خرید و فروخت کے بعد مال واپس کرنا

    khareed o farokht ke baad maal wapas karna

    تاریخ: 3 اگست، 2026
    مشاہدات: 40
    حوالہ: 1699

    سوال

    میں نے ایک کسٹمر کو کچھ سامان دیا جس میں 5 قمیضیں، ایک قمیض کی قیمت 700 اور 2قمیض الگ،ان میں سے ایک کی قیمت 450 روپے ،ایک سوٹ 1400 کا 1 عبایا 600کا، دو ٹراؤزر ،ایک کی قیمت 300 اور ایک ٹراؤزراور جسکی قیمت 200ہے۔اس کسٹمر نے مجھے کچھ رقم ایڈوانس دی اور مال میرے پاس چھوڑ دیا ، کچھ عرصے بعد پھر کچھ پے منٹ دی لیکن مال نہیں لیا اور ان قمیضوں میں سے دو نکال دی کی یہ دو کم کرلو اب مجھے ان سے 5950 روپے بقایا لینے ہیں ۔اب وہ کہہ رہا ہے کہ اس میں سے 700 والی تین قمیضیں اور 450 والی دو قمیضیں واپس لے لو۔تو میں نے کہا کہ آپ پوری پے منٹ دے دیں اسکے بعد یہ پانچ قمیضیں رکھوادیں،جو جو بکتی رہیں گی میں اسکے پیسے آپکو دیتا رہوں گا۔ تو میں پوری قیمت لینے کے بعد ایسا کرسکتا ہوں یا ان پانچ قمیضوں کی پے منٹ کے علاوہ جو قیمت بنتی ہے وہ لے لوں ؟سارا سامان واپس کرسکتا ہوں تو اسکی کیا صورت ہوگی، اور کیا میں ان پانچ قمیضوں کے بیچنے پر کچھ کمیشن ان سے طے کرسکتا ہوں یا نہیں؟ برائے کرم رہنمائی فرمادیں ۔

    سائل: عمران : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے پہلے چند باتیں جان لیں ۔

    بیع یعنی خرید و فروخت ایجاب و قبول کانام ہے ، جب عاقدین (خریدار اور فروخت کنندہ) کے درمیان ایجاب و قبول ہوجائے خواہ وہ قولا ہو یا فعلا تو بیع لازم ہوجاتی ہے جس کے بعد بائع( فروخت کنندہ)اور مشتری( خریدار)میں سے ہر ایک پر ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے بائع پر لازم ہے کہ وہ مبیع( جو چیز خریدی گئی ) مشتری کے حوالے کردے اور مشتری پر لازم کہ وہ ثمن(یعنی جو ریٹ دونوں کے درمیان طے ہواہے)ادا کرے۔ اب اگر دونوں اپنی اپنی ذمہ داری پوری کردیں تو بیع تام ومکمل ہوجاتی ہے ، اگر صرف ایجاب و قبول ہوا لیکن بائع نے مبیع حوالے نہیں کیا اور مشتری نے ثمن ادا نہیں کیا اور ان میں سے کوئی بھی عقد ختم کرنا چاہتا ہے تو دوسرے کی رضامندی کے بغیر نہیں کرسکتا ہے۔اور اگربائع نے مبیع حوالے کردیا اور مشتری نے ثمن ادا کردیا اس کے بعد بیع ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بھی دونوں کی رضامندی ضروری ہے اور اسی کا نام اقالہ ہے(جو در حقیقت عاقدین کے حق میں فسخ بیع کا نام ہے) جس کے بارے میں حدیث بارے میں آیا کہ جو اقالہ (یعنی دوسرے شخص کی حاجت کو دیکھ کر بیع ختم کرتا ہے ) تو اللہ تعالٰی بروز قیامت اسکے گناہوں کو مٹا دے گا۔لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ جس ریٹ پر بیع کی تھی اسی ریٹ پر اقالہ کرے کمی یا زیادتی جائز نہیں ہے۔اگر کمی یا زیادتی کی شرط لگائی مثلا ہزار کاخریدا تھا جب واپس کرنے گیا تو دکاندار نے کہا آٹھ سو کا لوں گا تو یہ جائز نہیں۔ اسی طرح ہزار کاخریدا تھا لیکن اب بارہ سو کا بیچ رہا ہے تو یہ بھی جائز نہیں۔اور بائع کے لیے یہ جائز ہے کہ جب تک مشتری مکمل ثمن ادا نہ کردے اس وقت تک سامان اسکے حوالے نہ کرے ، اگر چہ بعض ثمن ادا کرچکا ہو تب بھی بائع کو یہ اختیار حاصل ہے۔

