مدرسہ کی چھت پر ٹاور لگوانا
    تاریخ: 28 فروری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 925

    سوال

    ایک دارالعلوم ہے جسکی مسجد الگ ہے اس کے ساتھ متصل ایک مدرسہ وقف ہے ، جسکی چھت پر موبائل کمپنی ٹاور لگانا چاہتی ہے جسکی آمدنی اسی ادارے پر خرچ ہوگی، آیا یہ ٹاور لگوانا جائز ہے یا نہیں؟

    سائل:بمعرفت مفتی احسن اویسی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    فی نفسہ وقف کی عمارت میں ایسا تصرف کرنا جائز نہیں جو مقصودِ وقف اور شرطِ واقف کے منافی ہو مثلاً کسی نے مدرسہ کے لئے جگہ وقف کی تو اسے مدرسہ ہی کیا جائے گا اسے اجارہ یا کرائے پر دینا منع ہے، لہذا جب مدرسہ کی چھت پر ٹاور لگانے کی اجازت دی جائے گی تو بلاشبہ وہ جگہ اسی کمپنی کے زیرِ تصرف رہے گی ، جس کے سبب عمارتِ وقف کا مقصود مفقود ہوجائے گاسوایسی صورتحال میں مدرسہ کی عمارت پر ٹاور لگانے کی اجازت نہیں ہے۔بالخصوص اس صورت میں کہ جب وقف کرتے وقت واقف نے تبدیلی کی شرط نہیں لگائی ،اور وقف کردیا توتمامیتِ وقف کے بعد اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کرنا شرعاًجائز نہیں ہے، واجب ہے کہ وقف کو اسی حالت پر باقی رکھا جائے ۔

    تنویر الابصار مع الدر میں ہے: (فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)۔ترجمہ:پس جب وقف تام ہوجائے اور لازم ہوجائے،نہ اسکا کوئی مالک بن سکتا ہے اور نہ ہی مالک بنا سکتا ہے اور نہ عاریتاً دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی رہن پر دے سکتے ہیں۔ (تنویر الابصار مع الدر جلد 4 ص 351، 352)

    اسی میں کچھ آگے ہے: ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا بزازية۔ترجمہ:اور یہ کہ اس (وقف) کا کوئی حصہ کرایہ کےلئے مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر جلد 4 ص358)

    فتاوی بحرالعلوم میں ہے : مسجد تمام ہو جانے کے بعد اس کا کوئی حصہ کسی دوسرےکام میں استعمال کرنا حرام حرام سخت حرام ہے اور یہاں تو پوری ایک منزل ہی دوکان بنا ڈالی ہے ۔مسجد مکمل ہو گئی پھر اس پر مکان بنانا حرام ہے ۔ (فتاوی بحرالعلوم ،جلد 5 صفحہ 137 )

    فتاوی نوریہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے:مسجد میں دکانیں بنانا کرایہ پر دینا مسجد کی بے حرمتی واہانت ہے جو شرعا حرام اور سخت حرام ہے افسوس بعض اہل اسلام کے حوصلے اتنے پست ہو گئے کہ خانہ خدا کے اجزاء کرایہ پر دینے کو تیار ہو گئے یہ ہر گز ہر گز جائز نہیں۔(فتاوی نوریہ ،جلد 1 کتاب الوقف ،ص 140 ،دارالعلوم حنفیہ فریدیہ)

    عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ :ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)

    یونہی شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ :ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 ذوالعقدہ 1445ھ/ 04 جون 2024 ء