصان تو ہو لیکن معمولی ہو یا پھر اس کا تدارک کسی اور طریقے سے ممکن ہوتو شریعت مطہرہ کی طرف سے ترغیب یہی ہے کہ مبیع واپس لے لینا چاہئے۔اور ایسے کرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ یہ سب اس صورت میں ہے جب چیز غبن فاحش کے ساتھ فروخت نہ کی ہو۔اگر اس نے ایسا کیاہو توخریدار کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ مبیع لوٹا کر اپنا ثمن واپس لے لے۔

    پس صورتِ مستفسرہ میں ایسا بورڈ ("خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا")لگانے میں کوئی حرج نہیں۔اور بیچنے والا چیز واپس لینے کا بھی پابند نہیں جبکہ مذکورہ بالا وجوہات میں سے کوئی وجہ نہ پائی جائے۔

    فتاوٰی ہندیہ میں ہے: وَإِذَا حَصَلَ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ لَزِمَ الْبَيْعُ وَلَا خِيَارَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا إلَّا مِنْ عَيْبٍ أَوْ عَدَمِ رُؤْيَةٍ ترجمہ:اور جب ایجاب وقبول ہوجائے بیع لازم ہو جاتی ہے اور عاقدین میں سے کسی ایک کےلیے خیار عیب و رؤیت کے علاوہ کوئی خیار نہیں ہوتا۔(الفتاوٰی الھندیہ،جلد:3،ص:8،دارالفکر بیروت)

    اللباب فی شرح الکتاب میں ہے: (وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع) وإن لم يقبض (ولا خيار لواحد منهما؛ لأن في الفسخ إبطال حق الآخر؛ فلا يجوز (إلا من عيب) أو شرط (أو عدم رؤية)ملخصاًترجمہ:اورجب ایجاب و قبول ہوجائے تو بیع لازم ہوجاتی ہے اگرچہ وہ قبضہ نہ کریں اور عاقدین میں سے کسی کے لیے کوئی خیار نہیں (بیع فسخ کرنے کا )اس لیے کہ بیع فسخ کرنے میں دوسرے شخص کے حق کو باطل کرنا ہے۔مگر یہ کہ خیار عیب کی وجہ سے یاخیار شرط کی وجہ سے یا خیار رؤیت کی وجہ سے( فسخ کیا جاسکتاہے)۔(اللباب فی شرح الکتاب،جلد:2،ص:4،5،المکتبہ العلمیہ بیروت)

    مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:إذَا غَرَّ أَحَدُ الْمُتَبَايِعَيْنِ الْآخَرَ وَتَحَقَّقَ أَنَّ فِي الْبَيْعِ غَبَنًا فَاحِشًا فَلِلْمَغْبُونِ أَنْ يَفْسَخَ الْبَيْعَ حِينَئِذٍ. ترجمہ:جب بائع ومشتری میں سے کوئی دوسرےکو دھوکا دے اور یہ ثابت ہوجائے کہ بیع میں غبن فاحش ہے تواس وقتمغبون(جس کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے) کو بیع فسخ کرنا جائز ہے۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ،جلد:1،ص:71،نور محمد کتب خانہ آرام باغ کراتشی)

    صَدْرُالشَّریعَہ بَدْرُالطَّریقَہ مفتی محمد امجد علی اَعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی اِرشاد فرماتے ہیں: کوئی چیز غَبنِ فاحِش کے ساتھ خریدی ہے اُس کی دو صورتیں ہیں دھوکا دیکر نقصان پُہنچایا ہے یا نہیں اگر غَبنِ فاحِش کے ساتھ دھوکا بھی ہے تو واپس کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔ (بہارشریعت، ج2، ص691،مکتبۃالمدینہ )

    سنن ابی داؤد میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ»ترجمہ:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا:جو کوئی مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کرلے تو اللہ تعالٰی (قیامت کے دن) اس کے گناہ معاف کردے گا۔(سنن ابو داؤد،رقم:3460)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 01ربیع النور1443 ھ/07اکتوبر 2021 ء