    اس کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں آپکو یہ حق حاصل ہے کہ جب تک کسٹمر مکمل قیمت ادا نہ کردے اس وقت تک سامان اس کے حوالے نہ کریں ، مکمل قیمت کی ادائیگی کے بعد سارا سامان انکے حوالے کردیں اسکے بعد وہ اس سامان کو بیچنے کے لیے اگر آپکو دیں تو آپ اپنا کمیشن رکھ کر بیچ سکتے ہیں ۔لیکن اگر آپ چاہیں توسارا سامان ان سے واپس لے لیں اور انکو وہ قیمت واپس دے دیں جس قیمت پر لیا تھا۔اس صورت میں حدیث مبارک کے مطابق اقالہ کرکے ثواب کے مستحق ہوجائیں گے۔

    شامی میں ہے:لِلْبَائِعِ حَبْسُ الْمَبِيعِ إلَى قَبْضِ الثَّمَنِ، وَلَوْ بَقِيَ مِنْهُ دِرْهَمٌ وَلَوْ الْمَبِيعُ شَيْئَيْنِ بِصَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ، وَسَمَّى لِكُلٍّ ثَمَنًا فَلَهُ حَبْسُهُمَا إلَى اسْتِيفَاءِ الْكُلِّ، وَبِتَأْجِيلِ الثَّمَنِ بَعْدَ الْبَيْعِ وَبِتَسْلِيمِ الْبَائِعِ الْمَبِيعَ قَبْلَ قَبْضِ الثَّمَنِ فَلَيْسَ لَهُ بَعْدَهُ رَدُّهُ إلَيْهِ وَمِنْ الْقَبْضِ مَا لَوْ أَوْدَعَهُ الْمُشْتَرِي عِنْدَ أَجْنَبِيٍّ أَوْ أَعَارَهُ وَأَمَرَ الْبَائِعَ بِالتَّسْلِيمِ إلَيْهِ ، لَا لَو دَفَعَ إلَيْهِ بَعْضَ الثَّمَنِ، وَقَالَ: تَرَكْتُهُ عِنْدَكَ رَهْنًا عَلَى الْبَاقِي وَلَوْ اشْتَرَى ثَوْبًا أَوْ حِنْطَةً فَقَالَ: لِلْبَائِعِ: بِعْهُ قَالَ: الْإِمَامُ الْفَضْلِيُّ: إنْ كَانَ قَبْلَ الْقَبْضِ وَالرُّؤْيَةِ كَانَ فَسْخًا، وَإِنْ لَمْ يَقُلْ الْبَائِعُ نَعَمْ؛ لِأَنَّ الْمُشْتَرِيَ يَنْفَرِدُ بِالْفَسْخِ فِي خِيَارِ الرُّؤْيَةِ، وَإِنْ قَالَ: بِعْهُ لِي أَيْ كُنْ وَكِيلًا فِي الْفَسْخِ فَمَا لَمْ يَقْبَلْ الْبَائِعُ لَا يَكُونُ فَسْخًا، وَكَذَا لَوْ بَعْدَ الْقَبْضِ وَالرُّؤْيَةِ لَكِنْ يَكُونُ وَكِيلًا بِالْبَيْعِ سَوَاءٌ قَالَ: بِعْهُ أَوْ بِعْهُ لِي هَذَا كُلُّهُ مُلَخَّصُ مَا فِي الْبَحْرِ.(ملخصا)ترجمہ: بائع کے لیے ادائیگی ثمن تک مبیع کو اپنے پاس روکے رکھنا جائز ہے ، اگرچہ ایک درہم باقی ہو،اور اگر مبیع ایک ہی سودے میں دو مختلف چیزیں ہوں ،جن میں سے ہر ایک کا ثمن مقرر تھا تو کل ثمن کی وصولی تک دونوں کو اپنے پاس روکنا جائز ہے ،اور بیع کے بعد ثمن کو موجل کرنے کی وجہ اور ثمن پر قبضہ سے پہلے بائع کا مبیع حوالے کرنے کی صورت میں بائع کو مبیع واپس لینے کا حق نہیں ہوگا۔ قبضہ کی صورتوں میں سے یہ ہے مشتری مبیع کسی کے پاس ودیعت رکھوادے یا عاریتا رکھوادے اور بائع سے کہے کہ اسکے حوالے کردو نہ کہ بائع کو کچھ ثمن دیا اور کہا کہ مبیع تمہارے پاس چھوڑتا ہوں باقی قیمت کے رہن کے طور پر (تو یہ مبیع پر قبضہ نہیں کہلائے گا) اور اگر کسی نے کپڑا یا گندم خریدی پھر بائع سے کہا کہ اسکو بیچ دو تو امام فضلی نے فرمایا (دیکھیں گے )اگر یہ قبضہ اور مبیع دیکھنے سے پہلے ہے تو یہ فسخ بیع ہے اگر چہ بائع نے ہا ں نہیں کہا ہو کیونکہ خیار رویت کے سلسلے میں مشتری بیع فسخ کرنے میں منفرد ہے اور اگر کہا میری لیے بیچ دو یعنی میرا وکیل فسخ بن جاؤ تو جب تک بائع قبول نہ کرے فسخ نہ ہوگا۔ یوں ہی اگر قبضہ اور رویت کے بعد ہو (جب تک بائع قبول نہ کرے تب تک وکیل نہ ہو گا) لیکن یہ بائع وکیل بالبیع ہوگا خواہ اس نے بِعْهُ کہا ہو یابِعْهُ لِي کہا ہو۔یہ اسکا خلاصہ ہے جو بحر میں موجود ہے۔(حاشیہ شامی علی الدرالمختار ،کتاب البیوع ، مَطْلَبٌ فِي حَبْسِ الْمَبِيعِ لِقَبْضِ الثَّمَنِ وَفِي هَلَاكِهِ وَمَا يَكُونُ قَبْضًا ،جلد 4 ص 561)

