کاروبار میں لگائی رقم کا مطالبہ

    Karobar Mein Lagai Raqam Ka Mutalba

    تاریخ: 14 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1759

    سوال

    میں نے ایک شخص (منظور احمد) کے پاس رقم انوسٹ کی جوکہ کنٹومنٹ بورڈ کے کنٹریکٹر تھے میری رقم 6 لاکھ 70 ہزار روپے تھی، کئی سالوں بعد میں نے ان سے حساب کیا تو اسٹیمیٹ کے حساب سے منافع سمیت 8 لاکھ 20 ہزار 7سو 13 روپے بنے ۔ رقم کی ادائیگی کے لئے انہوں نے کہا مجھے کنٹومنٹ بورڈ سے اس انوسمنٹ کا جو چیک ملے گا ہر چیک پر آپکو 50 ہزار روپے دونگا۔ اگر کنٹومنٹ بورڈ کی طرف سے چیک نہ ملے تو میں اپنا فلیٹ بیچ کر آپکی رقم ادا کرونگا۔ اس بات کے بعد کبھی انہوں نے رقم نہیں دی حتٰی کہ منظور احمد کا انتقال ہوگیا ، انتقال کے بعد انکےداماد اور بیٹی نے فلیٹ بیچ دیا اور انہوں نے فلیٹ سے وہ رقم مجھے نہیں دی بلکہ میری رقم میں سے صرف 3 لاکھ 75 ہزار دو قسطوں میں دیئے پہلے 1 لاکھ 25 ہزار دیئے اسکے بعد ڈھائی لاکھ دیئے، باقی 4 لاکھ 45 ہزار 7 سو تیرہ رہ گئے۔ اور ڈھائی لاکھ دیتے وقت پیپر پر لکھوایا کہ پہلے قبول کریں کہ میں مزید کوئی کلیم نہیں کرونگا، ورنہ آپکو کوئی رقم نہیں دی جائے گی، یہ مکمل بلیک میلنگ تھی میرے ذہن میں یہ تھا کہ ابھی جو مل رہے ہیں دستخط کرکے وہ تو لوں جو رہ جائیں گے وہ بعد میں کسی طریقے سے لے لونگا۔اس سلسلے میں فتوٰی کی درخواست کرتا ہوں کہ بتایا جائے کہ مجھے میری مابقی رقم ملے گی یا نہیں۔

    سائل: اختر عالم فاروقی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر کنٹومنٹ بورڈ سے اصل رقم اور منافع دونوں مل گئے تو یہ تمام رقم منظور احمد پر دین ہےجسکی ادائیگی ان پر لازم تھی اسکے باوجود منظور احمد نے وعدہ کے مطابق رقم نہ دی حتٰی کہ انکا انتقال ہوگیا تواب یہ رقم انکے کل ترکہ سے ادا کی جائے گی۔

    اس صورت میں اگر انکے داماد اور بیٹی نے 3 لاکھ 75 ہزار دے دیئے اور اس رقم کی ادائیگی کے وقت اختر عالم سے یہ کہہ کر'' پہلے قبول کریں کہ میں مزید کوئی کلیم نہیں کرونگا، ورنہ آپکو کوئی رقم نہیں دی جائے گی'' پیپر پر دستخط لے لئے تو بھی ترکہ سے بقیہ رقم دینا لازم ہے وگرنہ سخت گنا ہ گار ہونگے اور اس دَین کے بارے میں بروزِ حشر منظور احمد سے باز پُرس کی جائے گی۔

    کیونکہ اس طرح دستخط کرنا رضامندی کی قبیل سے نہیں ہوتا بلکہ دھمکی کے سبب ہوتا جسکی وجہ سے فریق مخالف کو موجودہ رقم سے بھی محروم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے عموماً اس طرح کے معاملات میں وہ فریق موجودہ رقم حاصل کرنے کا یہی حیلہ اختیار کرتا ہے کہ بادلِ نخواستہ دستخط کردیتا ہے تاکہ کم از کم یہ رقم مل جائے،سو معلوم ہوا کہ اس دستخط کے ذریعے بقیہ دَین کی معافی بغیر رضامندی کے ہوتی ہے جسکا کوئی اعتبار نہیں لہذا اس فریق کے ذمے بقیہ رقم لازم و باقی رہتی ہے۔البتہ اس معاملے میں اتنا ضرور ہے کہ فریقِ مخالف اس بات پر حلف دے کہ میں نے دستخط اسی نیت سے کئے تھے کہ یہ مل جائے اور بقیہ بعد میں حاصل کروں گا تو اسکی بات اس حلف کے ساتھ معتبر مانی جائے گی۔

