سوال
ہمارے والد اللہ دین کا انتقال ہوگیاہے، گھر والد صاحب کا تھا، والدہ گھر فروخت کرکے اسکو بچوں میں تقسیم کرنا چاہ رہی ہیں۔ ورثاء میں ایک بیوی، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ مکان کی مالیت 2کروڑ 40 لاکھ لگی ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔
سائل: عبداللہ :کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت (2کروڑ 40 لاکھ)کو 80حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو 10 حصے ، ہر بیٹے کو الگ الگ14حصے ملیں گے۔جبکہ ہر بیٹی کو الگ الگ 7،7 حصہ ملے گا۔
رقم کی صورت میں ہر ایک کا حصہ :
بیوی : 30,00000
ہر بیٹا : 42,00000
ہر بیٹی : 21,00000
المسئلۃ بھذہ الصورۃ
مسئلہ :880=10x
مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1/8 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
1 7
10 14 14 14 14 7 7
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:07جمادی الاول 1442 ھ/23 دسمبر 2020 ء