    ہدایہ میں ہے :إذا شرط الأكثر فالإقالة على الثمن الأول لتعذر الفسخ على الزيادة، إذ رفع ما لم يكن ثابتا محال فيبطل الشرطت ترجمہ:جب زائد کی شرط لگائی تو اقالہ ثمن اول پر ہی ہوگا کیونکہ زیادہ پر فسخ متعذر ہے کیونکہ جو چیز ثابت نہ ہو اسکو ختم کرنا محال ہے لہذا شرط باطل ہوجائے گی ، (اور سابقہ قیمت لازم ہوگی)۔(ہدایہ ،کتاب البیوع ،باب الاقالہ جلد 3 ص55)

    صحیح البخاری میں ہے :وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لاَ بَأْسَ أَنْ يَقُولَ: بِعْ هَذَا الثَّوْبَ، فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا، فَهُوَ لَكَ " وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " إِذَا قَالَ: بِعْهُ بِكَذَا، فَمَا كَانَ مِنْ رِبْحٍ فَهُوَ لَكَ، أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، فَلاَ بَأْسَ بِهِ "ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس اس میں حرج نہیں کہ کوئی کسی کو کہے یہ کپڑا بیچ دو اتنی قیمت پر اس سے جو زائد ہو وہ تمہارا ہے ، علامہ ابن سیرین نے فرمایا ایک شخص نے دوسرے سے کیا کہ یہ چیز اتنے میں بیچ دو اس سے

    زیادہ جو نفع ملے وہ تمہارا ہے یا ہم دونوں نصف نصف کے حق دار ہوں گے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔( صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب اجرۃ السمسرۃ ج 3ص92)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 جمادی الثانی1440 ھ/26 فروری 2019 ء