    مشکوۃ المصابیح میں ہے:"قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم : ألا تظلموا ألا لا يحلّ مال امرئ إلاّ بطيب نفس منه''۔ ترجمه:الله كے رسول صلي الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا:خبردار ہوجاؤ! ظلم نہ کرو،خبردار ہوجاؤ! کسی آدمی کا مال اسی رضامندی کے بغیر حلال نہیں ہے۔(مشکوۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، حدیث نمبر: 2956)

    کتب فقہ میں عورت کے مہر کے بارے میں یہی منقول کہ بلارضامعاف نہ ہوگا حالانکہ وہ بھی دین ہی ہے چناچہ ہندیہ میں ہے: ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح۔ ترجمہ:مہر کی معافی رضامندی کے ساتھ درست ہے حتٰی کہ اگر عورت کو مجبور کیا گیا تو یہ معافی درست نہیں۔(فتاوٰی ہندیہ،ج 1 ص 313 )

    مبسوط سرخسی میں ہے: لو أكره على الحط لم يصح حطه لعدم تمام الرضا۔ ترجمہ:اگر پیسے معاف کرنے پر اکراہ کیا تو رضامندی نہ ہونے کے سبب معاف کرنا درست نہیں۔(المبسوط،جلد 30 ص 134 )

    الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: لا يصح أيضاً مع الإكراه إبراء الدائن مديونه ۔ترجمہ:اکراہ کے ساتھ دائن کا مدیون کو بری کرنا درست نہیں۔(المادۃ:198 جلد 6 ص 176)

    لیکن اگر کنٹومنٹ بورڈ سے رقم نہ ملی توجب تک نہ ملے اس وقت تک اسکی ادائیگی لازم نہیں ، لیکن منظور احمد کا یہ کہنا '' اگر کنٹومنٹ بورڈ کی طرف سے چیک نہ ملے تو میں اپنا فلیٹ بیچ کر آپکی رقم ادا کرونگا''ایک وعدہ کی صورت ہے جس کا ایفاء ان پر لازم تھااب جبکہ انکا انتقال ہوگیا تو انکے ورثاء پر اس وعدہ کا ایفاء لازم نہیں ہے،البتہ اتناضرور ہے کہ ورثاء کو چاہیے کہ متعلقہ ادارے سے اس رقم کے حصول کی کوشش کریں بعد از حصول وہ رقم اختر عالم فاروقی کو دی جائے۔

    البتہ اختر عالم فاروقی کے لئے بہتر ہے کہ اپنی رقم معاف کردیں تاکہ منظور احمد عذاب سے محفوظ رہے اور اسکے عوض انہیں ثواب ملے کہ مومن سے نیکی ہے۔ جیساکہ ہندیہ میں بھی ہے: دين لرجل على آخر لا يقدر على استيفائه كان إبراؤه خيرا من أن يدعي عليه؛ لأن في الإبراء تخليصا من العذاب في الآخرة وكان فيه ثواب كذا في الفتاوى الكبرى۔ ترجمہ:ایک شخص کا دوسرے پر دَین ہو جسکی ادائیگی کی وہ استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسکو معاف کرنا دعوٰی کرنے سے بہتر ہے کیونکہ معاف کرنے میں آخرت میں عذاب سے نجات ہےاور اس میں ثواب بھی ہے جیساکہ فتاوٰی کبرٰی میں ہے۔(فتاوی ھندیۃ،کتاب الغصب،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،5،ص157)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 رجب المرجب 1445ھ/ 01 فروری 2024 ء