لے طلاق لے طلاق لے طلاق یہ جملہ بیٹے کو کہنا
    تاریخ: 17 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 799

    سوال

    میں جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر آیا توگھر والوں سے پوچھا کہ جمعہ کس کس نے پڑھا ہے تو میرے چھوٹے بیٹے نے جواب دیا میں نے پڑھا ہے اور بڑے بھائی نے نہیں پڑھا ۔اس بات پر مجھے غصہ آگیا اور بڑے بیٹے کو گالیاں وغیرہ دینے لگ پڑا پھر میں نے اُسکی ماں کو بلایا اور اُسکے سامنے بھی بیٹے کو گالیاں نکالیں۔ بیٹا دوسرے کمرے میں تھا اور وہ اٹھ کر آیا اور اس نے اپنی ماں سے کہا کہ لے اس سے طلاق اور ہم یہاں سے چلتے ہیں۔ اس بات پر اسکی ماں خاموشی رہی ۔ اور میں اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا کہ تجھے طلاق چاہیے۔ تو میں نے بیٹے کو کہا :لے طلاق لےطلاق لے طلاق۔

    اب آپ ہمیں بتائیں کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں جب کہ میں نے نہ بیوی کا نام لیا ہے اور نہ بیٹے کو کہا کہ جا میں تیری ماں کو طلاق دیتا ہو بس میں نے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا ہے ۔

    شوہر کا بیان:ہم نے شوہر سے بیان لیا تو اس نے کہا کہ نہ لفظوں میں بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کی نہ میرے ذہن میں کوئی نسبت تھی ۔۔بس غصے میں بیٹے کو کہا کہ تو بار بار طلاق مانگ رہا ہے تو لے طلاق۔۔۔

    بیوی کا بیان :بیوی کا بھی یہی بیان ہے کہ باپ نے بیٹے کو جب یہ جملے کہے تھے تو اس وقت میں باہر تھی لیکن آواز آ رہی تھی ۔

    سائلہ:محمد سفیر/ پنجاب

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں ان جملوں سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ :طلاق واقع ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ لفظِ طلاق کی نسبت واضافت (لفظا ً،عرفا ًیا پھر نیۃً ) بیوی کی طرف ہو ۔اگر اضافت ان تینوں صورتوں(لفظاً،عرفاً اور نیۃً) سے خالی ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ جبکہ سوال میں شوہر نے بیٹے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ : لے طلاق لے طلاق لے طلاق تو یہاں پسر لے کی نسبت بیوی کی طرف ہونے کی بجائے بیٹے کی طرف ہے جو کہ طلاق کا محل نہیں ، لہذا طلاق واقع نہیں ہو گی ۔

    ہاں اگر شوہر اپنی نیت میں اس جملہ سے طلاق کی نسبت بیوی کی طرف کرتا " یعنی اس صورت میں معنی یہ بنتا ہے:بیٹے کو کہتا لے بیٹا (تمہاری ماں کو ) طلاق تو پھر بلا شبہ اس سے طلاق واقع ہو جاتی ۔

    فتاوی رضویہ شریف میں ہے: بیوی کی طرف طلاق کی اضافت کا قصد نہ کیا ہو تو قطعاً طلاق نہ ہوئی، کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو، تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا، اس لئے ایقاع نہ ہوگا، تو وقوع بھی نہ ہوگا، اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19ذی قعدہ 1444 ھ/08جون 2023 ھ