ایک بیوہ،ایک بیٹا ایک بیٹی
    تاریخ: 13 مارچ، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 1021

    سوال

    مظہر ایوب صدیقی کا انتقال ہوا ، ان کے والدین ، دادا اور دادی کا پہلے ہی انتقال ہو چکاتھا انہوں نے اپنے ورثاء میں ایک بیوہ،ایک بیٹا اور ایک بیٹی ،چھوڑے ، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہر ایک کا کیا حصہ ہوگا؟

    سائل: سمیرا ناز : کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    دریافت کی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو کل مال کے 24 حصے ہوں گے ، جن کی تقسیم درج ذیل ہے ۔ مرحوم کی زوجہ کو 3 حصے ، بیٹے کو 14 جبکہ بیٹی کو 7حصے دیئے جائیں گے۔اور مال کو تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ کل مال (جائیداد منقولہ و غیر منقولہ)کو 24حصوں پر تقسیم کریں جو جواب آئے اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر اس جواب کو ہر ایک کےحصے سے ضرب دیدیں یوں ہر ایک کے حصے کی رقم معلوم ہو جائے گی ۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ : 24=3x8

    مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی بیٹا بیٹی

    1/8 عصبـــــــــــــــــــــــہ

    1 7

    3 14 7

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین : ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24شوال المکر1441 ھ/16جون 2020 ء